Browsing: تجزیے

برطانیہ میں ریفارم یوکے پارٹی کی کامیابی یورپ کے دیگر ممالک فرانس، نیدر لینڈ ، ڈنمارک اور سویڈن وغیرہ میں دائیں بازو کی انتہا پسند تحریکوں اور پارٹیوں کی مقبولیت ہی کی طرز پر ایک ایسے رجحان میں اضافے کی نشاندہی ہے جو بین الثقافتی معاشرہ تبدیل کرکے اسے سفید فام اکثریتی خواہش کے مطابق تشکیل دینا چاہتاہے۔

پاکستان میں گزشتہ سال بھارت کے ساتھ ہونے والی جنگ یا جھڑپوں کی سالگرہ دھوم دھام سے منائی جارہی ہے۔ شہروں میں عسکری قیادت کے بینر لگائے گئے ہیں اور بڑے بڑے کمرشل ادارے اشتہارات میں افواج پاکستان کی بہادری کا ذکر کرتے ہوئے، ان کا شکریہ ادا کررہے ہیں۔ ایک غریب ملک میں کسی جنگ کو گلوری فائی کرنے کا یہ رویہ ناقابل فہم اور افسوسناک ہے۔

بنگال کے شہریوں کو عام طور سے باشعور اور ترقی پسند سوچ کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ایک دہائی سے بی جے پی کی مذہبی انتہاپسندی کو چیلنج کرنے والی ممتا بینر جی کامیابی سے بنگال میں حکومت کے ذریعے نریندر مودی کی غیر منصفانہ اور غیر معقول پالیسیوں کی سب سے بڑی ناقد رہی ہیں۔ البتہ ان انتخابات میں بنگالی ووٹروں نے ان سے آنکھیں پھیر لی ہیں۔

اس عمل میں جس تحمل اور صبر و ضبط کی ضرورت ہے، ٹرمپ جیسا جلد باز لیڈر شاید اس کا حوصلہ نہیں رکھتا۔ اگرچہ سرکاری طور سے امریکہ کی فتح کا حوالہ دیتے ہوئے یہی کہا جاتا ہے کہ امریکہ کو جلدی نہیں ہے۔ وہ غیر معینہ مدت تک انتظار کرسکتا ہے۔
ا

کابل میں طالبان کی حکومت قائم ہے جو انہیں 2021 میں امریکہ کے ساتھ دوحہ معاہدے کے نتیجہ میں حاصل ہوئی تھی لیکن طالبان کے انتہا پسند عناصر نے اقتدار ملنے کے بعد اس معاہدے یا دیگر عالمی قواعد و ضوابط کو ماننے کی بجائے اپنی پرانی ڈگر برقرار رکھی۔

ایران کی انقلابی حکومت نے گزشتہ 47 سال میں اعتماد سازی کی بجائے انتشار اور بلیک میلنگ کی پالیسی اختیار کی۔ اب بھی آبنائے ہر مز کے سوال پر وہ پوری دنیا کی معیشت کو یرغمال بنا ایران کی مرضی مسلط کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

ایران میں چونکہ غیر عوامی حکومت مسلط ہے جو اپنے عوام کی بہبود پر توجہ دینے کی بجائے سیاسی اسلام پھیلانے میں دلچسپی لیتی رہی ہے، ا س لیے اسے اب بھی اپنے عوام کی پریشانیوں کا زیادہ احساس نہیں ہے۔ ایران میں نہ تو کسی کو رائے دینے کی اجازت ہے اور نہ ہی کوئی شخص حکومت سے سوال کرسکتا ہے کہ جنگ بند کرنے میں کیا قباحت ہے؟

حکومت سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے ملک میں عدلیہ کی آزادی کو دفن کرنے کا اہتمام کررہی ہے۔ لیکن اسے اندازہ نہیں ہے کہ وقت تبدیل ہونے کے ساتھ یہی طریقہ اس کے اپنے سیاسی مفادات کے برعکس استعمال ہوگا۔ عدلیہ کی خود مختاری پر ہونے والے حملے ججوں کو بے اختیار اور جمہوریت کو کمزور کرتے ہیں۔

یہ ملکی عدالتی نظام کا نقص ہے کہ غلط اور بلاجواز طورسے گرفتار کیے گئے لوگوں کو بھی اپنا مؤقف درست ثابت ہونے کے باوجود عدالتیں مقدمہ خارج نہیں کرتیں بلکہ ملزم ہی کو مالی بوجھ برداشت کرتے ہوئے وکیل کی فیس کے علاوہ زر ضمانت کا بھی اہتمام کرنا پڑتا ہے۔ اس معاملہ میں عدالت نے ذمہ داری کا ثبوت دیا اور نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی کے ایک غلط فیصلے کو مسترد کیا۔ اس کے باوجود مقدمہ جاری ہے اور متعلقہ صحافی کو غیر معینہ مدت تک کے لیے پیشیاں بھگتنا ہوں گی۔

اب امریکہ بلاکیڈ کو ایران پر دباؤ کے مؤثر ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ لیکن اس کے اثرات بھی زیادہ تر عوام ہی کو برداشت کرنا پڑیں گے۔ حکمران طبقے کو اس ناکہ بندی کے معاشی اثرات سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اس لیے تہران میں فیصلہ سازی کے سوال پر اختلافات موجود ہونے کے باوجود انہیں حل کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ اور شاید یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ بظاہر کوئی ایسا لیڈر موجود نہیں ہے جو عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان سوچ کا فرق ختم کر سکتا ہو۔