عید سے پہلے میری ایک خواہش پوری ہوئی کہ میں نے اللہ کے گھر میں روزے رکھے، فرض اور نفل عبادات کیں، طواف کئے اور ایک بھرپور عمرے کے بعد میں پاکستان لوٹا ۔عیدالفطر اپنوں کے درمیان خوشیاں بانٹتے ہوئے گزر گئی ۔ عمرے پر جانے سے پہلے بہت سی رکاوٹیں میرے عشق کے رستے میں حائل ہوئیں مگر میں نے کسی کو بھی اہمیت نہ دی اور اپنی منزل تک پہنچ گیا ویسے بھی جب بلاوا آجائے تو دنیا داری بھلا کب روک سکتی ہے؟
جب میں پاسپورٹ بنوارہا تھا ،عین اسی وقت میرے ہمسائے کے نوجوان بیٹے کا حادثہ ہوا اور وہ اپنے بازو تڑوا بیٹھا ۔ ہمسائے نے اپنے بیٹے کے علاج کے لئے دس ہزار کی رقم ادھار مانگی مگر میں نے صاف انکار کردیا کہ ویزے ، ٹکٹ اور رہائش کی رقم نکال کر میرے پاس صرف اتنے پیسے بچتے تھے جو آب زم زم اورکھجوروں پر خرچ کرنے کے لئے بھی ناکافی تھے اور مجھے بتایا گیا تھا کہ ایک خاص وزن سے زیادہ آب زم زم لانے پر ائیر لائن کے عملے کو رشوت دینا پڑتی ہے ۔ جب میں پیسہ پیسہ جمع کرکے عمرہ کی ادائیگی کا اراد ہ کرچکا تو میری ماں کی آنکھوں میں موتیا اتر آیا اور ڈاکٹر نے فوراً آپریشن کروانے پر زور دیا ، اس وقت میرا ارادہ بہت متزلزل ہوا ، میں نے بارہا سوچا کہ پہلے ماں کی آنکھیں بنوالوں عمرہ آئندہ سال کرلوں گا مگر اس وقت بھی سب سے اچھا مشورہ میری بیوی کا تھا جس نے کہا کہ ”80سالہ بوڑھی عورت نے اب ”دیکھ “ کر کیا کرنا ہے اب اس کے اللہ اللہ کرنے کے دن ہیں اور اللہ اللہ کرنے کے لئے آنکھوں کا ہونا ضروری نہیں ہے، آپ نے اگر اب عمرہ نہ کیا تو پھر کبھی نہیں کرسکو گے ، بچے جوان ہورہے ہیں اور پھر بیٹی کو بیاہے بغیر بھلا عمرہ کیسا؟“ مجھے اپنی نااہل اہلیہ کی یہ بات بہت پسند آئی اور میں نے ڈاکٹر کے مشورے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ماں کی آنکھوں کا آپریشن کروانے کا ارادہ ترک کردیا۔
میں جانتا تھا کہ اگر میں رمضان المبارک کے بعد عمرہ کرتا تو میرے اخراجات خاصے کم اٹھتے مگر پھر ثواب بھی تو بہت کم ملتا ، رمضان میں ایک ایک روزہ ہزاروں روزوں اور ایک ایک سجدہ لاکھوں نمازوں سے زیادہ ثواب کا سبب بنتا ہے جس طرح نیکی کے کام میں شیطان رکاوٹیں ڈالتا ہے اسی طرح میری ایک بیوہ بہن میرے عمرے پر روانگی سے قبل ٹپک پڑی اور آکر اپنے باپ کے گھر سے اپنا حصہ مانگنا شروع کردیا اور دھاڑیں مار کر رونے لگی کہ اس کی بیٹی کی رخصتی عید کے فوری بعد طے پاچکی تھی اور اسے جہیز کے لئے کچھ پیسوں کی اشد ضرورت تھی ، یہ تو بھلا ہو بہشتی باپ کا جس نے میری بہنوں کو بتائے بغیر پورا گھر میرے نام منتقل کردیا تھا اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی تھی۔ میرے خاندان کے لوگ جو میری عبادات اور پرہیز گاری کے حاسد تھے ، وہ بھی اس کا ساتھ دینے لگے تو مجبوراً مجھے گھر کی رجسٹری ظاہر کرنا پڑی اور بہت مشکل سے بیوہ بہن کو گھر سے رخصت کیا حالانکہ ابھی پچھلی عید پر ہی تو دوسوروپے عیدی اس کو دے کر آیا تھا مگر میر ی اچھائی کون یاد رکھتا ہے؟
لوگ میری ظاہری بودو باش دیکھ کر مجھے امیر کبیر سمجھتے ہیں اس لئے عمرے پر روانگی سے قبل اہل محلہ کے لئے ایک بڑی خیرات کا بندوبست کرنا پڑا۔ پورے گھر میں شامیانے لگے اور دن بھر دیگیں چلتی رہیں جس کے اخراجات بھی میں نے منظور کریانے والے سے سود پر اٹھائے ۔
اللہ اللہ کرکے ائیر پورٹ سے روانگی ہوئی اور اپنے خوابوں کی سرزمین مکہ مکرمہ تک پہنچ گیا ۔ بے ایمان ٹریول ایجنٹ نے جو ہوٹل کہا تھا وہ تو نہ مل سکا مگر پھر بھی جو کمرہ ملا اس کی کھڑکی سے ہی اللہ پاک کے گھر کا دیدار نصیب ہوجاتا تھا اور میں ہر نمازکے لئے سفر کرنے سے بچ جاتا تھا۔
میرے اکیس دن کیسے گزرے ، مجھے کچھ خبر ہوئی اور نہ ہی کسی رشتے دار کی یاد آئی ۔ گھر میں میرا ایک بھائی تھاجو اللہ کی مجھ پر کرم فرمائیوں سے جلتا تھا اور مجھے عمرو عیار کہتا تھا ۔ میر ے سالے نے بتایا کہ جس دن وہ ائیرپورٹ پر چھوڑنے آیا تھا وہ جھولی اٹھا اٹھا کر جہاز کے گرنے اور میرے مرنے کی دعائیں مانگ رہا تھا۔
عید سے دو دن پہلے جب ہم سب حاجی آب زم زم لے رہے تھے تو ایک عربی اہلکار نے صرف ایک ڈبہ ہی ایک حاجی کو فراہم کرنے کی اجازت دی مگر میں بھی پاکستانی تھا ، میں نے اپنی عقل استعمال کرتے ہوئے اتنا آب زم زم لے لیا کہ ائیر لائن کے عملے کو اچھی خاصی رقم دینی پڑی اور آب زم زم پاکستان لانا پڑا۔
جب میں واپس پہنچا تو مجھے لینے کے لئے ایک ہجوم میرا منتظر تھا اور سب کے ہاتھوں میں تازہ گلابوں کے ہار تھے ، مجھے جس محبت سے گھر تک لایا گیا اس سے صاف ظاہر تھا کہ میرا عمرہ قبول کرلیا گیا ہے ۔گھر پہنچ کر میں نے اپنے سسرالی رشتے داروں کو کیمرے ، گھڑیاں اور دیگر تحائف دیے تو میرے بھائی اور بھتیجے ناراض ہوگئے حالانکہ وہ تحائف میں اپنی جیب سے تھوڑی لایا تھا وہ تو انہی کے پیسے تھے جنہوں نے مقدس شہر کی مقدس نشانیاں منگوانے کے لئے چھ ماہ قبل ہی میرے پاس امانتیں رکھوادی تھیں ۔
میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے مجھے اپنے گھر بلایا اور سب فرائض پورے کرنے کی توفیق نصیب کی مگر ایک نقصان شائد قسمت میں لکھا تھا کہ میر ی غیر موجودگی میں میرے ملازمین نے رشوت خور عملے کو منتھلی ادا نہیں کی اور وہ میرا نہ صرف میڈیکل سٹور سیل کرگئے بلکہ زائد المیعاد ادویات کے سٹاک کو بھی قبضے میں لے لیا۔ خیر کوئی بات نہیں جب آپ اللہ کی راہ پر نکلتے ہیں تو قربانیاں دینا پڑتی ہیں ۔ عشق کے اس سفر میں اپنی ماں کی آنکھیں، بہن کی بیوگی ، ہمسائے کے بیٹے کی بیماری اور بھائی کی غربت کو نظر انداز کرسکتا ہوں تو میڈیکل سٹور کا نقصان بھی برداشت کرسکتا ہوں، اللہ میرا عمرہ قبول فرمائے (آمین)۔

