اگر ہم عید الاضحی کے معنی پر غور کریں تو ہمیں اس کا مقصد صرف قربانی کی صورت میں نظر آتا ہے اب سوال یہ پیداہوتا ہی کہ کیا یہ مقصد صرف جانوروں کی قربانی تک محدود ہے ہا اس کا مفہوم کوئی خاص مقاصد بھی رکھتا ہے ۔ عام لفظوں میں ہم عید الاضحی کو قربانی کی عید کہتے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی یہی بتاتے اور سمجھاتے ہیں ،لیکن اس قربانی کے اصل مفہوم سے ہم بھی آج تک ناواقف ہیں اور اس کے معانی کو محدود کر دیا ہے ۔ اصل معنوں میں قربانی ہے جذبات کی ، احساسات کی، محنت کی۔اپنے مال کی، وقت کی ۔گناہوں سے بچنے کی قربانی ہے دوسروں کو اپنانے کی، قربانی ہے غریبوں کو بھی انسان سمجھنے کی لیکن ہم ان سب باتوں کو فراموش کر چکے ہیں ۔ہمیں اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ ہمارا دین ہم سے اور بہت سی قربانیوں کا مطالبہ کرتا ہے جس کو ہم بالکل بھول کر اپنی زندگی میں مست ہو گئے ہیں ۔حتیٰ کہ ہم عید کی قربانی کا مفہوم بھی پوری طرح سے ادا نہیں کرتے آج کل عید قربان بھی فیشن اور دکھاوا بن کر رہ گئی ہے ہر کوئی اللہ کی خوشنودی کی بجائے صرف لوگوں کے سامنے اپنی واہ واہ اور دکھاوے کے لئے قربانی کرتے ہیں جس کی وجہ سے بہت سی معاشرتی برائیاں جنم لیتی ہیں اور لوگوں کے رزق سے برکت ختم ہو جاتی ہے۔اگر ہم دل کی آنکھوں سے دیکھیں تو عید قرباں میں بے شمار حکمتیں ہیں جو پوشیدہ بھی ہیں اور ظاہر بھی ، اگر ہم ان حکمتوں پر غور کریں تو ہمیں اس کی تہہ میں چھپے ہوئے لعل و جواہر نظر آئیں گے ، دین و ملت کا کوئی بھی پہلو ایسا نہیں جو قربانی کے بغیر ترقی کے زینے چڑھ سکے ۔ چاہے وہ کربلا کا دن ہو یا کوئی بھی اہم موقع ۔ قربانی کے بغیر کوئی اہم امور کامیاب نہیں ہو سکتے اگر کوئی اتنی استطاعت نہیں رکھتا کہ عید الاضحی کے دن اللہ کے حضور قربانی پیش کرے تو وہ دیگر بہت سی قربانیاں کرے ۔ قربانی کے لئے صرف عید الاضحی کا مہینہ ضروری نہیں بلکہ پورے سال زندگی اللہ کی راہ میں کچھ دے کر پیش کی جا سکتی ہے ۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ قربانی کے حقیقی مفہوم کو سمجھا جائے اور اس کے معنی کو زندگی کے مختلف میدانوں تک وسیع کیا جائے تو یقینا ہمیں اندازہ ہو گا کہ زندگی کے مسائل کی چادر کہاں کہاں پھٹی ہے اور ہم اپنی قربا نیوں سے انہیں کہاں تک رفو کر سکتے ہیں ہمیں پتا ہے کہ زندگی کی گاڑی بغیر قربانیوں اور محبتوں کے کھبی نہیں چل سکتی۔ انسانی زندگی کی عمارت دراصل قربانیوں ہی کی بنیاد پر کھڑی ہے ۔یہاں ہم قربانی کے مفہوم کو ذرا سا پھیلا دیں تو کہیں گے کہ قربانی محنت ،جستجو،طلب ،جدوجہد اور مسلسل جرات و ہمت کے ہم معنی ہے، زندگی کا کوئی گوشہ بغیر ان کے سر سبز نہیں ہوتا۔ اس لئے قربانی کو محض جانوروں یا عید الاضحی تک محدود کرنے کی بجائے اصل مفہوم کو سمجھیں اور اپنی زندگی میں شامل کریں اور اس کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں
اتوار, ستمبر 20, 2026
تازہ خبریں:
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم
- کوہاٹ دھماکہ : شہداء کی تعداد 21 ہو گئی : 100 سے زیادہ زخمی
- اسامہ بن لادن کی تعریف پر طاہر اشرفی سے برطانوی اعزاز ایک ہفتے بعد واپس لے لیا گیا
- کوہاٹ: پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا، 16 افراد شہید، درجنوں زخمی
- مکہ پر حملہ ۔۔ پاکستان کو سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا پڑے گا : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ رہائی کے بعد دوسرے مقدمے میں گرفتار
- ماہرہ خان اور قوم کو مبارک ہو : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم

