ایک گاؤں میں ایک بڑا چالاک اور لالچی جاگیردار رہتا تھا اور کسی کو اپنے خلاف سر نہ اٹھانے دیتا اور جو چیز اس کو پسند آتی اس کو ” ہر حربہ” سے حاصل کر لیتا اس کے پاس کئی بیش قیمت مویشی گائے اور کئی اعلیٰ نسل بیل بھی تھے ایک دن وہ گاؤں کی سیر کو نکلا تو ایک کوہلو میں اس ہو ایک نہایت خوبصورت بیل نظر آیا اس نے تیلی کو بلایا اور بیل فروخت کرنے کے لئے کہا جس پر تیلی نے نہایت ادب سے فروخت کرنے سے انکار کر دیا کہ یہ بیل اس کے بیٹے کو بڑا عزیز ہے وہ اس کو کوہلو میں بھی نہیں جوتتا ، بس کھل اور بنولہ پر پال رہا ہے اس پر جاگیردار نے اس کو اپنا خوبصورت ترین بیل اور کچھ رقم بھی دینے کا کہا مگر وہ نہ مانا ۔
جاگیر دار اس انکار پر سیخ پا تو ہوا مگر اپنا انسان دوست اور انصاف پسند امیج رکھنے کے لئے خاموش ہو گیا مگر بیل حاصل کرنے کی خواہش جوں کی توں رہی۔
اس جاگیردار نے دل میں ٹھان لی کہ وہ اس بیل کو حاصل کرنے کے لئے ‘ ہر حربہ استعمال کر ے گا ” یوں اس نے اپنے مشیروں کا اجلاس کئی بار بلایا کہ بیل کیسے حاصل کیا جائے آخر کار ایک تجویز سوجی کے تیلی کو اپنے بیل پر بڑا ناز ہے اس کو انعام و اکرام کا لالچ دے کر پوائنٹ سسٹم پر بیلوں کی لڑائی کرائی جائے اور جو اس لڑائی میں ہار جائے تو اس کا بیل ضبط کر لیا جائے باقی ریفری جانیں اور دنگل کے منصف جاگیردار کا بیل گو کہ خوبصورت تھا مگر تھا شاہی محل میں شاہیں خوراک و ناز و نعم سے پالا ہوا اور لڑائی سے ناواقف ، لوگوں کو اور تیل کو یقین تھا کہ اس کے طاقتور بیل کا مقابلہ جاگیردار کا "لاڈلا بیل ” نہیں کر سکے گا مگر تیلی کی شومئی قسمت لڑائی کی ابتدا میں ہی اس کے بیل کی پہلی ٹکر سے جاگیردار کا بیل مر گیا اور عجب ہنگامہ کھڑا ہو گیا کہ مقابلے میں بیل کا مرنا شامل نہ تھا تو اس معاملے پر ایک ریفرنس گاؤں کے پنچایت کو بھیجا گیا ابتدا میں فیصلہ تیلی کے حق میں آیا ، مگر جاگیردار کہاں چین سے بیٹھتا کہ لینے کے دینے پڑ گئے اور تیلی کا بیل کیا آتا اپنا "لاذلا بیل” بھی گیا اور عزت بھی ، اس نے اپنی بڑوں کو اس معاملے میں ڈالا تو انہوں نے قاضی جو درخواست دی تو اس نے کافی سوچ بچار کے بعد اپنے تجربے کی بنیاد پر لال کتاب سے مدد لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے فریقین کو سمن جاری کئے اور اور فریقین کو سننے کے بعد لال کتاب کھولی اور فیصلہ سنانا شروع کیا جو کہ سرائیکی نظم کی صورت میں ہے
لال کتاب بلیندی ہے یوں
تیلی ڈاںند لڑایا کیوں
کھل کھوا کے کیتس موٹا
ڈاںند دا ڈاںند , ڈاھ روپے اوپر چوٹا
ترجمہ
لال کتاب کے مطابق ایک بدذات تیلی نے جاگیردار کے بیل سے اپنا بیل کیوں لڑایا ، چونکہ اس کا بیل کھل بنولہ کھا کر موٹا تازہ تھا جو کہ لڑائی کے SOP کی خلاف ورزی ہے اس لئے بیل کے بدلے بیل ضبط اور قوانین کی خلاف ورزی پر بیل کی قیمت سے دس گنا جرمانہ ۔
چونکہ مہر یوسف رضا گیلانی کے نام پر لگی ہے اس لئے سات ووٹ کینسل ورنہ نام کے آگے خالی جگہ مہر پر 42 ووٹ بھی کینسل ہو سکتے تھے شکر کریں لال کتاب سے فیصلہ نہیں ہوا۔
Previous Articleوسعت اللہ خان کا کالم:یہ تو ہونا ہی تھا
Next Article امتیاز عالم کا کالم:خفیہ ووٹ کی کرشمہ سازی

