وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہےکہ فیصل واوڈا نے سنسنی پیدا کی، کوئی 60 ارب روپے کی کرپشن نہیں ہوئی۔
گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات عطاتارڑ کا کہنا تھا کہ ایک سال مکمل ہونے پر حکومت پر الزام تراشی کی گئی،کیا ہی اچھا ہوتا فیصل واوڈا ذکر کردیتےکہ وہ چیئرمین ان کے دور حکومت میں لگایا گیا تھا۔
عطاتارڑ کا کہنا تھا کہ وزیرکے پاس تو پیسا آیا ہی نہیں زمین سے متعلق بورڈ نے فیصلہ کیا، پورٹ قاسم اتھارٹی کا بورڈ اپنے فیصلےکرنے میں بااختیار ہے۔
حکومت کا ایک سال مکمل ہونے پر فیصل واوڈا 60 ارب کا میگا اسکینڈل سامنے لے آئے
وفاقی وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ پورٹ قاسم اتھارٹی کی زمین کا معاملہ 2005 سے چلا آرہا ہے،کمیٹی کے اجلاس میں ہر وزیر کو تیاری کے ساتھ جانا چاہیے۔
خیال رہےکہ حکومت کا ایک سال پورا ہونے پر سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے میری ٹائم کے چیئرمین فیصل واوڈا 60 ارب روپےکا میگا اسکینڈل سامنے لے آئے ۔
گزشتہ روز گفتگو کے دوران فیصل واوڈا نے حکومت کا ایک سال مکمل ہونے پر 60 ارب روپے کے میگا اسکینڈل کا انکشاف کیا تھا۔
فیصل واوڈا نے اسکینڈل کے دستاویزی ثبوت کے ساتھ تفصیلات بتائیں اور کہا کہ اس میں ذمہ داروں کے علاوہ وزیر برائے میری ٹائم قیصر احمد شیخ کی مجرمانہ غفلت بھی شامل ہے۔
پروگرام میں قیصر احمد شیخ نے تسلیم کیا کہ فیصل واوڈا کی وجہ سے قومی خزانے کو 60 ارب روپے کے نقصان سے بچایا گیا لہٰذا ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
(بشکریہ:جیونیوز)
بدھ, ستمبر 16, 2026
تازہ خبریں:
- پیٹرول ، ڈیزل کی قیمتوں میں ستمبر کے دوران ساتویں بار اضافہ : عوام پر 41.55 روپے کا بوجھ ڈالا گیا
- حرف حق دل میں کھٹکتا ہے : وجاہت مسعود کا کالم
- آئین کے شیش محل میں پڑتی دراڑیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- اجتماعی سلامتی: تصور سے عملی حکمتِ عملی تک! امریکہ، ایران جنگ کے تناظر میں ۔۔ ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ (2)
- پیٹرول کی قیمت میں مزید پونے پانچ روپے کا اضافہ : ڈیزل بھی 6 روپے لیٹر مہنگا
- عوام سے لیڈروں کی دور ی کسی طوفان کا پیش خیمہ بنے گی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- موٹر سائیکل ، رکشا، 800 سی سی تک گاڑیوں کیلیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف
- ایران، امریکہ جنگ کےشعلے : چین چَین کی بنسری کیوں بجا رہا ہے ۔۔۔ ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ (1)
- اِس شہر کے کتنے روپ ہیں؟ ۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- دنیا میں امریکہ کا متبادل موجود نہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ

