اسلام آباد(خصوصی رپورٹ):سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور پشاور اوربہاولپور کے سابق کور کمانڈر ریٹائرڈ جنرل فیض حمید کو ان کے گھر پر غیر اعلانیہ نظر بند کردیاگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق فیض حمید کی نقل وحرکت محدود کردی گئی ہے۔انہیں کسی بھی جگہ آمدورفت کے لئے حکام سے اجازت لینا ہوگی اور آمد ورفت کے دوران ان کی مسلسل نگرانی بھی کی جائے گی۔یہ اقدام مختلف سیاسی معاملات میں ان کی سرگرم مداخلت کے بعد کیاگیا۔ذرائع کے مطابق ان اقدامات سے پاک فوج کے بارے میں منفی جذبات کو ہوا ملی۔
دوسری جانب جنرل فیض حمید کو ارشد شریف قتل کیس کی تحقیقات میں بھی شامل تفتیش کیے جانے کابھی امکان ہے۔ سینئر تجزیہ نگار اور صحافی عبدالمالک نے جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں بتایا کہ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ارشدشریف کا فیض حمید کے ساتھ کسی معاملے پر اختلاف تھا ۔انہیں جنرل فیض حمید نے پشاور کور کمانڈر کی حیثیت سے پاکستان سے فرار میں مدد دی۔ فیض حمید کی نگرانی میں انہیں پشاور ایئرپورٹ سے دبئی روانہ کیاگیا جہاں انہی کے سہولت کار نے ارشدشریف کا استقبال کیا اور بعدازاں انہیں دبئی سے بھی ایک اور ایجنٹ کے ذریعے کینیا روانہ کردیاگیا۔ارشدشریف دبئی میں قیام کرنا چاہتے تھے۔ فیض حمید کے نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے افراد نے انہیں بتایا کہ دبئی میں ان کی جان کوخطرہ ہے اوروہ کینیا چلے جائیں جہاں پہلے سے کچھ لوگوں کو اس بارے میں آگاہ کردیاگیاتھا اور کینیا میں وہ پراسرار موت کاشکارہوگئے۔
سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید غیراعلانیہ نظربند، ارشد شریف قتل کیس میں شامل تفتیش کیے جانے کاامکان
ایڈیٹر7 Views
Previous Articleپنجاب اور خیبرپختونخوا میں فوج طلب کرنے کا فیصلہ
Next Article توشہ خانہ کیس میں عمران خان پر فرد جرم عائد

