پاکستان میں ہر سال ہزاروں خواتین ایک ایسے مہلک مرض کا شکار ہو رہی ہیں جو نہ صرف قابلِ علاج ہے بلکہ اس کاپھیلاؤ بھی روکا جا سکتا ہے ، مگر معاشرتی خاموشی، لاعلمی اور حکومتی غفلت نے اسے ایک "خاموش قاتل” بنا دیا ہے۔ یہ قاتل ہے سروائیکل کینسر — بچہ دانی کے نچلے حصے میں پیدا ہونے والا سرطان، جو ہر سال ہزاروں گھروں کو اُجاڑ دیتا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق، پاکستان میں ہر سال تقریباً 5,008 خواتین میں اس مہلک بیماری کی تشخیص ہوتی ہے، جن میں سے تقریباً 3,200 خواتین موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس وقت اور زیادہ افسوسناک ہو جاتے ہیں جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں بروقت تشخیص اور ویکسینیشن کے ذریعے یہ مرض تقریباً ناپید ہو چکا سروائیکل کینسر کی بنیادی وجہ ہیومن پیپیلوما وائرس (HPV) ہے، جس کے مخصوص اقسام — خاص طور پر ٹائپ 16 اور 18 — اس مرض کے 88 فیصد کیسز کے ذمہ دار ہیں۔
یہ وائرس جنسی رابطے کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، مگر بدقسمتی سے پاکستان میں جنسی صحت سے متعلق گفتگو کو "معیوب” سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے آگاہی کا شدید فقدان ہے۔
ترقی یافتہ ممالک میں HPV کی ویکسین اسکولوں میں ہی مفت فراہم کی جاتی ہے، جہاں ویکسینیشن کی شرح 80 فیصد سے زائد ہے۔ لیکن پاکستان میں یہ شرح 2 فیصد سے بھی کم ہے، جو ایک طبی المیہ ہے۔
معاشرتی عوامل اور غفلت اس کے بنیادی عوامل ہیں جن میں کم عمری میں شادی ، بار بار زچگیاں ، ناقص حفظانِ صحت ، جنسی صحت سے متعلق خاموشی اور دیہی علاقوں میں طبی سہولیات کا فقدان بنیادی وجوہات ہیں
ثمینہ بی بی کیعمر 32 سال ہے اور وہ لاہور رہتی ہیں ان کا کہنا ہے "ابتدا میں مجھے معمولی تکلیف تھی، مگر میں نے نظرانداز کیا۔ جب پیٹ میں درد بڑھا اور جسم کمزور ہوا تو اسپتال گئی، جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ کینسر ہے۔ میرے شوہر نے سوزوکی بیچ دی، زیور گروی رکھے، اور ہم شوکت خانم میں علاج کے لیے کئی مہینے دھکے کھاتے رہے۔”
UNICEF کے مطابق: HPV ویکسین صرف چار بڑے شہروں (لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور) تک محدود ہے۔
ستمبر 2025 سے پنجاب کے تمام 36 اضلاع میں HPV ویکسینیشن مہم کا باقاعدہ آغاز کیا جا رہا ہے جو خوش آئند ہے ۔ اگر حکومت، والدین، علماء، اسکول، میڈیا، اور سماجی تنظیمیں متحد ہو جائیں تو ہم ہزاروں ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو اس خاموش قاتل سے بچا سکتے ہیں۔
جمعرات, اکتوبر 22, 2026
تازہ خبریں:
- سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی
- پولیس حراست میں ملزم کی ہلاکت قومی انحطاط کی علامت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- محترم عرفان صدیقی کی یاد میں : وجاہت مسعود کا کالم
- جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ میں سب ہم پیالہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- خضدار سے نامعلوم مسلح افراد نے مزدوروں سمیت 18 افراد کو اغوا کرلیا
- لسانیات علم ہے عقیدہ نہیں : سر جارج ابراہم گریئرسن کی خدمات ۔۔ ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- وجاہت مسعود کا کالم : آزادی صحافت ۔۔جب بھٹو لاہور کے اخبارات پر حملہ آور ہوئے
- بلوچستان میں 20 پولیس اہلکار اغوا، قلعہ عبداللہ میں پولیس چوکی مسمار

