Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
جمعرات, نومبر 5, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • الگورتھم کے قیدی ، بے چہرہ ہجوم اور چیئرمین ماؤ : وجاہت مسعود کا کالم
  • وفاقی کابینہ نے 10 روپے کے نوٹ کی جگہ سکہ متعارف کرانے کی منظوری دے دی
  • امریکی الیکشن نتائج نے ٹرمپ کو ’ لنگڑی بطخ ‘ بنا دیا : نصرت جاوید کا کالم
  • امریکہ میں وسط مدتی انتخابات: ٹرمپ کو تاریخی شکست ، ڈیموکریٹس کا کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول
  • سہیل آفریدی پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے الزامات۔۔ پورا سچ سامنے لایا جائے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • بھگدڑ میں دو افراد کی ہلاکت کے بعد ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت منظور
  • پی آئی اے کے نئے سی ای او ایڈرین ہیملٹن مانز نے عہدہ سنبھال لیا۔
  • ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم ۔۔ قدیم ہندوستانی لسانیات ، پانینی سے مولانا محمد حسین آزاد تک
  • ہارڈ سٹیٹ کے نام پر فسطائی ریاست ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • فضل الرحمان : ریاست کی نوکری سے ریاست کے مدمقابل آنے تک : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » چودھری صاحب قبلہ!: روزن دیوار سے /عطا ء الحق قاسمی
عطاء الحق قاسمی

چودھری صاحب قبلہ!: روزن دیوار سے /عطا ء الحق قاسمی

ایڈیٹراگست 28, 20182 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

میں نے اپنی زندگی میں بہت سے خوراک دشمن دیکھے ہیں لیکن چودھری اللہ وسایا ایسا مرد میدان کم کم ہی دیکھنے میں آیا ہے ۔ چودھری صاحب کھانے کی میز پر بیٹھتے ہیں تو خود کو میدان جنگ میں محسوس کرتے ہیں وہ ’’دشمن‘‘ پر اس طرح جھپٹتے ہیں کہ ان کے ہنر اور چابکدستی کی داد دینا پڑتی ہے ۔ کبھی کبھار جب ان کے دل میں چھری کانٹے سے کھانے کا شوق ابھرتا ہے تو وہ منظر خصوصاً دیدنی ہوتا ہے۔ ’’دشمن‘‘ کے دل پر ان کی اتنی ہیبت طاری ہوتی ہے کہ وہ جان بچانے کے لئے پلیٹ میں ادھر ادھر بھاگنے کی کوشش کرتا ہے مگر چودھری صاحب اس کا پیچھا اس وقت تک کرتے ہیں جب تک وہ ان کی چھری کی زد میں نہیں آ جاتا ، تاہم چودھری صاحب کا کہنا ہے کہ وہ کھانے کو ایک فضول ایکٹویٹی سمجھتے ہیں چنانچہ وہ اس وقت تک کھاتے رہتے ہیں جب تک وہ کھانے سےمتنفر نہیں ہو جاتے یہی عمل وہ اگلے دن بھی دہراتے ہیں بلکہ گزشتہ 65 برس سے دہرا رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ یہ عمل سو سال کی عمر میں بھی اس وقت تک دہراتے رہیں گے جب تک وہ کھانے سے ہمیشہ کے لئے متنفر نہیں ہو جاتے ۔ ان کی یہ کوشش اس حد تک ضرور کامیاب ہوتی ہے کہ انہیں کھاتے دیکھ کر بہت سے لوگ کھانے سے متنفر ہو چکے ہیں۔
کسی زمانے میں چودھری صاحب کی دشمنی مرغ کے ساتھ زوروں پر تھی جسے وہ ککڑ کہتے تھے۔ ککڑ کو دیکھتے ہی ان کے سارے جسم پر دانت اگ آتے۔ انہوں نے اس زمانے میں اتنے ککڑ کھائے کہ ان کے قریب بیٹھنے والوں کو باقاعدہ بانگیں سنائی دیتی تھیں۔ ان کی مرغ دشمنی کا یہ عالم تھا کہ مرغوں نے صبح کے وقت اس خوف سے اذانیں دینا بند کر دیں کہ کہیں چودھری صاحب ان اذانوں کا پیچھا کرتے کرتے ان تک نہ پہنچ جائیں۔ جس شام کو کوئی مرغ اپنے ڈربے میں صحیح سلامت واپس آتا، مرغیاں سجدہ شکر ادا کرتیں۔ لاپتہ مرغوں کی بازیابی کے لئے مرغیوں نے کئی مرتبہ چودھری صاحب کے گھر کے سامنے مظاہرہ بھی کیا۔ ایک دفعہ تو وہ اسلام آباد بھی گئیں لیکن ان کی شنوائی نہ ہوئی۔ اس کے بعد چودھری صاحب کی مرغ دشمنی میں اضافہ ہو گیا۔ اس میں کمی تو برڈ فلو کے بعد آئی، چودھری صاحب کا کہنا تھا کہ اب اس مخلوق سے دشمنی کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ یہ اپنی دشمنی پر خود اترآئی ہے۔
چودھری اللہ وسایا جب کھانے بیٹھتے ہیں تو بھوک نہیں دیکھتے ۔ گھڑی دیکھتے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ کھانا ڈیڑھ گھنٹے تک کھاتے رہنا چاہئے ۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ چودھری صاحب اچھی صحت کے لئے ایکسر سائزبہت ضروری سمجھتے ہیں ۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ ڈیڑھ گھنٹے تک کھانے کا مطلب ڈیڑھ گھنٹے تک ایکسر سائز کرنا ہے۔ انسان اس دوران لقمہ توڑتا ہے۔ یہ ہاتھ کی ورزش ہے اس کے بعد یہ لقمہ منہ تک لے جاتا ہے یہ بازو کی ورزش ہے، پھر یہ لقمہ منہ میں ڈالنے کیلئے منہ کھولتا ہے یہ منہ کی ورزش ہے پھر وہ یہ لقمہ چباتا ہے یہ دانتوں اور جبڑوں کی ورزش ہے ، چنانچہ اس ورزش کے نتیجے میں چودھری صاحب کی صحت دن بدن پھیلتی جا رہی ہے ، ڈاکٹر کئی مرتبہ انہیں ’’صحت‘‘ کا پھیلائو کم کرنے کا مشورہ دے چکے ہیں۔ بلکہ وہ یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ اگر چودھری صاحب نے اپنی ’’صحت‘‘ کم نہ کی تو وہ فوت نہیں ہوں گے بلکہ ایک دن بیٹھے بیٹھے پھٹ جائیں گے۔ اس پر چودھری صاحب بھرپور قہقہہ لگاتے ہیں۔ اس قہقہے کے دوران چودھری صاحب کے جسم کے مختلف حصے علیحدہ علیحدہ پھڑپھڑاتے ہیں جس کے نتیجہ میں انہیں دوبارہ بھوک لگ جاتی ہے اور وہ ایک بار پھر کھانا کھانے بیٹھ جاتے ہیں ۔
چودھری صاحب کے والد بزرگوار اور ان کے دادا حضور بھی انہی کی طرح بسیا ر خور تھے۔ان بزرگوں کو سیاحت کا بہت شوق تھا چنانچہ یہ جہاں بھی جاتے وہاں کچھ دنوں کے بعد قحط پڑ جاتا۔ مختلف اوقات میں دنیا کے مختلف ملکوں میں جوتاریخی نوعیت کے قحط پڑے ان میں چودھری صاحب کےبزرگوں کا بہت دخل تھا۔ زیادہ دور جانے کی کیا ضرورت ہے کسی زمانے میں ہمارا پنجاب غلے کے معاملے میں خود کفیل ہی نہیں بلکہ غلہ برآمد بھی کرتا تھا۔ اب ہمیں درآمد کرنا پڑتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چودھری صاحب روایت پسند انسان ہیں وہ اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہیں ۔ چنانچہ ایک خیال یہ ہے کہ پنجاب میں غلے کی پیداوار میں کمی نہیں آتی بلکہ جو زوال نظر آرہا ہے اس میں چودھری صاحب کے کمال کا دخل ہے۔
چودھری صاحب بہت لبرل مسلمان ہیں نماز روزے سے تو کچھ زیادہ رغبت نہیں ہے تاہم ان تمام مذہبی رسموں کے قائل ہیں جن کا تعلق کھانے پینے سے ہے۔چنانچہ خود بھی نذر نیاز کا اہتمام کرتے ہیں اور دوسروں کی طرف سے دی گئی نیاز میں بھی شریک ہوتے ہیں۔ اپنی طرف سے دی گئی نیاز میں صرف اپنے ان نیاز مندوں کو مدعو کرتے ہیں جو ان کے سامنے سے کوئی چیز اٹھانے کی جسارت نہ کریں۔چنانچہ یہ نیاز مند آخر میں صرف دعا میں شریک ہوتے ہیں ۔ چودھری صاحب چہلم کی تقریبات میں بھی بڑی باقاعدگی سے شرکت کرتے ہیں بلکہ اجنبیوں کے ہاں بھی چلے جاتے ہیں ۔ کہ ایک دن سب کو مرنا ہے چنانچہ وہ ایسے مواقع پر بلاوے کے انتظار میں رہنے کو نفس امارہ کا بہکاوا سمجھتے ہیں ۔ چہلم کی تقریب میں وہ اپنے کھانے کی روٹین یعنی ڈیڑھ گھنٹے کے دورانیے کو دو گھنٹے تک بڑھا دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس کا مقصد محض مرحوم کی روح کو زیادہ سے زیادہ ثواب پہنچانا ہوتا ہے کیونکہ لواحقین نے کھانے کا انتظام کیا ہی مرحوم کی روح کو ثواب پہنچانے کے لئے ہوتا ہے ۔ ایک دفعہ کھانے کے بعد دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور با آواز بلند مرحوم کی مغفرت کے لئے دعا مانگنا شروع کی جس پر کچھ نوجوانوں نے اٹھ کر ان کی پٹائی شروع کر دی کیونکہ یہ چہلم نہیں دعوت ولیمہ تھی۔ چودھری صاحب دراصل کنفیوژ ہو گئے تھے کیونکہ ان کے ذہن پر وہ دعوت چہلم سوار تھی جس میں انہوں نے ابھی شرکت کرنا تھی۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleعمران خان کو فریق نہ بنائیں: تیشہ نظر/وجاہت مسعود
Next Article سیدھے سادے سوال: آئینہ /مسعود اشعر
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

الگورتھم کے قیدی ، بے چہرہ ہجوم اور چیئرمین ماؤ : وجاہت مسعود کا کالم

نومبر 5, 2026

وفاقی کابینہ نے 10 روپے کے نوٹ کی جگہ سکہ متعارف کرانے کی منظوری دے دی

نومبر 5, 2026

امریکی الیکشن نتائج نے ٹرمپ کو ’ لنگڑی بطخ ‘ بنا دیا : نصرت جاوید کا کالم

نومبر 4, 2026
Leave A Reply

حالیہ پوسٹس
  • الگورتھم کے قیدی ، بے چہرہ ہجوم اور چیئرمین ماؤ : وجاہت مسعود کا کالم نومبر 5, 2026
  • وفاقی کابینہ نے 10 روپے کے نوٹ کی جگہ سکہ متعارف کرانے کی منظوری دے دی نومبر 5, 2026
  • امریکی الیکشن نتائج نے ٹرمپ کو ’ لنگڑی بطخ ‘ بنا دیا : نصرت جاوید کا کالم نومبر 4, 2026
  • امریکہ میں وسط مدتی انتخابات: ٹرمپ کو تاریخی شکست ، ڈیموکریٹس کا کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول نومبر 4, 2026
  • سہیل آفریدی پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے الزامات۔۔ پورا سچ سامنے لایا جائے : سید مجاہد علی کا تجزیہ نومبر 3, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.