ایشیا کپ کے بعد ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھی کھیل کی سپرٹ کے منافی سوچ کے تحت بھارتی ہٹ دھرمی برقرار رہی اور بھارتی ٹیم کے کپتان نے پاکستانی کپتان کے ساتھ ہینڈ شیک نہیں کیا۔
ذرائع کے مطابق بھارت کا 6 طیارے گرنے پر تاحال غصہ برقرار ہے اور پاک بھارت میچ میں ہینڈ شیک نہ کرنے کا فیصلہ بھارتی ٹیم کی جانب سے کیا گیا ہے، کرکٹ حلقوں میں افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے، کہا گیا ہے کہ ہینڈ شیک نہ ہونے سے کرکٹ کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔
میچ کے آغاز سے قبل دونوں ٹیموں کے درمیان بھی روایتی ہینڈ شیک یا رسمی مصافحہ دیکھنے میں نہیں آیا، جس پر سوشل میڈیا اور شائقینِ کرکٹ کے حلقوں میں بحث شروع ہو گئی۔
ذرائع کے مطابق ٹاس کے موقع پر دونوں ٹیموں کی ملاقات مختصر رہی اور کھلاڑی براہِ راست اپنی اپنی تیاریوں میں مصروف ہو گئے جبکہ دنیا نیوز کے ذرائع نے میچ سے قبل ہی ہینڈ شیک نہ ہونے کی اطلاع کی تصدیق کر دی تھی۔
اب شائقین کی تمام تر توجہ میدان میں جاری مقابلے پر مرکوز ہے جہاں پاکستانی بولنگ اٹیک سے توقع کی جا رہی ہے کہ ابتدائی اوورز میں حریف ٹیم پر دباؤ ڈال کر میچ کا رخ اپنے حق میں موڑنے کی کوشش کی جائے گی۔
میچ سے ایک روز قبل پریس کانفرنس کے دوران ہینڈ شیک کے سوال پر بھارتی کپتان کا کہنا تھا کہ ہینڈ شیک کے لیے 24 گھنٹے انتظار کر لو، اچھی کرکٹ کھیلنے آئے ہیں، اچھی کرکٹ کھیلیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہینڈ شیک کا سسپنس کل ختم کر دیں گے، 24 گھنٹے رک جائیں، ہینڈ شیک کا انتظار کرو، ابھی کھانا کھائیں سو جائیں کل دیکھیں کہ کیا ہوتا ہے۔
یاد رہے کہ ایشیا کپ میں روایتی حریف تین بار مد مقابل آئے تھے، تینوں بار بھارتی کپتان نے ہاتھ نہیں ملایا تھا، میچ کے بعد ٹیم بھی ڈریسنگ روم میں چلی گئی تھی۔
بھارت کے سابق مایہ ناز کرکٹر اور کمنٹیٹر سنجے منجریکر نے بھی پاکستانی کھلاڑیوں سے ہینڈ شیک نہ کرنے کے بی سی سی آئی کے فیصلے کو احمقانہ قرار دیا۔
سنجے منجریکر نے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا بھارت نے جو "ہاتھ نہ ملانے” والی حرکت شروع کی ہے یہ بڑی احمقانہ ہے، یہ ہمارے جیسے ملک کے شایانِ شان نہیں ہے۔
بدھ, اکتوبر 21, 2026
تازہ خبریں:
- ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- محترم عرفان صدیقی کی یاد میں : وجاہت مسعود کا کالم
- جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ میں سب ہم پیالہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- خضدار سے نامعلوم مسلح افراد نے مزدوروں سمیت 18 افراد کو اغوا کرلیا
- لسانیات علم ہے عقیدہ نہیں : سر جارج ابراہم گریئرسن کی خدمات ۔۔ ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- وجاہت مسعود کا کالم : آزادی صحافت ۔۔جب بھٹو لاہور کے اخبارات پر حملہ آور ہوئے
- بلوچستان میں 20 پولیس اہلکار اغوا، قلعہ عبداللہ میں پولیس چوکی مسمار
- ایٹمی پلانٹ اور ٹماٹر کا منشور : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : زبانوں کی تعداد اور یہ کیسے بنتی ہیں ؟

