اسلام آباد : سینیٹ کے اجلاس میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف نے سرکاری اداروں سے فوجی آمروں کی تصاویر کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے ہے اور ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ اس پر فوری عمل درآمد شروع ہو جانا چاہیے۔واضح رہے کہ ایوان صدر میں تمام سابق صدور کی تصاویر آویزاں ہیں جن میں چار فوجی آمر جنرل ایوب خان، جنرل یحیٰ خان، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ ان فوجی آمروں کی تصاویر جی ایچ کیو میں فوج کے سربراہ کی حیثیت سے بھی آویزاں ہیں۔پیر کے روز پرائیویٹ ممبر ڈے کے موقع پر حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے والے سینیٹر چوہدری تنویر خان اور حزب مخالف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر فرحت اللہ بابر کی جانب سے قراردادیں پیش کی گئیں۔قرارداوں پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے متعدد ارکان کا کہنا تھا کہ جب تک عوام کو آئین میں دیے گئے ان کے بنیادی حقوق اور آئین کے بارے میں اُن میں شعور اجاگر نہیں کیا جائے گا اس وقت تک آئین کےتقدس کے بارے میں خاطر خوا نتائج حاصل نہیں ہوسکیں گے۔سینیٹ کے اراکین کا کہنا تھا کہ ملک کے تعلیمی اداروں میں آئین کا احترام بطور مضمون پڑھایا جائے اور بالخصوص ایسے اداروں میں جن کے فارغ التحصیل طلبا پاکستان کے سکیورٹی اداروں میں نوکریاں حاصل کرتے ہیں۔سینییٹر فرحت اللہ بابر نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ایسے فوجی آمر جن میں یحییٰ خان اور پرویز مشرف بھی شامل ہیں، کے بارے میں پاکستان کی سب سے بڑی عدالت ‘غاصب’ قرار دے چکی ہے ان کی تصاویر ابھی تک متعدد سرکاری اداروں میں لگی ہوئی ہیں جس سے دنیا میں اچھا پیغام نہیں جارہا۔اُنھوں نے کہا کہ جنرل ضیا الحق نے ملکی آئین کے بارے میں کہا تھا کہ یہ محض ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے جس کی اُن کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ عدالتوں سے بھگوڑا قرار دیے جانے والے فوجی آمر پرویز مشرف نے بیرون ملک بیٹھ کر ایک انٹرویو میں کہا کہ جب ملک کی سلامتی کو خطرہ ہو تو پھر آئین کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ۔ اُنھوں نے ایوان سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے کہ آئین شکنی کے مقدمے میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف عدالت میں پیش ہونے کی بجائے ہسپتال کیسے پہنچ گئے۔حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے چوہدری تنویر خان نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہونی چاہیے کہ وہ لوگوں کو ملکی آئین کے بارے میں بتائے۔اُنھوں نے کہا کہ دنیا کے جن ممالک نے آئین کا احترام کیا ہے اُنھوں نے ترقی کی ہے اور جن اقوام نے ملکی آئین کی قدر نہیں کی وہ پستی کے راستے پر ہیں۔
بدھ, ستمبر 16, 2026
تازہ خبریں:
- پیٹرول ، ڈیزل کی قیمتوں میں ستمبر کے دوران ساتویں بار اضافہ : عوام پر 41.55 روپے کا بوجھ ڈالا گیا
- حرف حق دل میں کھٹکتا ہے : وجاہت مسعود کا کالم
- آئین کے شیش محل میں پڑتی دراڑیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- اجتماعی سلامتی: تصور سے عملی حکمتِ عملی تک! امریکہ، ایران جنگ کے تناظر میں ۔۔ ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ (2)
- پیٹرول کی قیمت میں مزید پونے پانچ روپے کا اضافہ : ڈیزل بھی 6 روپے لیٹر مہنگا
- عوام سے لیڈروں کی دور ی کسی طوفان کا پیش خیمہ بنے گی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- موٹر سائیکل ، رکشا، 800 سی سی تک گاڑیوں کیلیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف
- ایران، امریکہ جنگ کےشعلے : چین چَین کی بنسری کیوں بجا رہا ہے ۔۔۔ ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ (1)
- اِس شہر کے کتنے روپ ہیں؟ ۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- دنیا میں امریکہ کا متبادل موجود نہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ

