بہاول پور : سرائیکی اور اردو کے نامور محقق, شاعر، استاد، سابق سٹیشن ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان بہاولپور، سابق سربراہ شعبہ سرائیکی اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور ، ڈاکٹر نصراللہ خان ناصر کا طویل علالت کے بعد چوبیس نومبر کو بہاول پور میں انتقال ہو گیا ۔
ڈاکٹر نصراللہ خان ناصر کو گزشتہ برس صدارتی تمغہ برائے حُسنِ کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔ آپ نہ صرف اردو اور سرائیکی کے بڑے شاعر تھے بل کہ ہمہ جہت شخصیت کے حامل تھے۔ تحقیق، ادب، تدریس، ارضیات اور ابلاغیات ہر میدان میں ان کی خدمات ایک روشن تاریخ رکھتی ہیں۔
ریڈیو پاکستان بہاول پور کے علاوہ انہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور میں پروگرام منیجر کی حیثیت سے بھی خدمات سر انجام دیں ۔
ڈاکٹر نصراللہ خان ناصر 3 فروری 1946 کو موجودہ ضلع رحیم یار خان، تحصیل لیاقت پور کے علاقے بستی چاکر خان، ترنڈہ گورگیج میں سردار گل محمد خان کے گھر پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بستی چاکر خان سے حاصل کی۔ میٹرک گورنمنٹ ہائی اسکول الہ آباد سے کیا۔ بی اے صادق ایجرٹن کالج (S.E کالج) سے کیا۔ ایم اے اردو ایمرسن کالج ملتان سے کیا۔ 1994 میں بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ’’سرائیکی شاعری کا ارتقاء‘‘ کے موضوع پر تحقیق کر کے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
’’سرائیکی شاعری کا ارتقاء‘‘ میں آپ نے سرائیکی شاعری کی تاریخ محفوظ کی، جو سرائیکی زبان و ادب کے لیے نہایت اہم کام ہے۔ آپ نے 1975 میں ریڈیو پروڈیوسر کی حیثیت سے براڈ کاسٹنگ کی دنیا میں قدم رکھا اور ریڈیو اسٹیشن کے ڈائریکٹر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے شعبہ سرائیکی میں بطور چیئرمین خدمات انجام دیتے رہے اور کچھ عرصہ یونیورسٹی کے کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن کے پرنسپل بھی رہے۔ ۔
ڈاکٹر صاحب ادبی دنیا میں ہمہ جہت شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے ۔ آپ شاعر، نثر نگار، ادیب، دانشور، محقق، ریڈیو پروڈیوسر، ڈائریکٹر، صداکار، ڈرامہ نگار، کمنٹیٹر اور استاد کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے ۔ زمانۂ طالب علمی سے ہی شاعری شروع کر دی تھی۔ سرائیکی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی شاعری کی۔ آپ کی شاعری کی پہلی کتاب 1969 میں شائع ہوئی اور دوسری کتاب ’’اجرک‘‘ 1990 میں سرائیکی ادبی مجلس بہاولپور نے شائع کی۔ ’’اجرک‘‘ کو اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے خواجہ فرید ایوارڈ بھی ملا۔ ’’اجرک‘‘ اسلامیہ یونیورسٹی کے جدید نظم کے نصاب میں بھی شامل ہے۔
آپ کی شاعری اور نثر کی کتابوں میں اجرک، نویں سوبھ، یہ کیسا دکھ ہے (اردو نظمیں)، معنویت، تشخص (تحقیقی و تنقیدی مضامین) شامل ہیں۔ ’’سرائیکی شاعری کا ارتقاء‘‘ کو سرائیکی ادبی بورڈ نے پہلی بار 2007 میں اور دوسری بار 2014 میں شائع کیا۔
آپ 1986 میں ریڈیو پاکستان کے حج پروگرام کی نشریات کے سلسلے میں سعودی عرب گئے۔ 1990 میں چیمپئنز ٹرافی ہاکی ٹیم کے ساتھ میلبورن، آسٹریلیا میں نشریاتی ذمہ داریوں کے سلسلے میں سفر کیا ۔ حکومتِ پاکستان نے آپ کی ادبی خدمات کے اعتراف میں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی دینے کا اعلان 23 مارچ 2024 کو کیا۔
ان کی نماز جنازہ 25 نومبر دن 11 بجے کینال کالونی بہاولپور کے گراؤنڈ میں ادا کی جائے گی ۔
اردو اور سرائیکی کے نام ور شاعر ، براڈکاسٹر اور ماہرِ تعلیم نصر اللہ خان ناصر انتقال کر گئے
ایڈیٹر40 Views

