غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق مصدقہ جنگی مجرم اسرائیل نے ایران کے شہر مناب میں طالبات کے ایک اسکول پر میزائل حملہ کیا ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں 53 طالبات شہید اور متعدد زخمی ہو گئی ہیں۔ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں نے اس بزدلانہ کارروائی کی بھرپور مذمت کی ہے۔ لیکن کیا یہ مذمتیں اس طرح کے مظالم کو روکنے کے لیے کافی ہیں؟ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے جواب میں اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں واقع امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران پر 1979 سے مذہبی انتہاپسند شیعہ ملاؤں کی حکومت ہے۔ ایرانی مذہبی رہنما خامنہ ای کی قیادت میں قائم یہ مذہبی آمریت آغاز ہی سے اپنے شہریوں پر ظلم و ستم ڈھاتی چلی آ رہی ہے۔ پچھلے چند برسوں میں ایرانی ریاست نے اپنے مخالفین، بالخصوص خواتین، پر جبر کی انتہا کر دی ہے۔ ایرانی خواتین کو حجاب نہ اوڑھنے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، بعض کو ہلاک کیا گیا، اور ان مظالم کے خلاف سیاسی جدوجہد کرنے پر قید و بند میں رکھا گیا ہے۔ اس اندرونی انتشار نے ایرانی ریاست کو کمزور اور کھوکھلا کر دیا ہے، جس کا فائدہ اس کے بیرونی دشمنوں، اسرائیل اور امریکہ، نے اٹھایا ہے۔
ایران پر قابض رجعتی حکمران بظاہر مذہبی نظریات رکھتے ہیں اور مذہب کے ذریعے معاشرے کو اخلاقی بنیادوں پر سنوار کر بہتری لانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایران اور دنیا بھر کے مظلوم محنت کش عوام کے مسائل کا حل محض مذہبی اصلاحات میں ہے؟ میرا خیال ہے کہ صرف مذہبی یا اخلاقی اصلاحات سے معاشرتی بگاڑ کو مکمل طور پر درست کرنا ممکن نہیں۔ دنیا کے مذاہب عوام کو ایک اخلاقی لائحۂ عمل دیتے ہیں جس کے مطابق لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنا چاہیے۔ رمضان المبارک جیسے ایام ہمیں صبر اور برداشت کا سبق دیتے ہیں۔ لیکن کیا مذہبی افراد میں عمومی طور پر یہ خوبیاں موجود ہوتی ہیں؟ اگر ایسا ہوتا تو ایران اور افغانستان میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی نظر نہ آتی۔
حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر کے مذہبی اور آزاد خیال حکمران اس وقت ظلم کے ایک مشترکہ نظام کے پیروکار ہیں جسے سرمایہ داری کہا جاتا ہے۔ اس نظام کے ذریعے طاقتور طبقات اپنے مالی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں اور کمزور طبقات پر جبر روا رکھتے ہیں۔ انہی مشترکہ مفادات کی بنیاد پر عالمی طاقتیں اپنے بین الاقوامی تعلقات استوار کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایران اور افغانستان جیسی ریاستوں پر حملے ہوتے ہیں تو انسانی حقوق کے علمبرداروں کو مذمت یا حمایت کرتے وقت مختلف تاویلیں پیش کرنا پڑتی ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں ہم درست اور غلط کی تمیز کھو بیٹھتے ہیں۔
ہم بعض اوقات سامراجی قوتوں کے دفاع یا مخالفت میں یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ امریکہ یا ایران کا یہ اقدام غلط یا درست ہے، لیکن دیگر معاملات میں ہم ان کے مکمل حامی یا مخالف بن جاتے ہیں۔ اس نوعیت کے تجزیات اکیسویں صدی کے سائنسی دور میں غیر سنجیدہ محسوس ہوتے ہیں۔ آج دنیا گلوبل ویلیج بن چکی ہے۔ ایسے میں کیا یہ وقت نہیں آ گیا کہ دنیا کے محنت کش طبقات ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر متحد ہوں؟ لیکن کیا محکوم طبقات حب الوطنی یا مذہب کی بنیاد پر متحد ہو سکتے ہیں؟ کیا ہم ساری دنیا کو پاکستانی، افغان، اسرائیلی یا ایرانی بنا کر ایک کر سکتے ہیں؟ یا ہمیں پرامن دنیا کی تشکیل اور مشترکہ ترقی کے لیے کسی وسیع تر انسانی بنیاد پر اتحاد کی ضرورت ہے؟
میرا خیال ہے کہ قومی یا عالمی تنازعات کا تجزیہ کرتے وقت ہمیں اپنے ملک سمیت دنیا بھر کے محنت کش عوام کے مفادات کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ اگرچہ دنیا کے محنت کش قومی اور مذہبی بنیادوں پر تقسیم ہیں، لیکن طبقاتی لحاظ سے وہ ایک ہی صف میں کھڑے ہیں۔ شاید یہی بنیاد ہمیں دنیا بھر کے تنازعات کا زیادہ واضح اور غیر مبہم تجزیہ فراہم کر سکتی ہے، جس کے ذریعے ہم حق اور ظلم میں بہتر امتیاز کر سکیں۔ اگر ہم یہ دیکھیں کہ پاک۔افغان یا اسرائیل۔ایران جنگوں میں کون سے طبقے کو نقصان پہنچتا ہے تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ہر ملک کے محنت کش طبقات ہی سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں چاہے وہ امریکی ہوں، اسرائیلی، ایرانی، افغان یا پاکستانی۔
یہی زاویۂ نظر ہمیں انسانی حقوق کے حقیقی تحفظ کی طرف لے جا سکتا ہے، تاکہ ہم محض مذمتی بیانات سے آگے بڑھ کر ایک منصفانہ اور پُرامن عالمی نظام کی تشکیل کی سمت سوچ سکیں۔
فیس بک کمینٹ

