پاکستان جب 2022میں ڈائمنڈ جوبلی منارہا ہوگا تو پاکستان بنتا دیکھنے والوں کی تعداد بہت کم رہ گئی ہوگی۔ جبکہ پاکستان کو ٹوٹتا دیکھنے والوں کا تناسب بڑھ چکا ہوگا۔
پاکستان کی ہم عمر نسل یا اس سے کچھ بڑے، تحریک پاکستان میں سرگرم حصہ لینے والے یا تو رخصت ہوچکے ہوں گے یا اگر ہوں گے تو بہت نحیف و نزار۔ کچھ کرسکنے والوں اور معاشرے میں کاروبار، ملازمتوں، میڈیا، درسگاہوں میں اکثریت ان پاکستانیوں کی ہوگی جو 1971سقوط ڈھاکہ کے بعد کی پیدائش ہیں۔
نعرے باز اور لمحۂ موجود کا جشن منانے والے تو اس بات کا تردد نہیں کرتے کہ 2022میں اکثریت ان ذہنوں کی ہوگی جن کی پرورش المیوں نے کی ہے۔ وہ نسل جاچکی ہوگی جس کا ایمان اور تصور یہ تھا کہ وطن ٹوٹ نہیں سکتا۔ اب موجود اکثریت اس انہونی سے گزر چکی ہے کہ وطن ٹوٹ بھی جاتا ہے ۔ مسلمان سپاہ کو شکست بھی ہوسکتی ہے۔
آپ میری معروضات غور سے پڑھتے ہیں۔ آپ کے تبصرے میرا خون بڑھاتے ہیں۔میری کوشش تو یہ ہے کہ ہم مل جل کر وہاں پہنچیں۔ جہاں ہمیں 73 سال بعد ہونا چاہئے۔ یہ منزل صرف اور صرف تحقیق ،وہ بھی غیر جانبدارانہ، دلاسکتی ہے کہ ہم پیچھے رہ کیوں رہ گئے ہیں۔ ایک طرف کارواں کو یہ احساس زیاں ہو۔دوسری طرف ادراک کہ آج کی تیز رفتار دنیا میں جدید ترین ٹیکنالوجی کے وسائل کے ساتھ ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔2022میں پاکستان کی آبادی کا اندازہ 23کروڑ کہا جارہا ہے۔ایک تحقیق دلچسپ لگی کہ دنیا کی آبادی میں ہمارا تناسب 2.56فیصد ہے۔ دنیا کے ہر 39 افراد میں ایک پاکستانی ہے۔
ایک نسل کی اوسط مدت 20 سے 30 سال بتائی جاتی ہے۔ جس عرصے میں بچہ پیدا ہو۔ بڑا ہو اور بالغ ہوجائے ہمارے دستور کے مطابق اسے شناختی کارڈ مل جائے۔ اس حساب سے پاکستان میں چوتھی نسل باگ ڈور سنبھال رہی ہے۔ اس نسل کی سوچ کیا ہے۔ ذہنی رویے کیا ہیں۔ دیکھئے ہمارے ہاں جاگیرداری ختم ہوئی ہے نہ سرداری۔ان علاقوں میں انسانوں کی اکثریت اب بھی 18ویں صدی میں زندگی بسر کررہی ہے مگر ذہنی طور پر وہ ان جکڑ بندیوں سے آزاد ہوچکی ہے کیونکہ اسمارٹ فون اس کے پاس ہے۔ اپنے قبائلی نظام کے باعث چاہے وہ خود اپنے فیصلے کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ مگر ڈیٹا اس کے پاس ہے۔ وہ 80 اور 90 کی دہائیوں کی اکثریت کے مقابلے میں کہیں زیادہ باشعور بھی ہے اوربا اختیار بھی۔
آج کے دور کا ایک اور مثبت پہلو یہ ہے کہ اپنی نوجوان اکثریت کی خواہش اور تمنائیں پہلے کی طرح ان کے دلوں میں ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔وہ فیس بک۔ ٹوئٹر۔ انسٹاگرام۔ واٹس ایپ پر بکھری ہوئی ہیں۔ یہ نوجوان اکثریت حساس بھی ہے اور بے چین بھی۔ اس کا اظہار وہ روزانہ ہی بے دریغ کررہی ہے۔ فیصلہ کرنے والی قوتوں کے لیے آسانی پیدا ہورہی ہے۔ ہمیں یہ دو سال غنیمت سمجھنے چاہئیں۔ اسکولوں، کالجوں،یونیورسٹیوں میں مسلسل اگر 2 سالہ تقریبات کا لائحہ عمل طے کیا جائے۔ واہگہ سے گوادر تک درسگاہوں میں پرورش اور تربیت پاتے 15سے 25سال تک کے پاکستانیوں کو ان تقریبات میں شامل کیا جائے تو اس سے پوری قوم کی تحلیل نفسی بھی ہوگی اور ان توانائیوں کو ایک سمت میں لیجانے کا اہتمام بھی ہوگا۔ بہت سے سوالات کے جوابات بھی مل جائیں گے۔
ایک کھلی حقیقت یہ ہے جو ہمارے فائدے میں بھی جاتی ہے کہ 1947کی طرح ہم ان علاقوں کے لوگوں کے مزاج، رجحانات اور عادات سے بے خبر نہیں ہیں۔73سال سے ساتھ رہتے ہوئے ہم اپنے ساری وحدتوں میں آباد ہم وطنوں کو درپیش مسائل سے بھی آگاہ ہیں۔ان مسائل کے حل کے لیے ذہن بھی ہمارے پاس ہیں وسائل بھی ہیں اورہماری ترقی کا خواہاں عظیم دوست ملک چین بھی ہمارے ہم قدم ہے۔پہلے کی طرح ان علاقوں پر ہم اپنی مرضی مسلط نہیں کرسکتے۔ہمارے درمیان ایک عمرانی معاہدہ ہے۔ 1973کا متفقہ آئین ہمیں راستے دکھاتا ہے۔ سوشل میڈیا سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ کس علاقوں کے دماغوں میں سکون ہے کہاں کہاں بے چینی ہے ۔فیس بک اور واٹس ایپ بتاتے ہیں کہ جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں نوجوان بہت حساس ہیں محرومیاں اپنے شباب پر ہیں۔ ان سے کھل کرباتیں ہونی چاہئیں۔ ان مسائل کا حل استدلال اور وسائل کے تناظر میں تلاش کرنا ہے۔تلاش کے اس سفر میں انہیں ساتھ لے کر چلیں تو ان کی ذہنی تسکین بھی ہوگی اور انہیں فیصلہ سازی میں شرکت کا احساس بھی ہوگا۔ہم اپنے یکطرفہ فیصلوں سے نوجوانوں کا اعتبار کھو چکے ہیں۔ ریاست کے ادارے ہوں یا حکومت کے۔ میڈیا ہو یا علماء۔ پارلیمنٹ کے ارکان ۔ ان کی مسلسل غیر سنجیدگی کے سبب عوام کو ان پر اعتماد نہیں رہا۔ شکوک و شبہات بڑھ رہے ہیں۔ بے یقینی غالب آرہی ہے۔ طنز و تشنیع۔ نکتہ چینی ان کا شیوہ بن گئی ہے۔ اعتماد کی بحالی اوّلیں قدم ہونا چاہئے۔
پہلے کی طرح اب ذہن بند ہیں نہ راستے۔ ٹیکنالوجی نے بھی رابطے بڑھادیے ہیں۔ موٹر وے نے پاکستانیوں کو ایک دوسرے کے قریب کردیا ہے۔ زمین پر شاہراہیں بن چکی ہیں۔ اب ذہنوں میں شاہراہیں کھولیے۔ ہجرتیں بڑھ رہی ہیں۔ انصارکی آج بھی ضرورت ہے۔ ذہنوں میں نظریات کے سیلاب امڈے ہوئے ہیں۔ ان کو راستہ دینا وقت کا تقاضا ہے۔ ہماری پور ی توجہ کالجوں یونیورسٹیوں اور دینی مدارس پر مرکوز ہو۔ جہاں ہمارا مستقبل پرورش پارہا ہے۔یہاں 2005 کے زلزلے کے آس پاس جنم لینے والی نسل بھی ہے اور پاکستان کے قابل فخر ایٹمی دھماکے کے دنوں میں پیدا ہونے والی بھی۔ ان کے ذہنوں میں تڑپتے سوالات کے جواب ان 2 سال میں دینے کا اور کچھ نہ چھپانے کا اہتمام کریں۔یہ نسل قیادت سنبھال سکتی ہے۔ –
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)
Previous Articleخبردار! احتیاط نہ چھوڑیں۔۔حامد میر
Next Article ہوگی اِک دعوتِ شیراز۔۔ڈاکٹر صغرا صدف

