پروفیسر محی الدین اس گھرانے کے معاملات سلجھانے کی کوشش کررہے تھے لیکن ملزم نے بے صبری اور عدم برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پروفیسر محی الدین اور اپنے سوتیلے بیٹے کو گولیاں مار کے ایک بڑے سانحے کو جنم دیا۔
Browsing: نسیم شاہد
ایک اچھوتی کتاب ،ملتان کی پچاس سالہ ادبی تاریخ کا احوال ،ان ادبی شخصیات کا تذکرہ جنھوں نے ملتان کی ادبی و ثقافتی پہچان کو آگے…
تبدیلی کا لفظ بھی عجیب ہے، کہیں سرشاری دیتا ہے اور کہیں اداس کر دیتا ہے۔کسی کا جب تبدیلی آرڈر آ جائے تو اسے یہ لفظ…
یہ بات بھی ابھی حل طلب ہے کہ پیپلزپارٹی خود پنجاب اور مرکزی حکومت میں شامل نہیں ہو ر ہی یا اُسے شامل ہونے کے لئے گرین سگنل نہیں مل رہا۔ بہرحال سید یوسف رضا گیلانی کے پروڈکشن آرڈر پر عمل نہ ہونے کے اس معاملے سے ”ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ“ کی حقیقت مزید واضح ہو گئی ہے۔
وہ ضیاء الحق سے ملا تو انہوں نے کہا مجھے آپ جیسے نوجوانوں پر فخر ہے جو لیڈر شپ کی خوبیاں رکھتے ہیں تاہم آپ اب چونکہ تعلیم مکمل کر چکے ہیں اِس لئے بتائیں میں آپ کے لئے کیا کر سکتا ہوں۔ فاروق تسنیم کے ذہن میں کوئی بڑے بڑے خواب نہیں تھے۔وہ یہ بھول گیا کہ ایک بادشاہ کے سامنے کھڑا ہے، جو پاکستان کا مالک و مختار ہے۔اُس نے بادشاہ کی بساط کو سامنے رکھ کر مانگنے کی بجائے اپنی سادگی کو سامنے رکھتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا اُسے کسٹم میں انسپکٹر بنا دیا جائے۔یہ تو معلوم نہیں اُس وقت یہ سن کر ضیاء الحق کی کیا کیفیت ہو گی تاہم اُنہوں نے فوری طور پر فاروق تسنیم کی بطور انسپکٹر کسٹم تقرری کا حکم جاری کر دیا۔
ریٹائرمنٹ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے ہر سرکاری ملازم نظریں چراتا ہے، ہمارے ایک استاد بشیر احمد ملک کہا کرتے تھے موت کے دن کا…
پہلی کتاب ”ڈاکٹر سید فاروق احمد مشہدی“ کے نام سے لکھی گئی ہے، جس کے ترتیب و تدوین کار سید طارق جاوید مشہدی ہیں، جبکہ دوسری کتاب معروف نقاد اور شاعر ڈاکٹر محمد امین کی ”تفہیم و تحسین“ ہے جو ان کے مضامین پر مشتمل ہے۔ یہ دونوں کتابیں ملتان سے شائع ہوئی ہیں البتہ اپنی اہمیت کے لحاظ سے یہ بڑی کتابیں شمار کی جا سکتی ہیں ۔
یرے ایک شاگرد یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔ وہ ایک دن میرے پاس آئے اور کہا وہ یونیورسٹی کی ملازمت چھوڑنا چاہتے ہیں۔ میں حیران ہوا، اچھی بھلی ملازمت کو کیسے چھوڑا جا سکتا ہے۔ میں نے وجہ پوچھی کہنے لگے یہ سیمسٹر سسٹم، جس نے ہمیں جج بنا دیا ہے، گلے کی ہڈی بن گیا ہے
اشفاق حسین سونے کا چمچہ لے کرپیدا ہوئے اور اب ایک متمول شخص کے طور پر اپنی شاعری کا شوق پورا کررہے ہیں لیکن جو انہیں جانتے ہیں انہیں علم ہے اشفاق حسین نے زمین سے اٹھ کر آسمان کی طرف سفر کیا ہے۔ ان کی شاعری کے اصل تناظر کو صرف اسی صورت میں سمجھا جا سکتا ہے جب آپ یہ مان جائیں کہ شاعر کی زندگی کے نشیب و فراز کیا رہے۔ اشفاق حسین نے بہت اچھا کیا کہ اس کلیات کے ”گہر ہونے تک“ کے عنوان سے اپنی روداد لکھ دی ہے، وہ چاہتے تو بیان کی گئی ماضی کی حقیقتوں کو چھپا بھی سکتے تھے، مگر شاید ایسا کرنے کی صورت میں یہ کلیات ادھوری رہ جاتیں اور اس میں موجود شاعری کا افق بھی کسی انجان اندھیرے میں ڈوبا رہتا ۔
