جب سے فیصل ایدھی عمران خان سے ملے ہیں، مسلسل خبروں میں ہیں۔ بیشک وہ بڑے باپ کے بیٹے ہیں۔ بہت دکھ سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ان کا کورونا ٹیسٹ مثبت آ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں اِس برے ترین وائرس سے محفوظ رکھے، جس نے اس وقت انسانیت کو مضمحل کر رکھا ہے۔
اللہ ان کو صحت عطا فرمائے۔ ان کی وجہ سے وزیراعظم سیکرٹریٹ میں بھی تمام لوگوں کے کورونا ٹیسٹ لئے گئے حتیٰ کہ عمران خان کا بھی۔ فیصل کو اس بات کا بھی دکھ ہے کہ انہوں نے عمران خان کو ایک کروڑ روپے کا چیک بھی دیا ہے مگر انہوں نے انہیں نہیں پہچانا۔
ویسے اس نہ پہنچانے کی ساری ذمہ داری وزیراعظم اسٹاف پر آتی ہے۔ یہ اُن کا کام تھا کہ وہ وزیراعظم کو بتاتے کہ یہ عبدالستار ایدھی کے بیٹے فیصل ایدھی ہیں۔ کل اِس موضوع پر ایک برٹش پاکستانی سے میسجنگ ہوئی۔ وہ آپ کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔ بحث کا آغاز ڈاکٹر افتخار احمد کے اس سوال سے ہوا۔
’’عبدالستار ایدھی پرانے کپڑے پہنا کرتے تھے۔ ایک عام آدمی کی طرح زندگی گزارتے تھے۔ کبھی اپنے لئے کچھ نہیں بنایا۔ عمر بھر لوگوں کے لئے زندہ رہے، یہ فیصل ایدھی نے ایک کروڑ کہاں سے لیا ہے جس کا چیک عمران خان کو دیا؟‘‘۔
’’انہوں نے وہ چیک اپنی طرف سے نہیں ایدھی فائونڈیشن کی طرف سے دیا تھا‘‘۔
’’کیا انہیں ایک کروڑ لوگوں نے اسی مقصد کے لیے دیا تھا۔ یعنی عمران خان کو دینے کے لئے‘‘۔
’’نہیں، یہ رقم لوگوں نے غریبوں کی امداد کیلئے دی تھی۔ اُن پروجیکٹس کیلئے جو ایدھی فائونڈیشن چلا رہی ہے‘‘۔
’’پھر کون سے قانون، کون سی اخلاقیات کے تحت انہوں نے یہ رقم عمران خان کو دے دی‘‘۔
’’پاکستان میں شاید قانونی طور پر اس عمل پر کوئی پابندی نہیں‘‘۔
’’یہاں برطانیہ میں تو یہ جرم ہے۔ کسی بھی چیرٹی نے جس مقصد کے لیے لوگوں رقم جمع کی ہوتی ہے وہ صرف اس پر اسے خرچ کر سکتے ہیں‘‘۔
’’عمران خان کو بھی تو انہوں نے غریبوں کی مدد کے لئے رقم دی تھی‘‘۔
’’پہلی بات تو یہ ہے کہ اس میں وزیراعظم سے ملاقات کی طلب بھی شامل تھی۔ دوسرا لوگوں نے یہ رقم ایدھی فائونڈیشن کو دی تھی۔ اگر انہوں نے عمران خان کو دینی ہوتی وہ خود دے دیتے۔ فیصل ایدھی کو اس بات کا حق کس نے دیا ہے کہ وہ غریبوں کیلئے دیا گیا ایک کروڑ روپیہ وزیراعظم سے ملاقات کی خواہش میں برباد کر دے‘‘۔
’’وہ رقم برباد کیسے ہوئی‘‘۔
’’حکومت کے پاس اربوں کھربوں روپے ہوتے ہیں۔ جس میں سے بہت کم رقم غریبوں تک پہنچتی ہے جبکہ ایدھی فائونڈیشن کا ایک ایک روپیہ غریبوں کیلئے ہوتا ہے‘‘۔
’’آپ نے یہ بات بھی غلط کی ہے کہ فیصل ایدھی نے یہ رقم صرف عمران خان کی ملاقات کیلئے ضائع کی ہے۔ نہ تو وہ رقم ضائع ہوئی ہے اور نہ ہی فیصل ایدھی ایسے آدمی ہیں جو عمران خان سے ملاقات یا میڈیا کوریج کیلئے ایک کروڑ روپے خرچ کرنے کے متعلق سوچ سکیں‘‘۔
’’تو پھر وزیراعظم ہائوس جانے کی کیا ضرورت تھی۔ وزیراعظم کے اکائونٹ میں رقم ٹرانسفر کرا دیتے‘‘۔
’’ممکن ہے انہیں ایدھی فائونڈیشن کی طرف سے بھیجا گیا ہو‘‘۔
’’ایک تو یہ بڑا مسئلہ ہے کہ پاکستان میں ہر بڑے شخص کی اولاد اس کی جگہ سنبھالنے آ جاتی ہے۔ بینظیر بھٹو کے بعد بلاول بھٹو، نواز شریف کے بعد مریم شریف، شہباز شریف کے بعد حمزہ شریف، عبدالستار ایدھی کے بعد فیصل ایدھی۔ کیا بڑوں کی اولادوں میں بڑے آدمی ہونے کے خصوصی جراثیم منتقل ہوتے ہیں‘‘۔
’’دیکھو یہی طریق ہے۔ برصغیر میں ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ کسی خانقاہ میں ایک سجادہ نشین کا وصال ہوتا ہے تو اس کا بیٹا سجادہ نشین بنایا جاتا ہے۔ ہندو مت میں پنڈت کی جگہ پنڈت کے بیٹے نے لینا ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ پان بیچنے والا بھی جب مرتا ہے تو اس کی جگہ اس کا بیٹا سنبھال لیتا ہے۔ یہی ہماری تہذیب ہے، یہی ہمارا کلچر ہے، یہی ہماری روایت ہے‘‘۔
’’میرا خیال ہے آپ کو یہ بات تسلیم کرنی چاہئے کہ ’غلط بات غلط ہے، چاہے اسے کلچر کا حصہ بنا دیا جائے یا مذہب کا‘‘۔
’’دیکھو فیصل ایدھی ہو یا عمران خان۔ بنیادی طور پر یہ غریبوں کیلئے فنڈ جمع کر رہے ہیں۔ جیو گروپ کے چینلز پر عمران خان نے تاریخ کی سب سے بڑی ٹیلی تھون کی۔ کیا یہ نیکی کا کام نہیں‘‘۔
’’ وزیراعظم غریبوں کیلئے چندہ نہیں مانگتے بلکہ ایسی پالیسیاں لاتے ہیں کہ نچلا طبقہ متوسط طبقے میں شامل ہو جاتا ہے‘‘۔
’’وہ بھی لا رہے ہیں مگر فوری طور پر بھی تو رقم کی ضرورت ہے‘‘۔
’’کتنی رقم جمع ہو جائے گی، یہی پانچ دس ارب‘‘۔
’’پانچ دس ارب تھوڑے ہوتے ہیں؟‘‘۔
’’ہاں حکومتوں کے لئے بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔ فنڈ ریزنگ شوکت خانم کینسر اسپتال کے لئے تو ہو سکتی ہے، پاکستان کیلئے نہیں۔ ملک فنڈ ریزنگ سے نہیں چلا کرتے‘‘۔
’’وہ پاکستان کیلئے تھوڑی ہے وہ تو ’’کورونا ریلیف فنڈ‘‘ جمع کیا جا رہا ہے‘‘۔
’’ملک بھر کے کروڑوں غریبوں کیلئے جو کورونا کے لاک ڈائون کی وجہ سے روزی روٹی کمانے سے محروم ہیں‘‘۔
’’بیشک، انہی کیلئے، اس وقت ہم پر سب سے پہلا حق انہی کا ہے۔ بہرحال آپ کا جو بھی خیال ہے میں تو اس فنڈ ریزنگ پر عمران خان کو سیلوٹ کرتا ہوں‘‘۔
( بشکریہ : روزنامہ جنگ )

