وانا : پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کی مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وانا میں پشتون تحفظ موومنٹ کے اراکین پر مسلح افراد کی فائرنگ سے کم سے کم دو کارکن ہلاک ہوئے ہیں اور متعدد کارکن زخمی ہیں جس کے بعد علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔جنوبی وزیرستان کے ہیڈ کوارٹر وانا میں اتوار کی شب پشتون تحفظ موومنٹ کے سرکردہ رکن علی وزیر کے پیٹرول پمپ پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی۔مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صورتحال کشیدہ ہونے کے سبب شہر میں گذشتہ شب سے کرفیو نافذ ہے۔اس حملے میں علی وزیر تو محفوظ رہے لیکن مقامی سیاسی انتظامیہ کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ مسلح افراد کی فائرنگ سے پشتون تحفظ موؤمنٹ کے دو کارکن ہلاک ہوئے ہیں۔اطلاعات ہیں کہ اس حملے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں اور زخمیوں میں ایک مقامی صحافی نور علی بھی شامل ہیں۔مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ قبائلی عمائدین پر مشتمل جرگہ آج بلوایا گیا ہے، جس میں موجودہ صورتحال پر بات کی جائے گی۔قبائلی عوام کے حقوق کے لیے آواز اُٹھانے والی تنظیم پی ٹی ایم کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ’امن کمیٹی عین اللہ کے افراد‘ ملوث ہیں۔ مقامی طور پر ان افراد کو ‘گڈ طالبان’ کہا جاتا ہے۔اس حملے کے بعد پی ٹی ایم کے رہنما منظور پشتین نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ طالبان نے علی وزیر اور پی ٹی ایم کے کارکنوں پر فائرنگ کی۔انھوں نے کہا کہ ‘فائرنگ کے جواب میں جب طالبان پر پتھراؤ کیا گیا تو انھوں نے کیمپ میں پناہ لے لی۔’پی ٹی ایم کے اراکین پر اس حملے کے بعد اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں احتجاج ہوا۔انھوں نے کہا کہ ‘پشتون تحفظ موومنٹ نے گذشتہ پانچ ماہ سے آئین کے لیے جدوجہد کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور اس عرصے میں ایک روڈ بھی بند نہیں کی، ایک بلب بھی نہیں توڑا لیکن ریاستی اداروں نے ہم پر ظلم کیے۔’انھوں نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں پشتون عوام سے مطالبہ کیا کہ جب بھی موقع ملے تو اس واقعے کے خلاف احتجاج کریں اور جہاں بھی اقوام متحدہ کے دفاتر ہیں وہاں مظاہرہ کریں کیونکہ حکومت ہماری بات نہیں سنتی ہے۔ادھر وانا میں اس حملے کے بعد سے حالات کشیدہ ہیں رستم بازار اور عالم مارکیٹ میں پی ٹی ایم کے سرگرم افراد نے امن کمیٹی کے عین اللہ گروپ کے دفتر کا محاصرہ کر لیا ہے۔
بدھ, اکتوبر 28, 2026
تازہ خبریں:
- خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم

