اسلام آباد :سنیئر صحافی مطیع اللہ جان کی اہلیہ کے مطابق ان کے شوہر دارالحکومت اسلام آباد سے منگل کی صبح سے لا پتہ ہیں۔
ن کی اہلیہ کنیز صغریٰ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ مطیع اللہ جان انہیں منگل کی صبح سیکٹر جی سکس ون تھری میں سکول چھوڑنے آئے تھے تاہم اس کے بعد سے ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکا ہے۔کنیز صغریٰ نے مزید بتایا کہ ’آج صبح دس بجے مطیع اللہ جان نے مجھے اسلام آباد ماڈل سکول کے باہر اتارا جہاں میں پڑھاتی ہوں۔‘
مطیع اللہ جان کی اہلیہ کے مطابق انہیں ان کے شوہر نے تقریباً ساڑھے بارہ بجے واپس لینا تھا۔ ’تاہم وہ نہیں آئے اور وہ سکول میں ان کا انتظار کرتی رہیں۔‘
’دریں اثنا سکول کے چوکیدار نے کہا کہ آپ کی گاڑی تو باہر کھڑی ہے لیکن مجھے یقین نہیں آیا کیونکہ اگر وہ باہر ہوتے تو مجھے فون ضرور کرتے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’جب بارش تیز ہوگئی اور کافی دیر ہوگئی تو میں نے باہر جاکر دیکھا، گاڑی سکول کے صدر دروازے سے کچھ آگے کھڑی تھی۔‘
کنیز صغریٰ نے مزید بتایا کہ ’جب میں آئی تو ان کی گاڑی کھڑی ہوئی تھی اور ان کا ایک موبائل فون سیٹ پر پڑا تھا، جبکہ چابی اگنیشن میں لگی ہوئی تھی، لیکن دوسرا موبائل فون غائب تھا۔‘مطیع اللہ جان کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ تب سے اب تک ان کے بارے میں کچھ نہیں معلوم ہو سکا ہے۔
اس حوالے سے آبپارہ پولیس سٹیشن کے ڈیوٹی آفیسر اے ایس آئی نصر اللہ نے نامہ نگار عبداللہ جان کو بتایا ہے کہ مطیع اللہ کی اہلیہ کا بیان ریکارڈ کیا جا رہا ہے جبکہ پولیس افسران ان کی رہائش گاہ پر موجود ہیں۔
خیال رہے کہ مطیع اللہ جان کی بدھ کو سپریم کورٹ کے خصوصی بینچ کے سامنے توہین عدالت کیس میں پیشی ہے۔ بینچ کی سربراہی چیف جسٹس گلزار احمد کریں گے۔
سپریم کورٹ نے صحافی مطیع اللہ جان کی اعلیٰ عدلیہ سے متعلق ٹویٹ کا نوٹس لیا تھا۔ مذکورہ ٹویٹ میں مطیع اللہ جان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کے حوالے سے بینچ میں موجود ججز پر تنقید کی تھی۔
مطیع اللہ جان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی ایک ٹویٹ کی گئی ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ ’میرے والد مطیع اللہ جان کو اسلام آباد مرکز سے اغوا کر لیا گیا ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں فوری طور پر تلاش کیا جائے اور اس کے پیچھے کارفرما ایجنسیوں سے سوال کیا جائے۔‘
(بشکریہ: انڈپینڈنٹ اردو )
بدھ, اکتوبر 21, 2026
تازہ خبریں:
- ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- محترم عرفان صدیقی کی یاد میں : وجاہت مسعود کا کالم
- جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ میں سب ہم پیالہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- خضدار سے نامعلوم مسلح افراد نے مزدوروں سمیت 18 افراد کو اغوا کرلیا
- لسانیات علم ہے عقیدہ نہیں : سر جارج ابراہم گریئرسن کی خدمات ۔۔ ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- وجاہت مسعود کا کالم : آزادی صحافت ۔۔جب بھٹو لاہور کے اخبارات پر حملہ آور ہوئے
- بلوچستان میں 20 پولیس اہلکار اغوا، قلعہ عبداللہ میں پولیس چوکی مسمار
- ایٹمی پلانٹ اور ٹماٹر کا منشور : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : زبانوں کی تعداد اور یہ کیسے بنتی ہیں ؟

