اتفاق کی بات ہے کہ میری نظر محلے کے شاعر نما پر پڑی ۔جو کہ الُول، جلُول، مجہُول بلکہ خاصے نامعقول سے آدمی ہیں ۔ لیکن اس وقت وہ اس وقار سے چل رہے تھے۔ جیسے اردو ادب کی آخری امید انہی کے کندھوں پر رکھی ہو۔ حالانکہ ادب خود ان سے جان چھڑانے کے راستے ڈھونڈ رہا تھا ۔ یا شاید انہیں یقین ہو گیا تھا کہ اقبال کے ادبی جانشین وہی مقرر ہوں گے۔حالانکہ ان کی جیب کا قحط ایسا تاریخی تھا کہ خودداری نےکفن پوشی سے پہلے ہی توبہ کر لی تھی ۔لیکن جاتے جاتے یہ نوٹس چسپاں کر گئی تھی کہ براہِ کرم یہاں پیسوں کا ذکر نہ کریں ۔مریض کی حالت پہلے ہی تشویش ناک ہے۔ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ اشعار سے کم اور اپنی خستہ حالی سے زیادہ شاعر لگتے تھے۔ سر کے بکھرے ہوئے بال، بغل میں دبی صدیوں پرانی بیاض، اور چہرے پر ہمیشہ طاری رہنے والی وہ غائبانہ کیفیت۔ جس کا حقیقتِ حال سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔
اردو ادب میں اگر کبھی سرقہ شریف کو قومی کھیل کا درجہ ملا ،تو اس کے غیر سرکاری کوچ بھی یہی قرار پائیں گے ۔اسی لیئے اگر آپ کہیں بھی جا رہے ہوں تو ان کی پشت پر نظر ڈالنے سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اردو ادب اپنی گمشدہ اشیا ء کی فہرست لیے ان کے پیچھے پیچھے دوڑ رہا ہو۔ شاعر نما ہمارے علاقے کی واحد ایسی ادبی شخصیت ہیں ۔کہ جنہیں دیکھتے ہی انسان کو فوراً یقین ہو جاتا ہے اگر ادب میں ری سائیکلنگ کی وزارت بنتی تو موصوف عمر بھر اور بلا مقابلہ اس کے وزیر رہتے۔ موصوف چوری کے شعر کہنے میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کا موقف بڑا دلچسپ ہے۔ فرماتے ہیں کہ گزشتہ پندرہ برسوں میں انہوں نے جتنے اشعار کہے ہیں۔ ان میں سے "صرف دو سو اشعار” ہی دوسرے شاعروں کے نکلے ہیں۔ باقی تمام کے اصل مالک ابھی تک نامعلوم ہیں۔مجھ پر نظر پڑتے ہی چونک کر بولے۔اگر کےٹو ۔کا سگریٹ پلاتے ہو، تو ایک بہت عمدہ شعر سناتا ہوں۔ یہ سن کر میں نے فوراً ہاتھ جوڑتے ہوئے عرض کیا۔حضور! اگر آپ شعر نہ سنانے کا وعدہ کریں ۔تو میں آپ کو گولڈ لیف کا پورا پیکٹ پیش کرنے کو تیار ہوں۔چنانچہ بات ڈن ہو گئی۔ گولڈ لیف کا لمبا کش لیتے ہوئےآپ نے بلا وجہ ہی آنکھیں مخمور کر لیں۔پھر وعدے کا پالن نہ کرتے ہوئے کہا۔ شعر سنو ۔ ابھی آپ نے شعر سنایا بھی نہیں تھا کہ چہرے پر یوں اعتمادِ کامل امڈ آیا جیسے نقل کی پرچی جیب میں ہو اور ڈیوٹی والا استاد کوئی قریبی رشتہ دار نکل آئے ۔ جھٹ سے شعر داغتے ہوئے بولے۔ رات ہی کہا تھا ۔
کل چودھیویں کی رات تھی بالٹی میں تیرا عکس دیکھا
اور پھر بالٹی کو ہلا ہلا کر تیرا رقص دیکھا
شعر سن کر میں چند لمحے خاموش رہا۔ میری خاموشی کسی ادبی تعظیم کے تحت نہیں بلکہ اس گہرے گڑھے سے نکلنے کی تگ و دو تھی جس میں موصوف نے مجھے دھکیل دیا تھا۔ اوپر سے شعر بھی سنا رہے تھے۔آخر میں نے عرض کیا۔حضور! یہ شعر تو میں نے اپنے بچپن میں سنا تھا۔شاعر نما ذرا بھی شرمندہ نہ ہوئے۔ الٹا مسکرا کر بولے۔بچپن میں سنا تھا تو اب بھی سن لو۔ اچھی شاعری بار بار سننی چاہیے۔پھر بڑی ادا سے کہنے لگے۔ بات یہ ہے بزرگ آدمی! کہ ہم اشعار کو ری سائیکل کر کے انہیں ماحول دوست بناتے ہیں۔
ان کے منہ سے بزرگی والی بات سن کر جی چاہا کہ ان کے ہاتھ سے گولڈ کا پیکٹ چھین لوں۔ جس پر میرا زر کثیر صرف ہوا تھا ۔شاید وہ بھی بھانپ گئے۔چنانچہ آپ نے جلدی سے اسے۔اپنی اس جیب میں منتقل کر دیا جس کی گہرائی پانچ سو میل بتائی جاتی ہے۔ پھر کھسیانے سے ہو کر بولے بزرگی سےمراد عمر والی نہیں بلکہ عقل والی تھی۔چلو اسی خوشی میں دوسرا شعر سنو ،یہ بھی رات تین بجے وارد ہوا تھا۔
چائے میں رونق چینی سے ہے
روڈ پر رونق رکشوں سے ہے
۔۔۔۔۔یہ سن کر میں پھر احتجاج کرتے ہوئے بولا ۔جناب یہ شعر تو ہم نے بزم ادب میں ہزار دفعہ سنایا ہوا ہے۔ شاعر نما نے حیرت سے میری طرف دیکھا اور بولے۔اس کا مطلب ہے شعر مقبول ہے۔ اچھا شاعر وہی ہوتا ہے جس کا کلام لوگ بار بار سنیں ۔میں ابھی ان کے اس ادبی فلسفے سے سنبھل بھی نہ پایا تھا کہ وہ فوراً بولے۔اچھا یہ سنو، یہ بالکل نیا ہے۔
مگر لکھوائے کوئی اُس کو خط تو ہم سے لکھوائے
ہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے
سن کر عرض کیا حضور کچھ خدا کا خوف کریں۔ یہ تو مرزا غالب کا مشہور شعر ہے۔کہنے لگےدیکھو یار شعر میرا ہی ہے۔البتہ کچھ عرصے سے دیوان غالب میں رہ رہا تھا ۔ اس پر میں نے احتجاج کے لیئے منہ کھولا ہی تھا کہ جلدی سے بولے۔بات یہ ہے دوست کہ ملک میں مہنگائی اتنی بڑھ چکی ہے کہ اب لوگ مکان، گاڑی اور حتیٰ کہ وائی فائی کا پاسورڈتک بھی شیئر کرنے لگے ہیں۔ تو پھر اشعار شیئر کرنے میں کیا حرج ہے؟۔میں نے محسوس کیا کہ بحث کرنا وقت کا ضیاع ہے۔ مگر تجسس کی خاطر پوچھ بیٹھا۔آپ نے اپنی زندگی میں کوئی اصل شعر بھی کہا ہے؟۔شاعر نما تھوڑی دیر سوچ کر بولے۔کوشش تو بہت کی تھی۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ جو شعر میں کہنے لگتا ہوں ۔وہ پہلے ہی کسی نہ کسی شاعر نے کہہ رکھا ہوتا ہے۔پھر رازدارانہ انداز قریب آ کر بولے۔اصل مشکل یہ نہیں کہ شعر مل جاتا ہے۔بلکہ مشکل یہ ہے کہ اس کا اصل مالک بھی مل جاتا ہے۔اسی دوران انہوں نے اپنی اسی جیب سے، جس کے متعلق روایت ہے کہ ایک بار رکھا گیا سکہ تین ماہ بعد برآمد ہوا تھا۔ ایک بوسیدہ ڈائری نکالی۔ میں نے سمجھا شاید اب واقعی اپنا کلام سنائیں گے۔ مگر ڈائری کے پہلے صفحے پر جلی حروف میں لکھا تھا۔مجموعۂ کلام (مرتبہ۔ مختلف مجبور شعرا)۔ یہ پڑھ کر میں نے ان سے کہا کہ اگر مرتبہ کی بجائے مرتبان لکھ دیں تو زیادہ جچے گا۔ انہوں نے ڈائری بند کرتے ہوئے رخصت چاہی اور جاتے جاتے بڑے فخر سے بولے۔ تم لوگ ناحق سرقے کا الزام لگاتے ہو۔ حالانکہ ہم تو ادبی ورثہ محفوظ کر رہے ہیں۔میں نے عرض کیا۔ جی ہاں، فرق صرف اتنا ہے کہ قومی عجائب گھر میں نوادرات کے نیچے اصل مالک کا نام بھی لکھا ہوتا ہے۔ یہ سن کر موصوف فوراً بیاض کھولتے ہوئے بولے۔واہ! کیا بات کہی ہے آپ نے۔۔۔ ذرا دہرائیے گا۔ اگلی شعری نشست میں اپنے نام سے داغنی ہے۔
جمعرات, نومبر 5, 2026
تازہ خبریں:
- شاعر نما اور ادبی ری سائیکلنگ کا قصہ : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- ٹرمپ کی صدارت، کانگریس کی مزاحمت اور عالمی سیاست کے نئے سوالات : شہزاد عمران خان کا تجزیہ
- الگورتھم کے قیدی ، بے چہرہ ہجوم اور چیئرمین ماؤ : وجاہت مسعود کا کالم
- وفاقی کابینہ نے 10 روپے کے نوٹ کی جگہ سکہ متعارف کرانے کی منظوری دے دی
- امریکی الیکشن نتائج نے ٹرمپ کو ’ لنگڑی بطخ ‘ بنا دیا : نصرت جاوید کا کالم
- امریکہ میں وسط مدتی انتخابات: ٹرمپ کو تاریخی شکست ، ڈیموکریٹس کا کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول
- سہیل آفریدی پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے الزامات۔۔ پورا سچ سامنے لایا جائے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- بھگدڑ میں دو افراد کی ہلاکت کے بعد ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت منظور
- پی آئی اے کے نئے سی ای او ایڈرین ہیملٹن مانز نے عہدہ سنبھال لیا۔
- ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم ۔۔ قدیم ہندوستانی لسانیات ، پانینی سے مولانا محمد حسین آزاد تک

