فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ( FATF ) دنیا میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی فنانسنگ کی روک تھام کا عالمی ادارہ ہے ۔ اس ادارے کے ممبران کی تعداد 35 ہے ۔ پاکستان اس عالمی ادارے کا اہم رکن ہے ، 29 جون 2018 ء کو پیرس میں ہونے والے ایک اجلاس میں پاکستان کو اس وقت ” گرے لسٹ ” میں ڈالا گیا جب نواز شریف کی حکومت کا چل چلاو تھا ، اس گرے لسٹ سے نکلنے کیلیے پاکستان کو 27 نکاتی ایکشن پلان دیا گیا تھا جس پر عمل درآمد کیلیے 31 اکتوبر 2019 ء کا وقت بھی دیا گیا تھا تاھم چین ، ترکی ، ملائشیا اور کچھ خلیجی ممالک کی سفارش پر یہ مدت بڑھا کر فروری اور پھر جون 2020ء تک کردی گئی لیکن کورونا کے باعث اب FATF کا اجلاس اکتوبر میں متوقع ہے ۔ اس اجلاس میں پاکستان کے اس سلسلے میں کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا جاۓ گا اور گرے لسٹ سے خارج کرنے یا گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں ڈالنے کا فیصلہ کیا جاۓ گا .
پاکستان کے دشمنوں خاص طور پر ہندوستان اور کچھ عاقبت نا اندیش پاکستانی سیاستدانوں کی خواہش ہے کہ پاکستان کو ” بلیک لسٹ ” میں ڈلوا دیا جاۓ .
پاکستان نے اس سلسلے میں ایک رپورٹ 6 اگست کو FATF ایشیاء پیسفک گروپ کو پیش کی تھی اور اسی سلسلے میں دو ترمیمی بل ( اقوام متحدہ سلامتی کونسل ترمیمی بل اور انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2020 ) اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور کرواۓ جن کا مقصد FATF کی باقی 13 شرائط کی تکمیل ہے .
پاکستان کو قوی امید ہے کہ اس قانون سازی سے پاکستان کانام ” گرے لسٹ ” سے نکال دیا جاۓ گا کیونکہ اس قانون سازی سے منی لانڈرنگ کی سزا 5 سال سے بڑھا کر 10 سال کردی گئی ہے اور جرمانے کی رقم 1 کروڑ سے بڑھا کر 5 کروڑ کردی گئی ہے جبکہ مجرموں کے اسلحہ لائسنس منسوخ ہوں گے اور جائدادیں ضبط کرلی جائیں گی .
ایف اے ٹی ایف ” FATF ” کی شرائط پر عمل درآمد ایک عالمی مسئلہ ہے اور ان شرائط پر عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں پاکستان کا نام گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں شامل کیا جاسکتا ہے جس سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والے ممالک میں پاکستان کا رسک پروفائیل بڑھ جاۓ گا اور بیرونی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری اور کاروبار سے گریز کریں گے ، بین الاقوامی مالیاتی ادارے پاکستان کو قرضوں کی فراہمی معطل کرسکتے ہیں اور پاکستانیوں پر سفری پابندیاں وغیرہ بھی لگ سکتی ہیں .
ان پابندیوں سے بچنے کیلیے حکومت پاکستان FATF کے 27 نکاتی پلان پر عمل درآمد کررہی ہے جبکہ دشمنوں کی یہ شدید خواہش ہے کہ پاکستان کو "بلیک لسٹ ” میں ڈالا جاۓ ۔
ایف اے ٹی ایف ” FATF ” کے جوائنٹ ورکنگ گروپ کے مطابق پاکستان نے 27 میں سے 10 شرائط پر عمل درآمد کیا ہے اور 13 شرائط کی تکمیل ہونا ابھی باقی ہے جن کا تعلق دہشت گردوں کی مالی مدد روکنے ، کالعدم تنظیموں کے خلاف قوانین کو مزید سخت بنانے اور دینی مدارس کے نصاب میں بنیادی تبدیلیوں سے ہے .
اب دیکھنا یہ ھے کہ کیا 13 شرائط پر عمل درآمد نہ کرنے کے باوجود پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالا جاسکتا ہے یا گرے لسٹ سے ” بلیک لسٹ ” میں شامل کیا جاسکتا ہے کیونکہ اب مزید اقدامات کرنے کیلیے FATF کا ٹائم فریم ختم ہوچکا ہے اور اب مزید مہلت بھی نھیں مل سکتی
بدھ, اکتوبر 28, 2026
تازہ خبریں:
- خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم

