تہران : امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایران بات چیت کے لیے تیار ہے ہو گیا ہے اور ایرانی صدر مسعود پزشکیا ن نے مذاکرات کے لیے بھی ہامی بھر لی ہے ۔ تازہ ترین بیان میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران بات چیت کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ایران مذاکرات کی میز پر ایرانی عوام کے حقوق کے دفاع کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور ایران، دونوں کو جنگ بندی کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا ہے اور اسرائیل پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے معاہدے پر رضامندی ظاہر کرنے کے فوراً بعد بمباری شروع کر دی، اسرائیل اپنے پائلٹس کو واپس بلائے، ایران پر بمباری کی گئی تو یہ جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی ہوگی۔برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل اور ایران دونوں نے اس جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے جس کا انہوں نے چند گھنٹے قبل ہی اعلان کیا تھی۔رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے بالخصوص اسرائیل سمیت دونوں ممالک پر برہمی کا اظہار کیا ہے ۔
نیٹو سربراہی اجلاس کے لیے دی ہیگ روانہ ہونے سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’اسرائیل نے معاہدے پر رضامندی ظاہر کرنے کے فوراً بعد بمباری شروع کر دی‘۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ’ایران کی جوہری صلاحیت اب ختم ہو چکی ہے‘، امریکی صدر نے اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر ہرگز بم مت گرانا، اگر ایسا کیا تو یہ جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی ہوگی، ابھی اپنے پائلٹس کو واپس بلاؤ’۔
امریکی صدر نے کہا کہ ’میں ایران سے بھی خوش نہیں ہوں لیکن اسرائیل سے شدید ناراض ہوں‘۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا کہ اسرائیل کو اب پرسکون ہونا پڑے گا، جب کہ انہوں نے اعتراف کیا کہ ایران اور اسرائیل دونوں نے اس جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے جسے وہ کروانے کی کوشش کر رہے تھے۔وائٹ ہاؤس سے روانگی کے وقت ٹرمپ نے کہاکہ ’اب مجھے اسرائیل کو پرسکون کرنا ہے، جیسے ہی ہم نے معاہدہ کیا، اسرائیل سامنے آیا اور بموں کی ایسی بارش کی جو میں نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی، یہ اب تک کا سب سے بڑا حملہ تھا‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمارے پاس بنیادی طور پر دو ممالک ہیں جو اتنے عرصے سے اور اتنی شدت سے لڑ رہے ہیں کہ اب وہ جانتے ہی نہیں کہ آخر وہ کر کیا رہے ہیں‘۔واضح رہے کہ ایران کی جانب سے گزشتہ رات قطر میں امریکی فوجی اڈے العدید پر میزائل حملے کے چند گھنٹے بعد امریکی صدر نے اعلان کیا تھا کہ ایران اور اسرائیل جنگ بند پر آمادہ ہوگئے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان اگلے 6 گھنٹوں بعد حملے بند کردیے جائیں گے جب دونوں ممالک اپنے جاری آخری مشن مکمل کرلیں گے۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ باضابطہ طور پر جنگ بندی کا آغاز پہلے ایران کرے گا اور 12ویں گھنٹے پر اسرائیل بھی جنگ بندی شروع کردے گا جب کہ 24ویں گھنٹے پر ’12 روزہ جنگ‘ کے خاتمے کو دنیا بھر میں باقاعدہ طور پر تسلیم کیا جائے گا۔اپنی پوسٹ میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے دوران دونوں فریقین پرامن اور باعزت رویہ اختیار کریں گے۔
( بشکریہ :ایکسپریس نیوز )
منگل, اکتوبر 27, 2026
تازہ خبریں:
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم

