ملتان۔ (اے پی پی):نامورترقی پسنددانشور،پنجابی و سرائیکی کےشاعراورماہرتعلیم پروفیسر عابد عمیق کو ہم سے بچھڑے ایک برس بیت گیا۔
عابدعمیق نے گورنمنٹ کالج مظفر گڑھ سےاپنے کیریئرکاآغاز کیا،وہ انگریزی کے استاد تھے۔انہیں ضیا الحق کے دور میں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرناپڑیں۔انہیں 1981 میں ڈاکٹرصلاح الدین حیدر کےہمراہ گرفتارکیاگیا۔6 ماہ بعدرہائی عمل میں آئی توان کاتبادلہ ناڑہ کنجورکردیاگیا۔عابدعمیق واضح نظریات رکھتے تھے۔ پنجابی اورسرائیکی میں ان کی شاعری کوبھرپور پذیرائی ملی۔ عابد عمیق کی کتاب ”تل وطنی“ کے نام سے منظرعام پرآئی۔ان کا31دسمبر 2021کو 81برس کی عمر میں ملتان میں انتقال ہوگیاتھا۔
بدھ, اکتوبر 28, 2026
تازہ خبریں:
- خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم

