16۔اپریل کو جرمنی نے اپنے آخری تین ایٹمی اثاثوں کو ختم کرنے کا جشن منایا۔ بچے بوڑھے سب شامل تھے کہ یہ ایک مصیبت اور بلا سر سے ٹلی۔ دوسری طرف پاکستان اور انڈیا ہیں کہ اپنی ایٹمی قوت کو اپنے پورے وجود پر اٹھائے اٹھائے دنیا میں پھر رہے ہیں۔ جبکہ غربت میں ہم ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کیلئے ، کبھی قانون بدلتے ہیں توکبھی دونوں ممالک ایک دوسرے سے بڑھ کر دشمنی ظاہر کرنے کیلئے پانی کے مسئلے پر الجھتے ہیں، حالانکہ یہ معاہدہ پنڈت نہرو کی زندگی میں طے پا گیا تھا، یہ دو ملک صلح کی نیت ہی نہیں رکھتے خاص طور پر مودی جی تو انڈیا کی تاریخ کو اسی طرح مسخ کر رہے ہیں۔ جیسے انگریز، کلرکوں والا نصاب ہمارے تعلیمی اداروں میں نافذ کر گئے جس کو بدلنے کی کوشش بھی کی تو تاریخ جغرافیہ چھوڑ کر۔ موسمیاتی تبدیلیوںکے مطابق شہری اور دیہی زندگی اور زمین کی روئیدگی دیکھ کر فصلوں کو زیادہ طاقتور بنانے اور فی ایکڑ پیداوار بڑھانے سے متعلق ، اتنی بنیادی تبدیلی تو کریں کہ ہم گندم اور چینی کی پیداوار میں آج سے پچاس برس کی طرح خود کفیل ہو جائیں۔ ہمارے بہت سے نوجوان زراعت کے شعبے میں نت نئی معلومات لے کر واپس وطن آئے ہیں۔ ان نوجوانوں کو اپنے وطن میں کچھ نیا کرنے کیلئے ماحول فراہم کریں اور ہم کبھی روس اور کبھی سعودیوں سے مانگے تانگے کے سرمائے پہ اپنے وطن کو مزید ذلیل و خوار نہ کریں۔ ساتھ ہی ساتھ یہ مفت آٹا تو کبھی مفت لیپ ٹاپ کی لت مت لگائیں۔ البتہ وہ نئی اسکیم جس کے تحت نوجوانوں کو ہنر سکھانے کے منصوبے شروع کئے گئے ہیں۔ اس کو مستحکم کریں تین سے چھ ماہ کی تربیت کے بعد، ان کو ’’آن جاب‘‘ ٹریننگ مع تنخواہ دینے کے منصوبے بنائیں۔ اچھے ہنر مندوں کو فیکٹریوں میں ملازم کروائیں۔ مگر کب اور کیسے کہ روز حکومت آرہی ہے،جا رہی ہے کہ نعروں کی جگہ عدلیہ خود کو بھی بچائے اور سیاست کو کسی پٹری پر چلنے تو دیں یہ لکھتے ہوئے مجھے علامہ اقبال کیوں یاد آئے سبب یہ کہ گزشتہ دو مہینوں میں ایران اور سعودی عرب کی آٹھ سالہ رنجش کے خاتمے اور دوسرے مسلمان ممالک کے درمیان مفاہمت کے راستےکھلنے اور تجارتی روابط کو مستحکم کرنے کیلئے، ایک دوسرے کی قدرتی دولت کو عوامی طاقت میں بدلنے کے منصوبے اور شراکت داری قائم ہو تو کل کلاںپاکستان کا غربت میں سب سے کمزور ممالک میں شمار نہ ہو۔
میرا چھوٹا بیٹا امریکہ سے پاکستان عید منانے کیلئے آیا ہے۔ روز جب شام کو سڑک پر نکلتا ہے تو سامنے ہر موڑ اور چوراہے پر فقیر عورتوں اور بچوں کو دیکھ کر افسردہ ہو کر پوچھتا ہے ’’اماں ہمارے بچپن میں تو ایک آدھ فقیر ہوتا تھا۔ عورتیں اور بچے تو نہیں بس بڑے بوڑھے سڑکوں پر کنارے بیٹھے نظر آتے تھے، وہ بھی ہر گاڑی کے ساتھ دوڑ کے لٹک نہیں جاتے تھے۔ یہ لوگ کہاں سے آئے ہیں ۔ دوسری طرف مٹھائی والے سے پوچھا کہ تم لوگ روز کے کتنے سموسے اور پکوڑے بناتے ہو۔ جواب تھا دو ہزار سموسے اور پانچ کلو پکوڑےکم ازکم روز بنتے ہیں۔ جلیبیاں اور پھینی تو سحری کے وقت بھی پراٹھوں، نہاری اور لسی کے ساتھ بہت اچھی سیل ہوتی ہے۔ ساتھ ہی ہر گلی اور مسجد کے اندر اور باہر تھالیاں بھر بھر کے پلاؤ، قورمہ اور نان کھاتے لوگ نظر آتے ہیں۔ ان کو کھلانے والے بہت سے نوجوان بھی نظر آتے اور بڑی توجہ کے ساتھ ہر ایک کی خدمت کرتے ہیں۔ پھر بھی ٹی وی پر ہر دیہات اور ہر بازار میں لوگ شکایت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب بھی نکلتا ہے کہ ہمیں مانگتے رہنے کی عادت پڑ گئی ہے۔ یہ بھی وہی کھلا تضاد ہے کہ جو سفید پوش ہیں۔ وہ روکھی سوکھی کو خدا کی دین کہہ کر پانی پی کر سو جاتے ہیں، جیسے حکومتوں کو مانگنے اور منع کرنے کے باوجود، روز افطار پارٹیاں دیکھ کر کبھی اپنے آپ سے شرمندگی ہوتی ہے۔ اب تو چین اور سعودی عرب تک ہمیں طعنے دیتے ہیں کہ ہم امدادی رقوم آپ کے ہاتھ میں نہیں دینگے بلکہ ہم خود لوگوں کو گھر بنا کر، پل اور سڑکیں بنا کر دینگے ۔مزاروں پر کچھ لوگ چادریں خرید کر چڑھا کر اپنی مراد حاصل کرنے کی دعا کرتے ہیں ، انہی چند لمحوں میں وہ چادر پھر بازار میں فروخت کرنے کے لئے رکھ دی جاتی ہے۔
جب مودی جی نے سرکار اجاڑنے کیلئے سنبھالی تو ہر طرف گائو ماتا، گائو ماتا ، کہتے ہوئے جتھے مسلمانوں کے باورچی خانوں تک میں جھانکتے رہے کہ کہیں گائے کے گوشت کی بوٹی تو نہیں، ساتھ ہی فلمی ادا کار اکشے کمار نے کہنا شروع کیا کہ میں تو روز گائے کا پیشاب پیتا ہوں اتنےبرسوں کے کھیل کے بعد اب خود انڈیا کے ڈاکٹروں نے کہنا شروع کیا ہے کہ گائے کے پیشاب کو پینا، بالکل غیر صحت مند رویہ ہے۔ ہم پاکستانیوں نے توپیری فقیری کو دھندا بنایا ہوا ہے۔ ایک تو ہر وزیر اعظم نے اپنی پسند کا فقیر رکھا تھا۔ عورتوں نے ہوشمندی سیکھی تو آگاہ ہوئیں کہ یہ کام صرف مردوں کے کرنے کا نہیں، عورتیں ان سے بھی بہتر کر سکتی ہیں۔ تبھی تو میرے ساتھ شادی کرو گے تووزیر اعظم بنو گے۔ ایسا دل کو بھایا کہ اب تک، یہ مجبوری یا محبت کسی عالم کی نگاہ میں عدت کے دوران شادی اور دوبارہ دو ماہ بعد نکاح کے بارے میں نہ اشرفی صاحب بول رہے ہیں اور نہ مولانا آزاد کے پوتے، رویت ہلال کے علاوہ کوئی اور بات چھیڑتے ہیں جبکہ ایک ڈرامے میں ثمینہ پیرزادہ اور ان کے شوہر نے کام کرتے ہوئے طلاق کا کہا تو مولویوں نے ان دونوں پر دوبارہ نکاح کرنا واجب ٹھہرایا۔ خیر ہر زمانے کے پیر شریف ہوتے ہیں اور اب تو خواتین کا بھی فالتو وقت، استخارہ کرتے ہوئے گزرتا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)
فیس بک کمینٹ

