Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
جمعہ, اکتوبر 23, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
  • خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم
  • جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹ کر دینے کا حکم: مظفر گڑھ میں پنچایت کا فیصلہ ، چار افراد گرفتار
  • مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم
  • سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی
  • پولیس حراست میں ملزم کی ہلاکت قومی انحطاط کی علامت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
  • لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
  • محترم عرفان صدیقی کی یاد میں : وجاہت مسعود کا کالم
  • جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ میں سب ہم پیالہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » محمود شام کا کالم: 1973متفقہ آئین، گولڈن جوبلی سب منائیں
لکھاری

محمود شام کا کالم: 1973متفقہ آئین، گولڈن جوبلی سب منائیں

ایڈیٹرمارچ 2, 20233 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

بحران گھمبیر ہوتا جارہا ہے۔ آسمان سے بھی سوال اتر رہے ہیں۔ زمین کی گردشیں بھی بہت کچھ پوچھ رہی ہیں۔ محسوس ہورہا ہے کہ سب پھنس گئے ہیں۔ ہر طرف کنٹینرز لگے ہیں۔ مراجعت ہوسکتی ہے۔ نہ پیش رفت۔جہاں پنجاب کی سندھ اور بلوچستان سے سرحدیں ملتی ہیں۔ وہاں عوام کی بڑی تعداد نے موجودہ صوبائی اور وفاقی حکمرانوں کے خلاف اپنا فیصلہ دے دیا ہے۔ قانونی برادری میں بھی موجودہ حکومتوں کے حامی وکلا ہار رہے ہیں۔
سب حق سچ کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔
رات بھیگ رہی ہے۔ نوجوانوں، عمر رسیدہ پاکستانیوں، خواتین کا بڑا اجتماع ایکسپو سینٹر کراچی میں پاکستان بھر سے ،دوسرے ملکوں سے آئے ہوئے شعرا، شاعرات کو توجہ سے سن رہا ہے۔ جس شعر میں سوال ہوتا ہے وقت کو چیلنج کیا جاتا ہے۔ اس پر یہ مجمع پھڑک اٹھتا ہے۔ مشاعرے ہماری تہذیبی روایت ہیں۔ یہ ہمارے جذبات کو ترتیب دیتے ہیں۔ ہمیں جھاڑیوں بھری پگڈنڈیوں سے موٹر وے پر لے آتے ہیں۔ کئی کئی گھنٹے دریوں پر جم کر بیٹھے یہ سامعین بھی ذہنوں میں بہت سے سوالات لے کر آتے ہیں۔ آرزو یہ ہوتی ہے کہ شاید کسی غزل سے انہیں منزل کا اشارہ مل جائے۔عالمی مشاعرے کیلئے ساکنان شہر قائد کتنی تگ و دو کرتے ہیں۔ محمود احمد خان، فرحان الرحمٰن، جمال، عدیل اور جانے کتنے لوگ رات دن لگتے رہتے ہیں۔ خواہش یہی ہوتی ہے کہ بھٹکتے مسافروں کو وہ راستہ دکھائیں جو منزل تک لے جاتا ہے۔ یہاں ساری سیاسی پارٹیاں آتی ہیں۔ پی پی پی کے وقار مہدی ہیں۔ جو اَب سینیٹ کے رکن ہیں۔ پی پی پی کو یہ داد تو دینی چاہئے کہ وہ اپنے پرانے کارکنوں، متوسط طبقے کے لوگوں کو ایوان بالا تک پہنچانےکا فیصلہ کرتی ہے۔ ایک ہوجانے والی ایم کیو ایم کے فاروق ستار، خالد مقبول صدیقی، مصطفیٰ کمال الگ الگ آرہے ہیں۔ سامعین میں حیدر عباس رضوی بھی ہیں۔ میرے ساتھ انٹرنیشنل سامع جہانگیر خان بیٹھے ہیں۔ لاہور،ملتان، سبّی اور اسلام آباد سے آئے ہوئے معزز مقبول شعراء۔ شہر قائد کے ساکنوں کا بلند شعری ذوق ملاحظہ کررہے ہیں۔پاکستان کے عوامی ذہن کے رجحانات اگر کوئی ادارہ حقیقی انداز میں جانچنا چاہے تو مشاعروں کے اشعار اور سامعین کی داد سے مدد مل سکتی ہے۔ یہاں دریوں صوفوں کرسیوں پر پاکستان کی ساری نسلیں بیٹھی ہیں۔ نائن الیون کے بعد پیدا ہونے والی۔ پاکستان ٹوٹنے کے بعد آنکھیں کھولنے والی۔ بہت سے ایسے بھی ہیں جنہوں نے پاکستان بنتے ٹوٹتے دیکھا۔ وہ بھی ہیں جو ارب پتی بلکہ کھرب پتی ہیں۔ وہ بھی جو روزانہ کمانے کیلئے نکلتے ہیں۔ لیکن سب کی تشویش ایک سی ہے۔ گورنر کامران ٹیسوری بھی اُردو کے عشق میں اپنے لائو لشکر کیساتھ آئے ہیں۔سوالات ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ سوال کرنیوالی قومیں ہی آگے بڑھتی ہیں۔ اور جس دَور میں ہم سانس لے رہے ہیں وہاں سوال کرنے پر ہی ہتھکڑیاں لگ جاتی ہیں۔ اب اینکر پرسنوں۔ سیاسی عہدیداروں کیساتھ80سالہ لیفٹیننٹ جنرل(ر) امجد شعیب بھی کٹہرے میں لائے جارہے ہیں۔ مشاعرے سے رات کے پچھلے پہر فارغ ہونے کے بعد ہمیں اگلی صبح بزم مکالمہ میں پیش ہونا ہے۔پیاسوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ طارق جمیل اور انکے رفقا کسی صاحب فکر و نظر کو پچاس منٹ دیتے ہیں کہ وہ مقررہ موضوع پر زبانی یا تحریری اپنے خیالات کو بیان کرے۔ پھر سامعین کے سوالات ہوتے ہیں۔ ان میں سابق بیورو کریٹ، تاجر،صنعت کار، شاعر، لیکچرراور ڈاکٹر ہوتے ہیں۔ ایسی نشستیں ملک بھر میں ہورہی ہیں۔ بہت اہم سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ سود مند تجاویز پیش کی جاتی ہیں یہ نشستیں قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کے اجلاسوں سے زیادہ پُرمغز ہوتی ہیں۔ خلوص نیت ہر لحظہ غالب ہوتا ہے۔ کاش کوئی بڑا میڈیا انکی رُوداد سے عوام کو آگاہ کرے۔ موضوع تھا۔ ’’پاکستان میں سیاسی نظام کی ناکامی کے اسباب۔‘‘میں نے 100 سوالات کے ذریعے 1947 سے 2023 تک کا جائزہ لیا ہے۔ بہت انہماک سے میری معروضات سنی گئی ہیں۔ اس کے بعد سوالات۔ جن سے نرا خلوص جھلکتا ہے۔
اسی دوپہر کے بعد میری سہ پہر سندھ اسمبلی کے نئے آڈیٹوریم میں گزرتی ہے۔ موضوع ہے۔’’1973کے آئین کی گولڈن جوبلی‘‘ ایک متفقہ منظور شدہ آئین اگر پچاس سال سے موجود ہے۔ تو ایک شایان شان تقریب کا حق تو بنتا ہے۔ مگر یہ خوشیاں صرف پی پی پی کیوں منارہی ہے۔ یہ تو پاکستان کی ہر پارٹی ہر ادارے۔ ہر شعبے کی ذمہ داری ہے۔ آئین تو سب کیلئے ہے۔ جنرل ضیا الحق کی سفاکی بھی یہ آئین برداشت کرگیا۔ جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت کی طالع آزمائیاں بھی۔ یہ ساری سیاسی پارٹیوں کی عرق ریزی کا مرقع ہے۔ اسلئے اسے 1956اور 1962ء کےدساتیر کی طرح منسوخ کرنے کی ہمت نہیں ہوئی ہے۔ مجھے اس ہال میںبہت سی بہنیں۔ بھائی نظر آرہے ہیں۔ جنہیں میں شہر قائد کی سڑکوں چوراہوں پر آنسو گیس کی بوچھاڑ میں لاٹھیاں کھاتے دیکھ چکا ہوں۔ اسٹیج پر بلاول بھٹو زرداری ہیں ۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ ۔ سابق وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ جو 1973 کی آئین ساز کمیٹی کے ارکان میں سے زندہ آخری رکن ہیں۔ 18ویں ترمیم کے لئے رتجگے کرنے والے میاں رضا ربانی ہیں۔ جسٹس(ر) رشید اے رضوی۔ جسٹس (ر) مقبول باقر۔ اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج الدین۔ اس تقریب کے مہتمم نثار کھوڑو، سعید غنی میرے ساتھ بیٹھے ہیں۔سینیٹر وقار مہدی ۔ اسٹیج پر کوئی خاتون نہیں ہے۔ اہم نکات اپنائے جارہے ہیں۔ میں یہ تجویز دے رہا ہوں کہ 12اپریل 2023ء کو جب آئین کے پچاس سال پورے ہوں۔ تو اس آئین کو منظور کروانے والے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی آخری آرام گاہ گڑھی خدا بخش بھٹو پر موجودہ وزیر اعظم،انکی کابینہ، چیف جسٹس، آرمی چیف، قومی اسمبلی کے اسپیکر اور سینیٹ کے چیئرمین سب حاضری دیں۔ اس موقع پر مولانا مفتی محمود ۔ خان عبدالولی خان۔ پروفیسر غفور احمد۔ مولانا شاہ احمد نورانی۔ سردار شیر بازمزاری۔ غوث بخش بزنجو۔ سب کو یاد کیا جائے۔ میاں محمود علی قصوری اور عبدالحفیظ پیرزادہ کو بھی خراج عقیدت پیش کیا جائے۔ بعد میں یہ عہد بھی کریں کہ اس آئین کی حدود میں رہتے ہوئے آگے بڑھیں گے۔ نعرے بلند ہورہے ہیں۔’’وزیر اعظم بلاول‘‘۔ نعرے لگانے والی اس نسل کے دادا ،نانا کے نعرے سن چکا ہوں۔ ’بھٹو جیوے۔ صدر تھیوے‘ پھر ان کی اگلی نسل ’وزیر اعظم بے نظیر‘۔ اب تیسری نسل یہ نعرے لگارہی ہے۔ کہیں نعرے بلند ہوتے ہیں۔ وزیر اعظم مریم نواز اور آج کل کی مقبول پی ٹی آئی کا نعرہ ہے ’وزیر اعظم عمران‘۔
مگر وزیر اعظم بنانے کے فیصلے تو کہیں اور ہوتے ہیں۔ وہاں پتہ نہیں کوزہ گر کس کیلئے چاک گھمارہے ہونگے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleنصرت جاوید کا تجزیہ :”آئینی بندوبست“ اور عدلیہ ریاست کا سب سے بڑا ستون ؟
Next Article ظفر آہیرکا کالم:جناب وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف صاحب
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم

اکتوبر 23, 2026

خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم

اکتوبر 23, 2026

جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹ کر دینے کا حکم: مظفر گڑھ میں پنچایت کا فیصلہ ، چار افراد گرفتار

اکتوبر 23, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم اکتوبر 23, 2026
  • خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم اکتوبر 23, 2026
  • جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹ کر دینے کا حکم: مظفر گڑھ میں پنچایت کا فیصلہ ، چار افراد گرفتار اکتوبر 23, 2026
  • مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم اکتوبر 23, 2026
  • سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی اکتوبر 22, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.