جب ڈاکٹر زریں اشرف نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر عمرانہ مقصود کی کتاب ”اُلجھے سلجھے انور“ کے بارے میں پوسٹ لگائی تو مَیں نے اُس…
Browsing: کتب نما
تو میں زندہ ہوں؟ ویرونیکا نے سوچا ۔ ہر شے اب نئے سرے سے شروع ہوگی۔ مجھے یہاں کچھ عرصہ رہنا ہوگا جب تک ان لوگوں…
ابھی نادیہ ہاشمی کی کتاب "دا پرل دیٹ بروک اٹس شیل” ختم کی. کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں کہ اٹھا لیں تو ختم کیے بغیر چھوڑنا…
میری نسل بس کتابی میلوں سے واقف تھی جہاں دس سے پچیس فیصد رعایت پر کتاب ملنے کا لالچ ہمیں کھینچ لے جاتا تھا۔ کبھی ایسی…
یکم مارچ 2017ء کو جناب مستنصر حسین تارڑ چشم بد دور خیر سے 78 برس کے ہو گئے۔ ملتان کے چند دوستوں نے اس موقع پر…
میں بی اے کا طالب علم تھا جب ایوب خان کی آمریت کے خلاف طالب علموں کی تحریک چلی جو رفتہ رفتہ سماجی اور سیاسی تبدیلی…
کتنا بھلا زمانہ تھا کہ خاکسار ہر ہفتے اخبارات کے بچوں کے ایڈیشن خریدنے کے لیے اپنے جیب خرچ کو بخوشی قربان کیا کرتا تھا۔ گھر…
ایسے دور میں جب بوتلوں میں منرل واٹر کے نام پر نلکے کا پانی، دودھ کے نام پر کیمیکل اور دواؤں کے نام پر زہر کھایا…
ایک نئی کتاب میں ایک بینظیر بھٹو نُما لیڈر کے قتل میں ایک ناہید خان نُما سیاسی کارکن کو ملزم بنا دیا جاتا ہے تو مقدمے…
خیر محمد بدھ ایمرسن کالج ملتان میں ہم سے ایک یا دو کلاس جونیئر تھے، وہ امروز ملتان کے تعلیمی صفحے کے لئے بھی اُسی طرح…
