وہ اٹھانوے سال کے تھے۔ ڈیڑھ دو سال بعد ایک سو سال کے ہو جاتے۔ دبلے پتلے تو وہ ہمیشہ سے ہی تھے لیکن دو مہینے…
Browsing: مسعود اشعر
وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا مسودہ قانون قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا اور قاعدے کے مطابق اسے قائمہ کمیٹی کے حوالے بھی…
بارشیں ہیں کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہیں‘ لیکن بہار کے موسم کو تو کوئی نہیں روک سکتا۔ وہ تو اپنے وقت پر ہی آتا…
آپ جانتے ہیں کہ آپ کے اسی شہر لاہور میں ایک یہودی خاندان بھی رہتا تھا؟ ایک کھاتا پیتا خاندان۔ لارنس روڈ پر ان کی نہایت…
آج کل ہمارا شہر لاہور دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایک طرف کرکٹ کا میلہ سجا ہوا ہے تو دوسری طرف ادب اور…
ایسا لگتا ہے، جیسے ہم بہت ہی پرانے ہو گئے ہیں۔ بعض شعبوں میں ہماری پسند اور ناپسند اتنی پختہ ہو چکی ہے کہ اس میں…
کسی دل جلے نے ہمیں ایک شعر بھیجا ہے۔ یہ تو معلوم نہیں یہ شعر کس کا ہے مگر ہمیں کچھ کچھ حسب حال سا لگتا…
ادب اور سماجی قبولیت، اردو میں مقبول عام افسانوی ادب اور سماجی رویے، اردو میں مقبول عام شعری ادب اور سماجی رویے، اور ادب‘ مقبولیت اور…
سوال کیا جا رہا تھا کہ ہمارے ہاں کیسی جمہوریت ہے؟ کیا یہ خالص جمہوریت ہے؟ مکمل جمہوریت ہے؟ یا نیم جمہوریت ہے؟ ہم سے کسی…
”میں نے اجنبی کو غور سے دیکھا‘ پھر پوچھا: تم چاہتے ہو، میں تمہاری ماں کو تلاش کروں؟‘‘ ”ماں نہیں ماتا۔ ماں اور ماتا میں فرق…
