ملتان میں گاڑی سے کچل کر ایک یتیم بچے کو ہلاک کرنے والے شخص کی پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد تشدد کے متعدد واقعات میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے تشدد کا جواب تشدد سے دینے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ اس رویہ سے صوبے میں قانون کی عمل داری اور عدالتوں کے دائرہ اختیار کے بارے میں سنگین سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ یہ سوال بھی کیا جاسکتا ہے کہ کیا صوبائی حکومت خود قانون نافذ کرنے میں ناکام ہوچکی ہے؟
وزیر اعلیٰ مریم نواز خود ان سوالات کا جواب دینے پر آمادہ نہیں ہوں گی۔ یہ خبر بھی شاذ و نادر ہی سننے میں آتی ہے کہ وزیر اعلیٰ صوبائی اسمبلی میں آئی ہوں اور عوامی دلچسپی کے عمومی مسائل پر مباحثہ میں حصہ لیا ہو یا اپنے طرز حکمرانی کے بارے میں اسمبلی اراکین کے سوالات کے جواب دیے ہوں۔ کسی منتخب عہدےدار کی جواب دہی کا فوری اور مؤثر ترین ذریعہ اس اعلیٰ عہدے پر فائز شخص کی اسمبلی میں مسلسل شرکت اور مشکل یا حساس موضوعات پر اٹھنے والے سوالات کا جواب دینا ہی ہوسکتا ہے۔ لیکن پنجاب کی وزیر اعلیٰ اسمبلی کے ذریعے عوامی جوابدہی کا سامنا کرنے کی بجائے سوشل میڈیا کے ذریعے ظلم یا تشدد کا نشانہ بننے والے واقعات میں متاثرین کی حوصلہ افزائی کے ذریعے جوابی تشدد کی حوصلہ افزائی کررہی ہیں۔ یہ طرز عمل ایک طرف وزیر اعلیٰ کی قانونی معاملات پر کمزور گرفت کا آئینہ دار ہےتو دوسری طرف تشدد کے جواب میں تشدد کرنے کے رجحان سے معاشرہ مہذب بننے کی بجائے جنگل کے قانون کی طرف سفر کرے گا۔
گویا مریم نواز جس مقصد کے لیے ’مظلومین‘ یا متاثرین کو صوبائی حکومت کی طاقت کے بل بوتے پر خود پر ظلم کرنے والے سے انتقام لینے کا سبق پڑھا رہی ہیں، اس کا نتیجہ مزید لاقانونیت کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ حالانکہ وزیر اعلیٰ کی بلاشبہ یہی نیت ہوگی کہ اگر ظلم کرنے والے کو براہ راست سزا مل جائے اور حکومت اس رد عمل کی حوصلہ افزائی کرے تو اس سے معاشرے میں غیر قانونی طریقے سے تشدد کرنے اور قانون کو ہاتھ میں لینے کا طریقے کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ لیکن سماجی نفسیات اور انسانی تاریخ کا مطالعہ یہی سبق سکھاتا ہے کہ اس قسم کے ہتھکنڈے کسی حکمران کے لیے فوری شہرت یا نام نہاد نیک نامی کا سبب تو بن سکتے ہیں لیکن اس طرح کے طریقوں سے معاشرے میں امن و امان یا قانون کے احترام میں اضافہ نہیں ہوسکتا۔ تھپڑ کے بدلے تھپڑ ، تشدد کے رجحان کو کم کرنے کی بجائے اس میں اضافہ کا سبب بنے گا۔ اس طرح مریم نواز اس ، مقصد میں بری طرح ناکام ہوں گی کہ پنجاب کو پر امن معاشرہ بنانے کے لیےقانون کے مطابق انصاف کا انتظار کرنے کی بجائے ’ فوری بدلہ لینے‘ کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اس سے نہ انصاف آسان ہوگا اور نہ قانون کے احترام میں اضافہ ہوگا۔
اس حوالے سے مثال کے طور پر حال میں رونما ہونے والے تین واقعات کا حوالہ د یاجاسکتا ہے۔ لاہور میں موٹر سائیکل پر سوار ایک شخص نے اس کے راستے میں آنے والی اسکوٹی چلانے والی ایک بچی کو روکا اور اس پر بیچ سڑک شدید تشدد کیا۔ بعد میں یہ شخص گرفتار ہوگیا اور عدالت نے اسے ضمانت پر رہا کردیا۔ مریم نواز نے ’ایکس‘ پر ایک پیغام میں اس عدالتی فیصلہ کو ’افسوسناک‘ قرار دیا۔ پھر انہوں نے متاثرہ لڑکی کو فون کرکے مشورہ دیا کہ وہ خود پر تشدد کرنے والے شخص کو اتنے ہی تھپڑ رسید کرے جتنے اس شخص نے اسے مارے تھے۔ تاہم اس طالبہ نے وزیر اعلیٰ کی یہ ’پیش کش‘ قبول کرنے سے انکار کردیا اور حکومتی کارروائی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ مریم نوازجس شخص کو جوابی تھپڑ مار کر حساب برابر کرنے کا مشورہ دےرہی تھیں،عدالت اسے ضمانت پر رہا کرچکی ہے لیکن اس کے خلاف مقدمہ کی کارروائی جاری ہے۔ اگر طالبہ وزیر اعلیٰ کا مشورہ مان لیتی تو اس پر کیسے عمل ہوتا؟ یہ کہ پولیس وزیر اعلیٰ کے حکم پر اسے پکڑتی اور متاثرہ لڑکی اسے تھپڑ رسید کرتی۔ اس کے بعد بھی عدالتی کارروائی اگرچہ بدستور چلتی اور کوئی جج شاید اسے اس جرم کی سزا بھی دے دے۔ لیکن انتقامی کارورائی پوری ہونے کے بعد عدالت کا یہ فیصلہ کس حد تک درست اور جائز تصور کیا جاتا؟
دوسرے واقعہ میں ایک شخص مشتعل ہوکر وہاں کام کرنے والے ملازم کو زد و کوب کرتا ہے۔ تاہم پولیس اسے حراست میں لے لیتی ہے ۔ تھانے میں متاثرہ شخص زیر حراست ملزم کر تھپڑ رسید کرتا ہے۔ مریم نواز نے اس رجحان کی حوصلہ شکنی کی بجائے، جوابی تھپڑ مارنےکی ویڈیو سوشل میڈیا پر شئیر کی اور اس طریقے کو سراہا۔ بعد میں فریقین کے درمیان معاملہ طے ہوجانے کے بعد عدالت سے مقدمہ خارج ہوچکا ہے۔ قرائن سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جوابی تھپڑ مارنے کا وقوعہ شاید وزیر اعلیٰ کو خوش کرنے کے لیے ہی ریکارڈ کرکے عام کیا گیا ہو۔ ایک اور وقوعہ میں ایک استاد نے کینٹین سے معمولی چوری کرنے پر ایک طالب علم کو جوتے سے مارا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس واقعہ پر شدید غصہ کا اظہار کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ بچے کو جوتے سے اس استاد کو مارمار کر اس کا منہ لال کردینا چاہئے۔
یہ واقعات اور ان پر وزیر اعلیٰ کے رویہ سے ایک طرف اگر چہ ان کی ’انسان دوستی ‘ اور بے بس لوگوں پر ظلم کے خلاف مزاج کی نشاندہی ہوتی ہے لیکن اس سے بڑھ کر یہ واضح ہوتا ہے کہ مریم نواز صوبے کے طاقت ور ترین عہدے پر فائز ہونے کے باوجود قانون مؤثر بنانے، پولیس کو فعال کرنے اور عدالتوں میں مقدمات کی پیروی میں عجلت کے حوالے سے کوئی اقدامات کرنے میں ناکام ہورہی ہیں۔ اگر وزیر اعلیٰ خود ہی قانون کو ’انصاف‘ کے لیے ناکافی سمجھتی ہیں تو عام شہری صوبے میں قانون کی بالادستی اور بروقت ضرورت پولیس کی مدد ملنے پر کیسے یقین کرسکتا ہے۔ لگ بھگ 13 کروڑ کی آبادی والے صوبے کا ہر شخص تو مریم نواز کی توجہ حاصل نہیں کرسکتا۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان مسلسل ان امور پر توجہ مبذول کراتا رہا ہے لیکن حکومتیں ان تجاویز کو سننے کی بجائے اس کے برعکس طرز عمل اختیا رکرنا مناسب سمجھ رہی ہیں۔ کمیشن کے مطابق ماضی میں بچوں اور خواتین کے خلاف جنسی جرائم، ریپ اور تشدد کے متعدد مقدمات میں بھی بظاہر پولیس حراست میں ملزم کی ہلاکت کا پیٹرن دیکھنے میں آیا ہے۔ان واقعات میں پولیس یا کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) عموماً یہ مؤقف اختیار کرتے نظر آئے کہ مبینہ طور پر ملزم کے ساتھی اسے چھڑوانے کے لیے آئے، اس موقع پر فائرنگ ہوئی اور ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں کا نشانہ بن گیا۔ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے رواں برس فروری میں اس حوالے سے ایک فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ بھی جاری کی تھی جس میں 2025 کے آٹھ ماہ کا احاطہ کیا گیا تھا۔ اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ آٹھ ماہ کے عرصے کے دوران پنجاب میں 670 پولیس مقابلوں میں 924 ملزمان مشکوک حالات میں مارے گئے جبکہ ان کارروائیوں میں دو پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔ایچ آر سی پی کی جانب سے جاری کی گئی اس فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ پنجاب میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے مبینہ مقابلوں کی ایک دانستہ پالیسی اختیار کر رکھی ہے جو بہت سے معاملات میں ماورائے عدالت ہلاکتوں پر منتج ہوتی ہے۔ یہ صورتحال صوبے میں قانون کی حکمرانی اور آئینی تحفظات کو بنیادی طور پر کمزور کرتی ہے۔اٹلس نقشے دیکھیں
ماورائے عدالت فیصلے کرنے کی یہ پالیسی اب سنگین جرائم کے علاوہ تشدد اور باہمی جھگڑوں کے عام معاملات تک وسیع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وزیر اعلیٰ کی طرف سے چند دنوں میں تین واقعات پر سوشل میڈیا کے ذریعےتشدد کی حوصلہ افزائی، اس حوالے سے دلیل کے طور پر پیش کی جاسکتی ہے۔ یہ طریقہ نہ تو ایک بڑے صوبے کی وزیر اعلیٰ کو زیب دیتا ہے اور نہ ہی اس سے قانون کی بالادستی اور حکومت کی انصاف پسندی ثابت ہوگی۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
اتوار, اکتوبر 25, 2026
تازہ خبریں:
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم
- جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹ کر دینے کا حکم: مظفر گڑھ میں پنچایت کا فیصلہ ، چار افراد گرفتار
- مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم
- سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی

