فیس بک کی یاد داشت کا شکریہ کہ وہ بعض اوقات ہمیں کھوئے ہوئے لمحات بھی واپس لا دیتی ہے ۔ ہم جو تاریخیں ، جملے اور باتیں بھول چکے وہ سب اس کے پاس موجود بھی ہیں اور محفوظ بھی ۔ ان میں خوشگوار یادیں بھی ہیں اور اذیت ناک لمحے بھی ۔ ایسی ہی ایک یاد آج سامنے آ گئی جو اطہر ناسک کے حوالے سے ہے اور اس میں اس کے آٹھ سال پہلے کے درد ناک لمحوں کی جھلک بھی نظر آتی ہے ۔ میں یہ سب کچھ یہاں اس لئے محفوظ کر رہا ہوں کہ یہ معلومات ان طلبہ اور طالبات کے لئے اہم ہوں گی جو اطہر ناسک کی زندگی کے حوالے سےتحقیق کر رہے ہیں۔ یہ اطہر ناسک کے بارے میں میری ایک مختصر تحریر ہے جو میں نے آٹھ برس قبل آج ہی کے روزفیس بک پر تحریر کی تھی اس میں اطہر کا وہ ایس ایم ایس بھی موجود ہے جو اس نے مجھے روجھان سے ارسال کیا تھا ۔
۔۔۔۔
اطہر ناسک مجھے کوئی دو سال پہلے ملا تھا اور اس حالت میں ملا تھا کہ وہ زندگی سے جنگ لڑ رہا تھا ۔ وہ مجھ سے وعدہ کر کے گیا کہ میں لاہور جا رہا ہوں تم ڈاکٹر سے وقت لو واپس آکر علاج کراؤ ں گا۔ شاکر نے ڈاکٹروں سے وقت لیا خالد مسعود نے عطاالحق قاسمی صاحب سے بات کی کہ وہ پنجاب حکومت کی مدد سے اس کے علاج کا انتظام کریں ۔اور اس کے بعد وہ پھر گم ہو گیا۔ اس نے فون بند کر لیا اور رابطے منقطع کر لئے ۔
آج اس سے رابطہ بحال ہوا اور اس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ کل ملتان آئے گا تو رابطہ کرے گا اور اب فون بھی بند نہ کرے گا۔ وہ راجن پور کی تحصیل روجھان میں مقیم ہے ۔ ہم اس کی زندگی بچانے کی بھر پور کوشش کریں گے ۔
میں نے دوستوں کو ایس ایم ایس بھی بھیجا ہے کہ اس سے رابطہ کریں اسے تنہائی سے نکالیں اور کوشش کریں کہ اس کی انا کو ٹھیس بھی نہ پہنچے۔
ناسک ہم تمہیں زندہ دیکھنا چاہتے ہیں ۔۔ہم تمہیں مرنے نہیں دیں گے ۔۔
اور میں نے یہی جملہ لکھا تھا کہ اطہر ناسک کا ایس ایم ایس موصول ہوا اس نے مجھے تازہ غزل بھی بھیجی ہے ابھی وہ میسج آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں ۔۔
۔۔۔۔۔۔
” کالج کے اندر ہی پڑا رہتا ہوں ،تنہا، اکیلا۔۔سب چھوڑ گئے یا میں نے سب کو چھوڑ دیا۔ کیوں؟؟؟۔۔بات ہے رسوائی کی۔اگرچہ رب نواز مونس پرنسپل ہیں تاہم میری کلاسیں بھی وہی پڑھاتے ہیں ۔غیر حاضری میں بھی حاضری لگتی رہتی ہے۔بحال ہونے پر میں نے خود اس کالج کا انتخاب کیاتھا کیونکہ اس سے آگے پنجاب ختم ہو جاتا ہے۔۔ایڈریس اطہر ناسک ۔۔فرش نشیں ۔۔گورنمنٹ کالج روجھان ،ضلع راجن پور
23 جنوری 2012 ء پونے دو بجے شب
جمعرات, اکتوبر 22, 2026
تازہ خبریں:
- پولیس حراست میں ملزم کی ہلاکت قومی انحطاط کی علامت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- محترم عرفان صدیقی کی یاد میں : وجاہت مسعود کا کالم
- جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ میں سب ہم پیالہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- خضدار سے نامعلوم مسلح افراد نے مزدوروں سمیت 18 افراد کو اغوا کرلیا
- لسانیات علم ہے عقیدہ نہیں : سر جارج ابراہم گریئرسن کی خدمات ۔۔ ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- وجاہت مسعود کا کالم : آزادی صحافت ۔۔جب بھٹو لاہور کے اخبارات پر حملہ آور ہوئے
- بلوچستان میں 20 پولیس اہلکار اغوا، قلعہ عبداللہ میں پولیس چوکی مسمار
- ایٹمی پلانٹ اور ٹماٹر کا منشور : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت

