سیؤل : شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے اپنے ملک کے کسی سربراہ کی جانب سے 1953 کے بعد جنوبی کوریا کے پہلے دورے کے موقعے پر دو طرفہ تعلقات کی ’نئی تاریخ‘ رقم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔کم جونگ ان جمعے کی صبح سنہ 1953 کی کورین جنگ کے اختتام کے بعد سرحد پار کر کے جنوبی کوریا میں داخل ہوئے۔جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن نے اس تاریخی موقعے پر شمالی کوریا کے رہنما سے گرمجوشی سے مصافحہ کیا۔اپنی آمد پر شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے اس موقعے کو امن کے لیے نئے دور کا آغاز قرار دیا۔ انھوں نے پیس ہاؤس میں کتاب پر لکھا ’ایک نئی تاریخ اب شروع ہو رہی ہے، نئی تاریخ کا آغاز اور امن کا دور۔‘اس سربراہی ملاقات کا بنیادی ایجنڈا پہلے سے طے شدہ ہے، تاہم بہت سے تجزیہ کاروں کو شبہ ہے کہ شمالی کوریا کس حد تک تعلقات کی بحالی کی لیے پرجوش ہے۔اس وقت تمام جنوبی کوریا تھم سا گیا جب دونوں ملکوں کے سربراہوں نے سرحد پر واقع غیر فوجی علاقے میں آپس میں مصافحہ کیا۔اس کے بعد لوگوں مزید حیران رہ گئے جب کم جونگ ان نے جنوبی کوریا کے صدر کو تھوڑی دیر کے لیے لکیر عبور کر کے شمالی کوریا میں قدم رکھنے کی دعوت دی۔ اس کے بعد دونوں رہنما ہاتھوں میں ہاتھ لیے دوبارہ جنوبی کوریا کی حدود میں داخل ہو گئے۔غالباً یہ لمحہ ایسا تھا جو پہلے سے طےشدہ نہیں تھا۔ملاقات کا پہلا سیشن اب ختم ہو گیا ہے اور اب دونوں رہنما الگ الگ دوپہر کا کھانا کھائیں گے۔ کم جونگ ان اپنی سیاہ لیموزین میں واپس شمالی کوریا چلے جائیں گے، اور سہ پہر کو مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے دوبارہ جنوبی کوریا کا رخ کریں گے۔اس تاریخی ملاقات میں شمالی کوریا کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کو ترک کرنے کے مقصد پر توجہ مرکوز ہو گی۔شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق کم جونگ ان نے روانگی سے قبل کہا تھا کہ وہ مون جے اِن کے ساتھ ان تمام معاملات پر بات کریں گے جن سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔کم جونگ ان ڈی ایم زیڈ تک گاڑی میں آئے لیکن اجلاس والی جگہ تک پیدل چل کر گئے۔ انھوں نے اسی حصے سے سرحد عبور کی جہاں سے حال ہی میں ایک شمالی کوریا سے بھاگنے والے شخص نے سرحد عبور کی تھی جسے شمالی کوریا کے فوجیوں نے گولی مار دی تھی۔
جمعرات, جولائی 23, 2026
تازہ خبریں:
- جماعتِ اسلامی پاکستان کے جنرل سیکریٹری امیر العظیم انتقال کرگئے
- اور ’کاکروچ‘ اکٹھے ہو گئے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- پروفیسر شوکت مغل ایک مکمل عنوان : شاکر حسین شاکر کی یاد نگاری
- حضرت زکریا ملتانیؒ کا عرس او ر شاہ محمود قریشی کی رہائی کی اپیل : ظہور دھریجہ کا کالم
- ایران پر مسلسل 11 ویں رات بھی حملے کیے: امریکی فوج کا دعویٰ
- پیٹرول کی قیمت طے کرنے میں آئل کمپنیوں کا کیا کردار رہا ؟ ۔۔ برملا / نصرت جاوید کا کالم
- ڈاکٹر وزیر آغا نقاد ،محقق ، شاعر ۔۔ ایک ہمہ جہت شخصیت : شاکر حسین شاکر کی یاد نگاری
- میسی کا جادو نہ چلا : سپین دوسری بار فٹ بال کا عالمی چیمپئن بن گیا : ارجنٹینا کے کھلاڑیوں کا ’شرمناک رویہ، مکے بھی مارے
- پیٹرول کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر تعین ، عوام کو فائدہ ہو گا یا نقصان ؟ شہزاد عمران خان کا کالم
- عمران خان کی بہن نورین خان کا افسوسناک بیان ، نتائج کیا ہوں گے ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ

