انفرادی آوازوں کے بعد اب قومی آواز نئے پاکستان کا ہدف ہے ۔ جب میں نے بولنا سیکھا تو اباجی کو لکڑی کے ریڈیوسیٹ سے ہمیشہ کچھ نہ کچھ سنتے ہوئے پایا ہر گھنٹے بعد قومی خبریں جو وزارت اطلاعات سے منظور شدہ ہو کر آوازوں میں ڈھلتی تھیں، مقامی خبریں جو ہر خطے کے مقامی حالات کے علاوہ طلبا و طالبات کو سرکاری تعلیمی اداروں کے داخلوں اور امتحانی تاریخوں سے آگاہی دیتی تھیں۔ علاقائی زبانوں میں صوتی ڈرامے ، حالات حاضرہ پر یک طرفہ تبصرے ، میچوں کی کمنٹری ، موسیقی اور ثقافتی پروگرامز ، ملی نغمے ، لوک گیت، محفل میلاد کے پروگراموں کی ریکارڈنگز ، کاشتکاروں کی رہنمائی کےلئے زرعی پروگرام ، وسیب کےلئے جمہور دی آواز، فوجی بھائیوں کے لئے پاسبان اور حب الوطنی اجاگر کرنے کے لئے مخصوص قومی ترانے ریڈیو کے ذریعے ہم تک پہنچتے تھے اور یہ ایک سستی ترین تفریح تھی۔ محرم کے دنوں میں ذاکرین واقعہ کربلا ہوا کے دوش پہ سامعین تک پہنچاتے تھے ۔ سربراہان مملکت کی تقاریر بہت اہتمام سے سنی جاتی تھیں ۔مفاد عامہ کے اشتہارات جس انداز سے ریڈیو پیش کرتا وہ بھی ناقابل بیان حد تک ذہن پر نقش ہیں ۔سب سے اہم بات یہ کہ زبان و بیان اور تلفظ جو ریڈیو سے ادا ہوتے اسے سن کر لوگ اپنا لب و لہجہ درست کرتے۔
ہمارے انگریزی ادب کے استاد پروفیسر کلیمنٹ جان نے لیکچر کے دوران بتایا تھا کہ کسی بھی زبان میں ساٹھ فیصد الفاظ اور چالیس فیصد جسمانی حرکات و سکنات سے آپ کی بات آگے منتقل ہوتی ہے ۔ چالیس فیصد میں بولنے والے کے ہاتھ آنکھیں ، چہرے کے بل بات میں اثر پیدا کرتے ہیں مگر ریڈیو کی زبان وہ واحد زبان ہے جس میں سوفیصد ہی الفاظ کا چناﺅ کام کرتا ہے۔ جملے کی ادائیگی اور الفاظ کی باز گشت تا دیر یاد رہتی ہے ۔ بغیر اشاروں اور جسمانی حرکات کے الفاظ میں ہی سننے والے کیلئے تصویر ڈال دینا صرف ریڈیو کا کمال ہے۔
آوازوں کی اس بھرمار اور حرکت کرتی تصاویر کی بہتات میں بھی ہمیں رضا علی عابدی، شمشیر حیدر ہاشمی (مہر صاحب) ،اشفاق احمد(تلقین شاہ)،ملک عزیز الرحمن (ملک صاحب)،قیصر نقوی، نرگس رشید، ماہ پارہ صفدر، ریاض میلسی، خورشید ملک،طارق شاہ، آصف خان کھیتران سمیت متعدد آوازیں یاد ہیں۔
میں ذاتی طور پر ریڈیو سن کر اپنا تلفظ درست کرتا رہا اور بات سے بات نکالنے والی ریڈیو کی آوازوں سے متاثر رہا ۔ موسیقی کی ایک بڑی لائبریری بھی تو ریڈیو کے پاس محفوظ ہے جہاں وہ آوازیں موجود ہیں جو اب شاید کسی مارکیٹ میں نہ ہوں ۔ علاقائی دھنوں کی کمپوزنگ، صوتی اثرات ، فیچر رائٹنگ ، ڈرامہ نگاری ، گائیکی کی تربیت ، طبلہ نوازی اور اس جیسی کتنی اکیڈمیاں صرف ایک ریڈیو کی چھت تلے سانس لیتی تھیں ۔ اب صداکاروں ، موسیقاروں، پروڈیوسروں، گلوکاروں اور نیوز کاسٹرز کو سڑکوں پر احتجاج کے دوران دھکے کھاتے دیکھا تو نئے پاکستان کی تازہ دم حکومت کے وزیر اطلاعات کا پالیسی بیان ”ریڈیو اب متروک ہوچکا ہے، اسے دوکمروں کی عمارت میں بھی چلایا جاسکتا ہے “بہت عجیب لگا۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ نئی حکومت کا پہلا ہدف ریڈیو پاکستان ہی کیوں ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ریڈیو کے بعد سرکاری ٹی وی اور پھر دیگر ادارے بھی ان کے نشانے پر ہیں کہ ان تمام اداروں کے پاس عمارتیں بھی موجود ہیں اور اب نئے پاکستان میں وہ بھی شاید ” متروک“ ادارے سمجھے جائیں۔ اخبارات کو بھی اشتہار ی پالیسی کے نام پر ”کمیٹی“ کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ بولنے اور لکھنے والوں کو پہلا ہدف بنانا کہیں ”استخارے“ کا نتیجہ تو نہیں ؟ کیونکہ عثمان نامی ایم پی اے کو تلاش کرکے پنجاب کی وزارت اعلیٰ پر فائز کرنا ، زمان پارک لاہور والے گھر میں بطور وزیراعظم قدم نہ رکھنا اور پرائم منسٹر ہاﺅس اسلام آباد میں رہائش اختیار نہ کرنا بھی تو خاتون اول کے” استخارے“ کی رہنمائی میں قابل عمل ہوا۔ اب وزیر اطلاعات نے ریڈیو پاکستان کی عمارت کو لیز پر دینے کا فیصلہ یہ کہہ کر مؤ خر کردیا کہ ” ملازمین کو اعتماد میں لئے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا“ اور حکومت کیلئے ملازمین کو اعتماد میں کیسے لیا جاتا ہے اس منطق کوسمجھنے کےلئے کسی لغت کی ضرورت نہیں۔ حکومت کا پہلا ہدف قومی زبان بندی شاید بہت آسان ہدف ثابت ہو مگر اس کے دور رس اثرات کی بازگشت قومی وقار پر ضرب کاری ثابت ہوگی کیونکہ ہم اخبار کے نیوز روم میں ریڈیو پر مانیٹرنگ صرف اس لئے کیا کرتے تھے کہ اردگرد سے آنے والی خبروں کے ذرائع معتبر نہیں ہوتے اسلئے اہم ملکی معاملات پر سرکاری ریڈیو کی خبر ایک مستند حوالہ سمجھا جاتا تھا اور اب ریڈیو کی آواز دبانا در اصل قومی معتبر حوالہ ختم کرنے کے مترادف ہے۔ امید ہے کہ ریڈیو کے ملازمین ،تخلیق کاروں اور سخنوروں کا احتجاج رنگ لائے گا یا پھر ریڈیو کے بار ے میں بھی ”استخارہ“ کرلیا جائے تو ہوسکتا ہے قومی ثقافت کا ترجمان اپنا وجود برقرار رکھ سکا۔
جمعرات, نومبر 5, 2026
تازہ خبریں:
- الگورتھم کے قیدی ، بے چہرہ ہجوم اور چیئرمین ماؤ : وجاہت مسعود کا کالم
- وفاقی کابینہ نے 10 روپے کے نوٹ کی جگہ سکہ متعارف کرانے کی منظوری دے دی
- امریکی الیکشن نتائج نے ٹرمپ کو ’ لنگڑی بطخ ‘ بنا دیا : نصرت جاوید کا کالم
- امریکہ میں وسط مدتی انتخابات: ٹرمپ کو تاریخی شکست ، ڈیموکریٹس کا کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول
- سہیل آفریدی پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے الزامات۔۔ پورا سچ سامنے لایا جائے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- بھگدڑ میں دو افراد کی ہلاکت کے بعد ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت منظور
- پی آئی اے کے نئے سی ای او ایڈرین ہیملٹن مانز نے عہدہ سنبھال لیا۔
- ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم ۔۔ قدیم ہندوستانی لسانیات ، پانینی سے مولانا محمد حسین آزاد تک
- ہارڈ سٹیٹ کے نام پر فسطائی ریاست ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- فضل الرحمان : ریاست کی نوکری سے ریاست کے مدمقابل آنے تک : سید مجاہد علی کا تجزیہ

