سید محمد قسور گردیزی صاحب سے میری پہلی ملاقات روزنامہ تاجر ملتان میں منعقدہ تاسیسی اجلاس میں ہوئی۔ اس زمانے میں ملتان کمشنری لائل پور، جھنگ، ڈیرہ غازیخان اور مظفر گڑھ کے اضلاع پر مشتمل تھی۔ کمشنر کے دفتر میں کام کاج کے سلسلے میں میرا ملتان آناجانا رہتا تھا۔ اس زمانے میں ایم زیڈ خان ملتان کے کمشنر تھے جو بڑے ملنسار اور خوش اخلاق افسر تھے۔ ان کے پاس میری نمبردار ی کی اپیل کی سماعت ہونے والی تھی ۔ میں کمشنر ہاؤس ان سے ملاقات کےلیے گیا۔ وہ نہایت خندہ پیشانی سے پیش آئے۔ انہوں نے چائے منگوائی اور پوچھنے لگے کیسے آنا ہوا۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کے پاس ڈپٹی کمشنر لائل پور کے نمبر داری سے متعلق فیصلے کے خلا ف اپیل دائر کر دی ہے اور اس کی سماعت کےلئے کل کی تاریخ مقرر ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ بہت اچھا ہوا آپ آگئے۔ آ پ کی آمد سے قبل ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ پنجا ب کرنل فتح محمد خان ابھی مل کر گئے ہیں۔ مجھے آ پ کی اپیل کا بخوبی علم ہے۔وہ چونکہ اعلیٰ سرکاری افسر ہیں لہذا مجھے آپ کی اپیل خارج کرنا پڑے گی۔وہ اور ا ن کا خاندان نمبردار نہیں رہا۔ مجھے یہ اپیل خارج کرنا پڑے گی تاہم میں اپنے فیصلے میں آپ کی حق تلفی اور آ پ کے استحقاق کا خصوصی ذکر کروں گا۔ ساتھ ہی مجھے تاکید کی کہ میرے فیصلے کے خلاف بورڈ آف ریونیو میں اپیل ضرور کریں اور مجھے یقین ہے وہاں کرنل فتح محمد کا اثر ورسوخ کام نہیں آئے گا اورمیرٹ کے مطابق فیصلہ آ پ کے حق میں ہوگا۔
ملتان پہنچنے سے پہلے روزنامہ تاجر کے ایڈیٹر و پبلشر غلام محمد ملک سے میری بات چیت ہو چکی تھی۔ وہ لائل پور کے رہنے والے تھے اور ان سے میرے دوستانہ مراسم تھے۔انہوں نے مجھے بتا رکھا تھا کہ میں نے اخبار کے اجراکے سلسلے میں ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کر رکھا ہے جس میں ممتاز سیاسی رہنما سید محمد قسور گردیزی مہمان خصوصی ہوں گے۔آپ اس تقریب میں ضرور شرکت کریں۔ کمشنر ہاؤس سے فارغ ہو کر میں سدو حسام میں واقع ایک نئی تعمیر شدہ عمارت کی بالائی منزل میں روزنامہ تاجر کے دفتر پہنچا تویہاں غلام محمد صاحب نے مجھے شاہ صاحب سے متعارف کرایا۔ اس موقع پر سید محمد قسور گردیزی صاحب نے خطاب کے دوران مزدوروں، کسانوں اور دیگر پسماندہ لوگوں کے مسائل کا ذکر کیا۔مجھے ان کے خطاب نے بہت متاثرکیا۔چائے کی میز پر سید قسور گردیزی صاحب سے تفصیلی بات چیت ہوئی۔یہ پچاس کی دہائی کا زمانہ تھا اور میں بھی لائل پور میں صحافت سے وابستہ ہو چکاتھا۔چونکہ غلام محمد صاحب میرا مفصل تعارف کراچکے تھے اس لئے شاہ صاحب نے فرمایا ، میری لائق کوئی خدمت ہو تو ضرور بتائیے۔ جب بھی ملتان آنا ہو میرے ہاں ضرور تشریف لایئے۔اس کے بعد سید قسور گردیزی صاحب سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقاتیں ہوتی رہیں۔
اس زمانے میں اردوروزنامہ امروزاور انگریزی روزنامہ پاکستان ٹائمز شائع کرنےو الے ادارے پروگریسو پیپرز کا ہیڈ آفس لاہور میں تھا اور سید قسور گردیزی اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل تھے۔ میاں افتخار الدین اس ادارے کے سربراہ تھے اورگجرات کے سید کاکو شاہ (رکن پنجاب اسمبلی)اور دیرینہ دوست محترم احمد عزیز ضیاءبورڈ کے ارکان میں شامل تھے۔مجھے ابتداءہی سے سیاسی اجتماع میں شرکت اور سیاسی لوگوں سے ملنے کا بڑا شوق ہوتاتھا۔ میاں افتخار الدین مرحوم اور سردار شوکت حیات مرحوم آزاد پاکستان پارٹی میں شامل تھے، انہوں نے میری تجویز پر ایک دن میرے گاؤں میں ایک اجتماع سے خطاب کیا۔ میاں افتخار الدین مرحوم نے مجھ سے سید محمد قسور گردیزی صاحب کا تذکرہ کیااور فرمایا کہ ملتان میں اگر آپ کو کوئی کام ہو تو آپ ان سے مل سکتے ہیں۔ وہ حتی المقدور آ پ کی مدد کریں گے۔ اس کی وجہ سے سید قسور گردیزی صاحب سے ملنے کا اشتیاق تھا اور روزنامہ تاجر کی اس افتتاحی تقریب میں ان سے بہت اچھی ملاقات بھی ہوگئی۔
پروگریسو پیپر ز نے ملتان سے روزنامہ امروز کے اجرا کا فیصلہ کر رکھا تھا۔ احمد ندیم قاسمی صاحب لاہور میں روزنامہ امروز کے ایڈیٹر تھے۔ میں اس زمانے میں دولتانہ کے اخبار روزنامہ آفاق میں کام کر رہا تھا تو قاسمی صاحب نے مجھے روزنامہ امروز میں کام کرنے کی دعوت دی۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ میں روزنامہ آفاق سے مستعفی ہو کر اپنے واجبات لینے کے بعد ہی روزنامہ امروز میں کام کروں گا۔ یہ پیشکش میرے لئے اس لحاظ سے بھی پر کشش تھی کہ وہاں سید قسور گردیزی صاحب سے ملاقات رہاکرے گی۔
ایوب خان کا مارشل لاءلگ چکا تھا۔ انہوں نے پروگریسو پیپرز کو سرکاری تحویل میں لے لیا اور میں جب روزنامہ آفا ق سے فارغ ہو کر پروگریسو پیپرز کے دفتر میں گیا تو اس وقت ظہیر بابر روزنامہ امروز کے ایڈیٹر بن چکے تھے جو احمد ندیم قاسمی صاحب کے بھانجے تھے۔ قاسمی صاحب کے بڑے بھائی مولانا غلام مرشد مرحوم بادشاہی مسجد کے خطیب تھے۔ میری ان سے بھی شناسائی تھی۔ قاسمی صاحب اور ظہیر بابر صاحب کا تعلق ضلع خوشاب کے موضع انڈا سے تھا اور وہاں چند سرکردہ اعوان لوگوں سے بھی میرا واسطہ تھا۔ ظہیر بابر کے پا س جب میں پہنچا تو کہنے لگے کہ اب تو پروگریسو پیپرز حکومتی تحویل میں آچکا ہے اور محمد سرفراز صاحب اس کے ایڈمنسٹریٹراور پروگریسو پیپرز کے چیف ایڈیٹر بھی ہیں اب آ پ کو ملازمت کےلئے ان سے بات کرنا پڑے گی۔ میں سیدھا پنجاب یونیورسٹی کے اولڈ کیمپس پہنچا ۔میرے دوست کرنل شہباز خان اس وقت پنجاب یونیورسٹی کے نیو کیمپس کے پراجیکٹ ڈائریکٹر تھے۔ وہ دو تین بار پنجاب یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر بھی رہ چکے تھے۔ وہ وائس چانسلر کے ساتھ والے کمرے میں تشریف فرما تھے۔ میں جیسے ان کے پاس پہنچا تو انہوں نے چائے اور کھانے کےلئے پوچھا۔ میں نے عرض کیا کہ مجھے مغربی پاکستان کے سیکرٹری اطلاعات اور پروگریسو پیپرز کے ایڈمنسٹریٹر سے کام ہے۔ شہباز خان صاحب اسی وقت مجھے اپنی گاڑی میں لے کر سیکرٹریٹ میں سرور صاحب کے پاس لے گئے۔ شہباز خان صاحب نے کہا کہ میں ریاض صاحب کے ساتھ کھانا کھانا چاہتا تھا لیکن یہ آپ سے ملنا چاہتے تھے ۔ سرور صاحب نے فرمایا کہ میں ابھی کھانا منگواتا ہوں اور ان کے ساتھ ہی کھانا کھاؤں گا۔ آپ ان کو میرے پاس چھوڑ جائیں اور مجھے دفتر سے فارغ ہو کر شام کو کراچی جانا ہے۔ میں ریاض صاحب کو سیدھا ظہیر بابر صاحب کے پاس لے جاؤں گا اور وہیں سے ائیرپورٹ جا کر کراچی چلا جاؤں گا۔
ایوب خان کراچی میں پاکستان ٹیلی ویژن کا افتتاح کرنے والے تھے اور سرور صاحب دفتر میں بعض حکومت مخالف اخبارات کے کیسز بھی تیار کر کے ساتھ کراچی لے جانا چاہتے تھے۔ میں بھی ان کے دفتر میں کچھ اخبارات دیکھتا رہا۔ سرور صاحب مجھے سیکریٹریٹ سے اپنے ساتھ گاڑی میں پروگریسو پیپرز کے دفتر لے گئے۔ وہاں گاڑی سے اتر کر سیدھے ظہیر بابر صاحب کے پا س لے گئے۔ ظہیر بابر صاحب موقع پر بڑے حیران ہوئے۔ سرور صاحب نے فرمایا کہ ریاض صاحب فوری طورپر روزنامہ امروز ملتان میں شامل ہو جائیں گے اور یہاں سے سیدھے ملتان جائیں گے۔ ان کی تقرری کا لیٹر میں کراچی سے واپسی پر خود ہی جاری کر دوں گا۔ میں لاہور سے سیدھا ملتان آگیا اور ملتان میں گاہے بگاہے کئی تقریبات میں بھی اور سید قسور صاحب کے دولت خانے پر بھی اکثر ملاقات ہوتی رہی۔ کئی بار ان کے ہاں کھانے پر بھی ملاقاتیں رہیں۔سید قسورگردیزی بہت ملنسارتھے۔ انکساری اور مہمان نوازی ان کا شیوہ تھا۔ مجھے کئی بار ان سے انٹرویو کرنے کا بھی موقع ملا۔
یہاں میں کھانے پر ایک ملاقات کا خصوصی تذکرہ کرنا چاہتا ہوں۔محترم عطااللہ مینگل اور ان کا خاندان ایوب خان کے زیر عتاب تھااور بغاوت کے مقدمے میں بھی ملوث تھے۔ انہیں بلوچستان کی بجائے سنٹرل جیل ملتان میں رکھا گیا تھا۔ اس زمانے میں سردار علی محمد ڈاہر سنٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ تھے۔ وہ میرے خاص مہربان دوست تھے۔ ان دنوں سید قسور گردیزی مرحوم نیشنل عوامی پارٹی کے رہنما تھے ۔ انہی کے دولت خانے پر ان کی پارٹی کے ایک کارکن ایف ڈی فاروقی سے میری ملاقات ہوئی۔ شاہ صاحب نے فرمایا کہ یہ بے روزگار ہیں یہ آ پ سے ملتے رہیں گے کہیں موقع ملے تو ان کا ضرور ہاتھ بٹائیں۔ وہ ایک دن میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں سنٹر ل جیل میں قیدیوں کےلئے راشن فراہمی کا ٹھیکہ لینا چاہتا ہوں آپ میری مدد کریں۔ میں سیدھا ان کو سنٹرل جیل میں ڈاہر صاحب کے پاس لے گیا۔ انہوں نے کمال مہربانی سے ان کو اشیائے خوردنی کی فراہمی کا ٹھیکہ سونپ دیا۔ وہ برمنگھم جانے سے پہلے کافی عرصے تک سنٹرل جیل کےلئے اشیائے خوردونوش فراہم کرتے رہے۔ ایک بار مجھے کہنے لگے کہ میری خوشی ہے کہ میں کچھ آپ کی خدمت کروں۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھ پر اللہ کا بہت کرم ہے۔ میں آپ کی پیشکش کسی صورت قبول نہیں کر سکتا۔ تاہم یہاں میرے دوست روزنامہ امروز کے ریذیڈنٹ ایڈیٹرجو حسن پروانہ میں رہتے ہیں آپ مکھن اور دیگر اشیاءان کے ہاں بھجوا دیا کریں۔ کچھ عرصے کے بعد نیشنل عوامی پارٹی کے کارکن مجھے کہنے لگے کہ میں ملک سے باہر جانا چاہتا ہوں مجھے پاسپورٹ بنوا دیں۔ میں اب اس قابل ہوگیا ہوں کہ اپنے خاندان کو ملک سے باہر لے جاوں۔ میں نے ان کا پاسپورٹ بنوا دیا اور وہ برمنگھم چلے گئے۔ کئی سال تک ان کے برمنگھم سے خطوط بھی آتے رہے۔ ایک بار وہ خود بھی ملتان آئے اور ان سے ملاقات ہوئی۔ وہ شاہ صاحب سے اکثر میرے بارے میں تذکرہ کرتے رہتے تھے کہ ریاض صاحب میری بہت مدد کرتے ہیں۔ یہاں میں بطور خاص شاہ صاحب کے ہاں ایک خصوصی تقریب کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ عطاءاللہ مینگل صاحب سنٹرل جیل ملتان میں مقیم تھے۔ میری اکثر ان سے جیل میں ملاقات رہتی تھی۔ سردار علی محمد ڈاہر میرے بہت مہربان دوست تھے۔ وہ ایک مخصوص کمرے میں مینگل صاحب سے میری ملاقات کا اہتمام کر دیتے تھے۔ ویسے قانون کے مطابق محکمہ داخلہ کی اجاز ت سے ہی عطاءاللہ مینگل سے ملاقات ہو سکتی تھی۔ میں اکثر مینگل صاحب کی کھانے پینے کی اور دیگر ضروری اشیاءلے کر جایا کرتا تھا۔ ایک بار میں کمرے میں ان سے ملاقات کر کے باہر نکلا تو نواب زادہ نصراللہ خان کی پارٹی کے ایک فعال کارکن بارک اللہ خان سے ملاقات ہوئی۔ ان کے اہل خانہ بھی مچھلی پٹھانہ شکر گڑھ سے ملاقات کےلئے آئے ہوئے تھے۔ میں نے بارک صاحب سے کہا کہ میں ابھی آتا ہوں اور آپ سے تفصیلی ملاقات کرتا ہوں۔ میں مینگل صاحب کے پاس گیا اور ان سے کچھ مشروبات اور فروٹ لے کر بارک اللہ خان کے پاس گیا۔بارک صاحب کے والد نے اپنے بیٹے سے ملاقات کےلئے محکمہ داخلہ سے اجازت لے رکھی تھی اور سپیشل برانچ کے ایک سب انسپکٹر منظور علی بھی وہاں موجود تھے جو مجھے بخوبی جانتے تھے۔ میں بارک صاحب سے ملاقات کے بعد واپس آگیا تو شام کو منظور علی روزنامہ امروز کے دفتر آئے ۔ کہنے لگے کہ میں آپ سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔ ہم ایک چائے خانہ میں چلے گئے ۔ انہوں نے بتایا کہ بارک اللہ خان نے بتایا کہ آپ اکثر عطاءاللہ مینگل سے ملاقات کرتے رہتے ہیں۔میں نے انہیں بتایا کہ آپ میرے دوست ہیں ۔ مجھے اچھی طرح جانتے ہیں۔ مجھے سیاسی رہنماوں سے ملاقات کا شوق رہتاہے لہذا میں ان سے اکثر ملاقات کرتا رہتا ہوں۔
سردار عطاءاللہ مینگل جن نودیگرممتا ز سیاسی رہنماؤں کے ہمراہ بغاوت کے مقدمے میں ملوث تھے ، باقی تمام سیاسی رہنماؤں سے بھی میرے ذاتی مراسم تھے۔ میری کوششوں سے بغاوت کا مقدمہ ختم ہوا ۔ سید محمد قسور گردیزی صاحب نے عطاءاللہ مینگل صاحب کو اپنے ہاں کھانے پر مدعو کر رکھا تھا۔ مینگل صاحب نے کہا کہ میں اس شرط پر آ پ کے ہاں کھانا کھاؤں گا کہ وہاں ریاض چودھری بھی موجود ہوں گے۔ مجھے گردیزی صاحب کے ہاں پہنچنے میں کچھ دیر ہوگئی تو شاہ صاحب نے مینگل صاحب سے کہا کہ ہم کھانا شروع کرتے ہیں ۔ ریاض صاحب بعد میں شامل ہو جائیں گے۔ مینگل صاحب نے کہا کہ جب تک ریاض صاحب نہ آئیں میں کھانا شروع نہیں کر سکتا۔ میں ملتان سنٹرل جیل میں تھا تو مجھے ریاض صاحب کے سوا کوئی ملنے والا نہیں تھا۔ انہوں نے میری اور میرے خاندان کی مشکلات کا بطور خاص خیال رکھا اور میرے لئے ہر قسم کی آسانیاں پیدا کرتے۔ جیسے ہی میں قسور صاحب کے ہاں پہنچا تو عطاءاللہ صاحب نے مجھے یہ خود بتایا کہ شاہ صاحب کہہ رہے تھے کہ کھانا شروع کر لیں میں نے ان سے کہا کہ جب تک ریاض صاحب نہ آئیں میں کھانا شروع نہیں کر سکتا۔ کیونکہ ملتان میں انہوں نے جو کچھ میرے لئے کیا ہے شائد آپ کو علم نہیں۔
بھٹو صاحب نے نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگادی تھی۔سپریم کورٹ نے اس کو قانونی طورپر جائز قرار دے دیا۔ اس کے بعد عوامی نیشنل پارٹی کے نئے نام سے سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ بھٹو صاحب نے نیشنل عوامی پارٹی کے لیڈروں پر حیدر آباد میں ٹربیونل قائم کر کے انہیں سزائیں سنا کر بڑی مدت کےلئے بند کر دیا۔ جب ضیاءالحق کا مارشل لاءلگا تو مجھے معلوم ہوا کہ اگر پارٹی کے رہنماؤں کی طرف سے مطالبہ کیاجائے تو تمام سزا یافتہ رہنماؤں کو رہا کر دیں گے۔ راقم الحروف نے نواب زادہ نصراللہ خان، سید محمد قسور گردیزی اور چودھری ظہور الہی سے اس بارے میں بات چیت کی اور پھر شیر باز کی قیادت میں اپنی جماعت کی طرف سے باقاعدہ مطالبہ کیا کہ حیدر آباد ٹربیونل کے اسیروں کو رہا کر دیا جائے۔ اس مطالبے پر جنرل ضیاءالحق نے کالعدم جماعت کے تمام رہنماؤں کو رہا کر دیا۔پی این اے کی تحریک کے دوران سید قسور گردیزی صاحب نے قومی اتحاد کے رہنماؤں کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام کیا۔ راقم الحروف بھی اس موقع پر موجود تھا۔اس موقع پر عبدالولی خان نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ قائداعظمؒ نے آمرانہ روش پر گامزن رہتے ہوئے صوبہ سرحد میں میرے چچا ڈاکٹر خان صاحب کی حکومت ختم کر دی جو غیر جمہوری اور قانونی لحاظ سے بلا جواز تھا۔ اس پر راقم الحروف نے ولی خان صاحب سے کہا کہ وہ قائد اعظمؒ کے بارے میں اپنے الفاظ واپس لیں۔ کیونکہ قائد اعظم ؒ نے بحیثیت گورنرجنرل اپنے آئینی اختیارات کے تحت یہ قدم اٹھایا تھا۔ میری بات پر ولی خان صاحب بہت برہم ہوئے ۔میرے اور ولی خان کے درمیان یہ تکرار جاری تھی کہ سید قسور گردیزی صاحب اورملک محمدقاسم اور نوابزادہ نصراللہ نے صلح صفائی کروائی۔ اس کے بعدجب تک میں ملتان میں قیام پذیر رہا تو گاہے بگاہے سید محمد قسور گردیزی صاحب مرحوم سے بڑ ے خوشگوار ماحول میں ملاقاتیں جاری رہیں۔
سید محمد قسور گردیزی نے ساری عمر مزدوروں ، کسانوں اور کچلے ہوئے لوگوں کی حمایت میں اپنا مشن جاری رکھا۔ گو کہ گردیزی صاحب اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں لیکن سیاست سے دلچسپی رکھنے والے اہل وطن اور اہل ملتان کے دلوں میں ان کی سیاسی جدوجہد کی یادیں تادیر زندہ رہیں گی۔
قسور گردیزی ، ولی خان اور عطاءاللہ مینگل کےساتھ ملاقاتوں کااحوال : ریاض چوہدری کی یادنگاری
ایڈیٹر25 Views

