پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے حوالے سے ہونے والے مباحث میں محض اس وقت دلچسپی پیدا ہوتی ہے جب دو فریق ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے ہوئے عام لوگوں کی تفریح طبع کے لیے مواد فراہم کرتے رہیں۔ البتہ اگر اس حوالے سے کوئی حقیقی چیلنج سامنے آئے یا صریحاً ناانصافی کا مشاہدہ ہو تو میڈیا بھی اس خبر کو زیادہ اہمیت دینے پر آمادہ نہیں ہوتا۔
لگتا ہے نہ لوگوں کو ایسے حقوق سے غرض ہے اور نہ ہی اس کے چیمپئن ہونے کے دعویدار لیڈر درحقیقت کسی انصاف پسند جمہوری نظام کے خواہاں ہیں۔ البتہ بیان بازی اور الزام تراشی کی حد تک دکان داری کا سلسلہ جاری رکھا جاتا ہے۔گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران پاکستان میں دو اہم معاملات پر خبریں سامنے آئیں۔ ان میں سے زیادہ تشویشناک انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو کار سرکار میں مداخلت کے الزام میں دس، دس سال قید کی سزا کا معاملہ تھا۔ انہیں اس سے پہلے جنوری میں سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد پوسٹ کرنے کے ایک مقدمہ میں ستر ہ ، سترہ برس قید کی سزا دی جاچکی تھی۔ تاہم یہ سزائیں سپریم کورٹ نے معطل کردی ہیں تاکہ اعلیٰ عدالتوں میں ان مقدمات کا حتمی فیصلہ ہوسکے۔ البتہ ان دونوں میاں بیوی کو جنوری ہی سے حراست میں رکھا گیا ہے اور انہیں ضمانت پر رہا کرانے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر دیگر متعدد الزامات میں بھی مقدمے قائم ہیں۔ ان سب پر بھی عدالتی حکم جاری ہوسکتے ہیں۔
دوسرے معاملے میں جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی حکومت، اسٹبلشمنٹ اور ریاست کے خلاف دھؤاں دار تقریریں اور ان پر جوابی دھمکی آمیز جوابات کا سلسلہ ہے۔ قومی اسمبلی میں تقریر کے علاوہ پریس کانفرنسوں کے ذریعے مولانا فضل الرحمان حکومت اور ریاست سے اپنی شدیدناراضی کا اظہار کررہے ہیں۔ عام طور سے سنبھل کر بات کرنے کے حوالے سے مشہور جمیعت کے لیڈر اس وقت شدید ناراض دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طرف وہ تحریک انصاف کے خلاف حکومتی اقدامات کو آئین کے خلاف قرار دیتے ہیں تو دوسری طرف کھل کر ریاست کو چیلنج کرکے واضح کررہے ہیں کہ وہ خود ’ماورائے قانون و آئین‘ شخصیت ہیں کیوں کہ وہ اپنے مدرسوں کے زور پر بڑی تعداد میں طالب علموں کو احتجاج کے لیے سڑکوں پر لا سکتے ہیں۔ تاہم اب دکھائی دیتا ہے کہ انہیں شاید اپنی دھمکیوں پر عمل درآمد کا موقع اتنی آسانی سے نہ مل سکے جو ماضی میں ان کا طرہ امتیاز رہا ہے۔
تاہم ان دونوں معاملات کا مطالعہ کرنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی حد تک جمہوریت یا انسانی حقوق کسی لیڈر کا بھی اہم مسئلہ نہیں ہے ۔ اور شایدملک کے لوگ بھی لیڈروں کے جھوٹے وعدوں، بے اعتدالی اور گمراہ کن رویوں کی وجہ سے اس حد تک مایوس ہوچکے ہیں کہ وہ بھی بیان بازی کا ’لطف‘ تو اٹھاتے ہیں اور ایسی نوک جھونک پر ہونے والے تبصروں اور خبروں کو بھی سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں دیکھا یا سنا جاتا ہے اور شئیر کیا جاتا ہے لیکن جب کسی شخص کے بنیادی حقوق کا معاملہ ہو تو ایک آدھ تنظیم کے رسمی بیان سے معاملہ آگے نہیں بڑھ پاتا۔ ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی قید اور ان کے خلاف یکے بعد دیگرے سزاؤں کے اعلانات اسی زمرے میں آتے ہیں۔ وکلا کا یہ نوجوان جوڑا عدالتوں میں مظلوموں کے مقدمات لڑنے اور پسماندہ لوگوں کو قانونی امداد دینے کے لیے مشہور ہے ۔ تاہم ایسی کوششوں میں ایمان مزاری اس حد تک بڑھ گئیں کہ ریاست کی جبیں شکن آلود ہونے لگی ۔ اور اب وہ اپنے شوہر کے ہمراہ اس کا خمیازہ بھگت رہی ہیں۔ البتہ ملک بھر میں سیاسی جماعتوں کے علاوہ وکلا کے گروہوں یا انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی سول سوسائیٹی کی بے بسی مشاہدہ کی جاسکتی ہے کہ نہ تو ان دونوں کو ضمانت پر رہائی نصیب ہورہی ہے اور نہ ہی ملک میں ان کے حق میں کوئی مؤثر یا طاقت ور مہم دیکھنے میں آئی ہے۔
حکومت سیاسی لیڈروں یا کارکنوں کے خلاف کامیابی سے عدالتی نظام کو استعمال کرنے کے علاوہ ایسی ہر پریشان کن آواز کو دبانے میں کامیاب ہورہی ہے جو خود مختاری سے معاملات پر اظہار خیال کا حق استعمال کرنا چاہتی ہے یا بنیادی حقوق اور قانون کی عمل داری کی بات کرتی ہے۔ اس حوالے سے خاص طور سے پشتون نوجوانوں کی تحریک پی ٹی ایم پر اکتوبر 2024 میں پابندی لگا دی گئی تھی۔ اس وقت سے اس کے لیڈر منظور پشتین سمیت متعدد رہنما روپوش ہیں یا زیر حراست ہیں۔ اسی طرح بلوچ یک جہتی کمیٹی کی لیڈر ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کو مارچ 2025 میں کوئٹہ سے گرفتار کرلیا گیا اور چند ماہ بعد ہی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے انہیں عمر قید کی سزا سنا دی۔ اس وقت سے ان کی تنظیم بھی غیر فعال ہے اور بلوچوں کے حقوق کے بارے میں کوئی آواز بھی بلند نہیں ہوئی۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی قید اور انہیں ملنے والی سزاؤں کو بھی ریاست و حکومت کی اسی حکمت عملی کے تناظر ہیں دیکھنا چاہئے کہ اس وقت ملک میں بنیادی حقوق اور انصاف کے بارے میں اٹھنے والی کسی آواز کو برداشت کرنے کا ماحول نہیں ہے۔ لیکن عوامی سطح پر اس صورت حال کو تبدیل کرانے کے لیے کوئی دباؤ بھی منظم نہیں ہوپارہا۔
اس کے برعکس بیانات کی حد تک تند و تیز الزامات و جوابی بیانات سے میڈیا میں رونق لگانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلہ کی تازہ ترین قسط میں مولانا فضل الرحمان اسٹبلشمنٹ کے خلاف اپنی ’جد و جہد‘ سے ظاہر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس سے قطع نظر کہ مولانا کس حد تک اپنی اس کاوش میں کامیاب ہوتے ہیں اور ملک میں سیاسی و عمومی آزادی بحال کرانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں لیکن ان کے لب و لہجہ اور کسی حد تک اشتعال انگیز بیانات سے بات سیاسی رنگ آمیزی تک پہنچ چکی ہے۔ ایسی صورت حال میں اصولوں کی بنیاد پر حقوق کی بات دب کر رہ گئی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے سیاسی ماضی کی روشنی میں ان سے کسی عوامی سیاسی تحریک کی امید بھی نہیں کی جاسکتی۔ البتہ ان کی طرف سے پیدا کیے ہوئے تازہ تنازعہ نے میڈیا کی آزادی کے علاوہ ملک کی سیاست کے مختلف گوشوں کو ضرور نمایاں کیا ہے۔
گزشتہ روز و قومی اسمبلی میں پرجوش تقریر کے دوران مولانا فضل الرحمان نے وزیر دفاع خواجہ آصف کو اس بات پر شرمندہ کرنے کی کوشش کی کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران میں مکہ دفاعی پیکٹ کے رکن ممالک کے اجلاس میں وزیر داخلہ محسن نقوی کے ساتھ شریک ہوئے لیکن وزیر دفاع پاکستان ہی میں موجود رہے ۔حالانکہ تہران میں ان کے بقول ’نیا دفاعی معاہدہ طے پارہا تھا‘۔ مولانا کا یہ الزام کسی سیاق و سباق کے بغیر تھا اور خواجہ آصف نے جوابی تقریر میں دعویٰ کیا کہ مولانا کو اگر خیبر پختون خوا کے اقتدار میں حصہ مل جاتا تو یہ غصہ دیکھنے میں نہ آتا۔
دوسری طرف سینیٹ میں مولانا پر نکتہ چینی کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے واضح کیا کہ ’مولانانے ریڈ لائن عبور کی ہے۔ اب انہیں پتہ ہونا چاہئے کہ مستقبل میں انہیں ریاست کی نوکری نہیں ملے گی‘۔ یہ ان سیاسی مراعات کی طرف اشارہ تھا جو اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مل کر ملک کے آئینی جمہوری نظام کو کھلواڑ بنانے میں متعدد سیاسی لیڈر حاصل کرتے رہے ہیں۔ البتہ اس وقت مولانا فضل الرحمان بظاہر ریاست کو نوکری کی درخواست دینے کی بجائے، اس کے مقابلے پر اترنے کا اعلان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اسی پاداش میں اسلام آباد میں ان کے گھر کے باہر تجاوزات گرانے کا پبلک نوٹس چسپاں کردیا گیا ہے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
ہفتہ, اکتوبر 31, 2026
تازہ خبریں:
- فضل الرحمان : ریاست کی نوکری سے ریاست کے مدمقابل آنے تک : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- گوجرانوالہ: ولیمے کے روز دلہن کو قتل کرنے والا مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- نونی سیاست اور ’’ گستاخ ‘‘ تماشائیوں کا خطرہ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 10 ، 10 سال قید کی سزا : عدالت اڈیالہ جیل میں لگی
- اسرائیلی انتخابات میں عرب پارٹیوں کی کامیابی :کیا نیتن یاہو اقتدار بچا لیں گے ؟
- ہند یورپی زبانیں بولنے والوں کا آبائی وطن : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی سمیت چار افراد کے وارنٹ گرفتاری
- نیتن یاہو اکثریت حاصل نہ کرسکے ’’ حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ
- خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم

