ہیگ : عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی کا کیس نہ سننے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف نسل کشی کا مقدمہ چلانے کا اعلان کردیا تاہم جنگ بندی کا حکم دینے میں ناکام رہی۔
ڈان نیوز کے مطابق عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ اسرائیل نے حماس کے حملے پر بڑے پیمانے پر غزہ میں کارروائیاں کیں جس سے غزہ تباہی کی داستان بن چکا ہے، اقوام متحدہ کے مطابق غزہ رہنے کے قابل نہیں رہا، اقوام متحدہ کے کئی اداروں نے اسرائیل کے خلاف قراردادیں پیش کیں۔7 اکتوبرکے بعد غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، ہزاروں افراد جاں بحق اور 63 ہزار سے زائد زخمی ہوئے، 9 اکتوبر کو اسرائیلی وزیردفاع نے غزہ کے محاصرے اور بجلی پانی بند کرنے کا اعلان کیا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق غزہ میں انسانی المیہ جنم لے رہا ہے، اسرائیل کے حملوں سے غزہ کے انفرااسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، فلسطینیوں کو عالمی انسداد نسل کشی معاہدوں کے تحت مکمل تحفظ حاصل ہے، عدالت غزہ میں فلسطینیوں کو نسل کشی کی کارروائیوں سے محفوظ رکھنے کے حق کو تسلیم کرتی ہے اور اسے نسل کشی کنونشن کے تحت کیس سننے کا اختیار ہے۔
فیصلے میں بتایا گیا کہ اسرائیل کے خلاف غزہ میں نسل کشی کا کیس خارج نہیں کریں گے، اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی روکے۔عالمی عدالت انصاف میں کیس کا فیصلہ سنانے کے دوران 17 رکنی پینل میں سے 16ججز موجود تھے جن میں سے 15 ججوں نے اس فیصلے کی تائید کی۔
عالمی عدالت انصاف نے جنوبی افریقہ کی درخواست پر فیصلہ سنایا ہے، عالمی عدالت انصاف نے اسرائیل کی کیس نہ سننے کی درخواست مسترد کردی۔یاد رہے کہ عالمی عدالت انصاف میں جنوبی افریقہ نے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا الزام اسرائیل پر عائد کرتے ہوئے مقدمہ دائر کیا تھا جس کے بعد عالمی عدالت میں کارروائی جاری تھی، 11 اور 12 جنوری کو ہونے والی سماعت میں جنوبی افریقہ اور اسرائیل نے دلائل پیش کیے تھے۔جنوبی افریقہ نے سماعت کے دوران اسرائیل کے خلاف عارضی اقدامات کی استدعا کی تھی۔
اس دوران اسرائیل نے عالمی عدالت انصاف میں غزہ میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کو قرار دیا تھا۔اسرائیل نے غزہ میں 26 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی اموات کے باوجود عالمی عدالت انصاف میں سماعت کے موقع پر اپنی کارروائیوں کو فلسطینیوں کی نسل کشی کی مہم ماننے سے انکار کرتے ہوئے الزامات کو جھوٹا اور مسخ شدہ قرار دے دیا تھا۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے عالمی عدالت میں مؤقف اپنایا کہ وہ اپنے دفاع کا حق استعمال کر رہا ہے اور ان کی لڑائی فلسطینیوں سے نہیں بلکہ حماس سے ہے۔
انہوں نے عالمی عدالت انصاف سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مقدمے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے جارحیت کو روکنے کی جنوبی افریقہ کی درخواست کو مسترد کرے۔عدالت میں اسرائیل کے وکیل میلکم شا نے دلیل دی کہ یہ کوئی نسل کشی نہیں ہے۔
واضح رہے کہ 7 اکتوبر کو حماس کی جانب سے کیے گئے حملوں کے بعد اسرائیل نے غزہ میں وحشیانہ کارروائیوں کا آغاز کیا تھا، اسرائیلی حکام کے مطابق حماس کے حملے میں عام شہریوں سمیت 1200 افراد مارے گئے، اس کے علاوہ 240 افراد کو یرغمال بھی بنایا گیا تھا۔
( بشکریہ : ڈان نیوز )
جمعہ, ستمبر 25, 2026
تازہ خبریں:
- فرمانبردار شاہ کی کایا کلپ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- محلاتی سازشیں ، جماعتِ اسلامی اور بھٹو کے حامی طلبہ پر فائرنگ : نصرت جاوید کا کالم
- مسلم لیگ (ن) کی ’ تنہا پرواز‘ : مظہر عباس کا کالم
- جنید حفیظ کیس کی چھے برس بعد پہلی باقاعدہ سماعت: جنید ’پُرامید مگر تنہا ہیں‘ : اہل خانہ
- امن کے پلیٹ فارم سے ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم

