مشتاق کھوکھر کی نرینہ اولاد کی تعداد چار تھی جو پیدائشی معذور تھی اور وہ سب بچے وقفہ وقعہ سے انتقال کر گئے پھر ان کی اہلیہ مقصودہ بیگم بھی دنیائے فانی سے کوچ کرگئیں۔بعدازاں مشتاق کھوکھر نے معذور بچوں کی دیکھ بھال کیلئے ’’مقصودہ بیگم میموریل سوسائیٹی ‘‘ کے نام سے ایک فلاحی ادارہ قائم کیا۔ اور پھر اسی ادارہ کے زیراہتمام بھرپور ادبی محافل کا انعقاد کرواتے رہے۔
Browsing: رضی الدین رضی
امی کے جانے کے بعد یہ خاندان مکمل ہو گیا ۔۔ سب نے آج خوب دل کی باتیں کی ہوں گی ۔۔ نانی اماں نے گلے سے لگایا ہو گا ۔۔ دادی ہاتھ پکڑ کر ابو کے پاس لے گئی ہوں گی کہ تم اتنے برسوں سے اس کی راہ تک رہے تھے لو آ گئی ہے اب پوچھ لو کیوں دیر سے آئی اور امی نے کہا ہو گا ’’ تہاڈیاں امانتاں دی حفاظت نئیں کرنی سی ۔۔ ؟ سب نوں بنے لا کے آئی آں ‘‘ ( آپ کی امانتوں کی حفاظت نہیں کرنا تھی ؟ ۔۔ سب کو کنارے لگا کر آئی ہوں )
جب نیندیں اچھی لگتی تھیں : رضی الدین رضی کی محبت بھری نظم وہ بھی دن تھے جب آنکھوں میں ہر منظر اجلا اجلا تھا اک…
وہ خالد تھا بہت ہی سعد لمحوں میں جو اس دنیا میں آیا تھا وہ جب رہداریوں میں چلتاتھا تو دیواریں سنبھل کر اس کو تکتی…
امی جان رمضان المبارک کا چاند نظر آ گیا ہے۔ اور مجھے آپ کو سلام کرنا ہے۔ آپ کو یاد ہے نا کہ جب چاند نظر…
ایک بہت خوب صورت اور محبت کرنے والا انسان ایسے رخصت ہوا کہ کسی کو یقین کرنے کی بھی مہلت نہ دی ۔۔ ندیم ملک صاحب…
ستائیس جنوری کی صبح اعتبار بھائی کی رخصتی کی خبر کے ساتھ طلوع ہوئی ۔۔ ایک بانکا سجیلا شاعر جس کے اور بہت سے حوالے بھی…
آج آٹھ جنوری ہے میرے والد صاحب کی برسی کا دن َ ۔ 57 برس قبل یہی وہ دن تھا جب وہ 1968 میں ہم سے…
نئے سال کا آغاز کامران حبیب کے انتقال کی خبر سے ہوا ۔۔ ایک بہت پیارا دوست رفیق کار جو اپنی قوتِ ارادی سے ایک طول…
ر سال ہم نئے سال کی آمد پر دکھوں کا گوشوارہ مرتب کرتے ہیں ۔۔ اور گزرے سال میں جدا ہونے والوں کو یاد کرتے ہیں…
