عربی کی عمر کے بارے میں عام غلط فہمی ہے کہ یہ اسلام کے ظہور کے ساتھ یا اس سے سو دو سو سال پہلے حجاز میں شروع ہوئی، حالانکہ یہ اسلام سے کم از کم 1000 سال پرانی زبان ہے۔ماہرین لسانیات کے مطابق عربی کا اب تک کا سفر 3 مرحلوں میں طے ہوا۔۔
پہلا مرحلہ پروٹو-عربی (1000 – 500 ق م) عربی کی ماں جزیرہ نما عرب کے شمال مغرب (موجودہ اردن، جنوب شام، شمال مغربی سعودیہ) میں بولی جاتی تھی۔ اسی علاقے سے ثمودی، صفائی اور لحیانی کتبے ملتے ہیں جو عربی جیسی زبان میں ہیں۔
دوسرا قدیم عربی (500 ق م – 500 عیسوی) یہ وہ عربی ہے جو خانہ بدوش قبائل صحرا میں بولتے تھے۔ یہ لکھی کم جاتی تھی کیونکہ اس کا اپنا حروف تہجی نہیں تھا، وہ نبطی رسم الخط استعمال کرتے تھے۔
تیسرا فصیح عربی (500 عیسوی کے بعد) جو عربی ہم قرآن کریم میں پڑھتے ہیں، یہ حجاز اور نجد کے قریش وغیرہ قبائل کی بولی تھی جو 5ویں صدی میں معیاری بن گئی۔
عربی کی قدیم ترین تحریر
سب سے پرانا لفظ(815 ق م) عراق میں آشوری بادشاہ شلمنصر سوم کے کتبے میں ایک عربی سردار کا نام (جندب العرب) آیا ہے، جو عربی کا پہلا مکمل نام ہے اور لفظ عرب بھی پہلی بار کہیں تحریر شدہ ملا ہے اگرچہ یہ عربی رسم الخط میں نہیں ۔
عربی کی قدیم ترین تحریریں رقوش اور نمارہ کی تیسری اور چوتھی صدی عیسوی کے کتبات ہیں
کتبہ رقوش ایک قبر کا کتبہ ہے جو کعبو بن حارث نامی شخص نے اپنی والدہ رقوش بنت عبد مناف کی قبر کے لیے بنوایا تھا ، زبان عربی ہے لیکن رسم الخط نبطی ہے۔
کتبہ نمارہ (328 عیسوی) شام میں جبل الدروز کے پاس ملا۔ یہ امرؤ القیس نامی عرب بادشاہ کی قبر کا کتبہ ہے جو نبطی رسم الخط میں ہے لیکن زبان خالص عربی ہے ، اس میں ملک العرب کلہ بھی لکھا ہے یعنی تمام عرب کے بادشاہ_ آج کل یہ لوور میوزیم پیرس میں ہے۔ 100 سال تک اسی کو قدیم ترین عربی مانا جاتا رہا۔
2. عین عبدات کا کتبہ (125 عیسوی سے پہلے) اسرائیل کے صحرائے نقب میں ملا۔
3. (2018) میں سعودی جرمن مشن کو تبوک کے قریب جبل رم میں 100 عیسوی سے پہلے کا نبطی رسم الخط میں عربی کتبہ ملا جس میں "میں عبادت کرتا ہوں…” جیسا جملہ ہے۔ اب اسے قدیم ترین عربی جملہ مانا جاتا ہے۔
لکھنے میں عربی 100 عیسوی سے ملتی ہے، بولنے میں 1000 ق م سے۔
سنسکرت کے بعد عربی دنیا کی پہلی بڑی زبان ہے جس پر گرامر کا اتنا منظم کام ہوا۔
پہلا دور – نقطوں اور اعراب کا دور (632-700 عیسوی)
حضرت علی کے حکم پر ابو الاسود الدؤلی (وفات 689) نے قرآن مجید کی تلاوت میں غلطیوں سے بچنے کے لیے اعراب (زبر زیر پیش) اور نقطے ایجاد کیے اور عربی نحو کے ابتدائی اصول بھی تحریر کیے۔ ابولاسود حضرت علی علیہ السلام کے دور میں بصرہ کے قاضی تھے اور بعد میں وہاں کے گورنر بھی رہے۔ ان کا نام بہت دلچسپ تھا ابولاسود ظالم بن عمرو بن سفیان الدولی ۔
دوسرا دور – گرامر اور لغت کا دور
(750-800 عیسوی
ابو عبدالرحمن خلیل بن احمد فراہیدی عمان میں پیدا ہوئے ، ایرانی النسل تھے (وفات 786) بصرہ میں ہوئی ، شاعر لغت کے ماہر ، عروض کے بانی اور موسیقی کے بھی ماہر تھے۔ انہوں نے عربی لغت کی کتاب العین لکھی اور عربی شاعری کے وزن (عروض) ایجاد کیے۔ موسیقی پر ان کی کتاب النغم کا بھی ذکر ملتا ہے ۔
سیبویہ (وفات 793)
عمرو بن عثمان بن قنبر الحارثی خلیل بن احمد کے شاگرد تھے۔ یہ بھی فارسی النسل تھے۔ انہوں نے بصرہ اور کوفہ کے دیگر علماء سے بھی حصول علم کے لیے استفادہ کیا انہوں نے عربی گرامر پر مبسوط کتاب الکتاب لکھی جو آج تک عربی کی سب سے بڑی گرامر سمجھی جاتی ہے۔ اس کتاب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ "سیبویہ نے گرامر کی ایسی کتاب لکھی ہے جس کے بعد کوئی اور کتاب لکھنے کی ضرورت ہی نہ رہی”۔
یورپ میں ابھی تک گرامر کا تصور نہیں آیا تھا جبکہ بصرہ اور کوفہ میں لسانیات پر سائنسی کام اپنے عروج پر تھا۔

