سوشل میڈیا پر دکانیں چمکانیں والوں سے قطع نظر اب ملک کے ممتاز تجزیہ نگار، صحافی اور اندر کی خبر کھوج کر باہر نکال لانے والے ’سراغ رساں ‘ بھی یہی بتا رہے ہیں کہ صوبوں کی تقسیم کے سوال پر ملک میں ایک بڑا ’ری سیٹ‘ ہونے والا ہے۔ البتہ یہ بتانے سے گریز کیا جارہا ہے کہ اس تبدیلی کی زد میں کون آئے گا اور اس کا محرک کون سی ایسی قوت ہے جو پارلیمنٹ سے بھی بالا ہے۔
ہونا تو یہ چاہئے کہ ایسی صورت حال سامنے آنے کے بعد ملک کے آئین اور یہاں بنیادی آزادیوں جن میں جمہوریت سب سے اہم کہی جاسکتی ہے، کے حامی میدان میں نکل آتے اور واضح کیا جاتا کہ عوام کی مرضی کے بغیر نہ حکومت تبدیل ہونے دی جائے گی اور نہ ہی منتخب پارلیمنٹ کے ساتھ چھیڑ چھڑا کرنے کی اجازت ہوگی۔ البتہ کان ابھی ایسا احتجاج یا مطالبہ سننے سے محروم ہیں۔ لیکن ملک بھر کے ماہر صحافی بیک زبان یہ ضرور بتا رہے ہیں کہ صدر پاکستان آصف علی زرداری درحقیقت صوبوں کے سوال پر اسٹبلشمنٹ کے ساتھ اختلافات کا شکار ہونے کی وجہ سے ملک سے ’فرار‘ ہوکر اس وقت لندن میں مقیم ہیں جہاں انہیں ’اصلی تے وڈی سرکار‘ کے نمائیندے متنبہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ صوبے تقسیم کرنے کے معاملہ پر اتفاق کرلیں اور معاملات خراب کرنے سے گریز کریں۔
اس سنسنی خیز خبر کا مزہ لیتے ہوئے البتہ کوئی بھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کرے گا کہ جس ’نمائیندے‘ کو اسٹبلشمنٹ کا پیغام بر کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اسی شخص کو کچھ عرصہ پہلے تک یہی صحافی اور ماہرین آصف زرداری کا معتمد خاص بتاتے آئے ہیں۔ لہذا اصولی طور سے یہ جاننا مشکل ہوجاتا ہے کہ ایسی ’اندر‘ کی خبریں لانے والوں کی کون سی اطلاع کو معتبر مان لیا جائے۔ صوبوں کی تقسیم پر ملک کے منتخب صدر کو خود اختیار کردہ ’جلا وطنی‘ پر مجبور کرنے والی قوتوں کے بارے میں البتہ یہ نہیں بتایا جارہا کہ اگر لندن بھاگ جانے کے باوجود آصف زرداری اس رائے یا تجویز سے متفق نہ ہوئے تو ان کے ساتھ کیا کیا جاسکتا ہے۔ اور یہ کیسے باور کرلیا گیا ہے کہ صدر زرداری راضی ہوگئے تو پاکستان میں صوبوں کی تقسیم کا مجوزہ منصوبہ کامیاب ہوجائے گا؟
ایسی خبریں چونکہ معمول سے زیادہ ہجوم اکٹھا کرنے کا سبب بنتی ہیں لہذا صوبوں کی تقسیم جیسے حساس اور پیچیدہ آئینی معاملہ پر بات کرتے ہوئے ملک کا اہم ترین صحافی یا تجزیہ نگار بھی احتیاط سے کام لینے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ اس معاملہ کا یہ پہلو بھی دلچسپ ہونا چاہئے کہ آج ہی سندھ اسمبلی نے ایک قرارداد کے ذریعے سندھ کی تقسیم کے معاملہ کو مسترد کیا ہے۔ اس موقع پر سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے جذباتی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’سندھ کے مستقبل کا فیصلہ کہیں اور بیٹھ کر نہیں کیا جاسکتا۔ ہم قومی اسمبلی کو خبردار کرتے ہیں کہ سندھ کی مرضی کے بغیر صوبہ تقسیم کرنےکی بات بھی نہیں کی جاسکتی۔سندھ میں نئے صوبے نہیں بننے چاہئیں۔ اس بارے میں فیصلہ سندھ میں ہی ہونا ہے، جس سے پتا چل جائے گا کہ کون ساتھ ہے اور کون دوغلا پن کر رہا ہے۔ سندھ کے عوام کے جذبات اور احساسات کو نظرانداز کرنا کسی صورت درست نہیں‘۔
ایسے میں سب سے اہم پہلو تو یہ ہے کہ اگر مراد علی شاہ پاکستان میں رہتے ہوئے صوبوں کی تقسیم کے سوال پر کھل کر اپنی رائے بیان کرسکتے ہیں تو صدر آصف زرداری کو اس سوال پر جواب سے بچنے کے لیے لندن ’فرار‘ ہونے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ کیا وہ سیاسی طور سے مراد علی شاہ سے بھی کمزور اور کم حوصلہ ہیں؟ تاہم دیکھا جاسکتا ہے کہ ملک میں سنسنی پھیلانے کے لیے دلیل یا جواز تلاش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی بلکہ باخبر ذرائع کے حوالے سے کچھ بھی کسی بھی وقت ملک کے لوگوں کو بتایا جاسکتا ہے۔ اب یہ ان کی قسمت کہ وہ ایسی خبروں سے عبرت حاصل کرتے ہیں یا متاثر ہوکر متعلقہ ’ذرائعُ کی طرف سے مزیدگرما گرم خبروں کا انتظام کرنے لگتے ہیں تاکہ وہ کسی صورت ’سچی خبر‘ سے محروم نہ رہ جائیں۔
ملک میں صوبوں کی تقسیم کے سوال پر ابھی تک کسی سیاسی لیڈر کی طرف سے یا پارلیمانی تجویز میں کوئی منصوبہ سامنے نہیں آیا۔ پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری گزشتہ دنوں اس بارے میں سوال پر واضح کرچکے ہیں کہ ان کی پارٹی کو ایسی کوئی تجویز نہیں ملی۔ اگرچہ اس معاملہ پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے چند ہفتے پہلے ملکی نظام پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے آبادی میں اضافے کی وجہ سے انتظامی یونٹ بڑھانے کا ذکر کیا تھا۔ اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے آئی ایس پی آر کے ڈائیریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا تھا کہ انتظامی یونٹوں میں اضافہ کی ضرورت توموجود ہے لیکن اس کا فیصلہ آئینی طریقے کے مطابق سیاسی قیادت ہی کرسکتی ہے۔ سیاسی لیڈر تو خاموش ہیں لیکن ’اندر کی خبر’ والوں نے قوم کی تفریح کے لیے اس سوال پر پرزور طریقے سے دکانداری شروع کی ہوئی ہے۔
یہ درست ہے کہ اگر عوامی طور سے موجودہ حکومت کی تبدیلی یا صوبوں کی تعداد میں اضافہ کے حوالے سے ایسے مباحث عام ہوں تو کسی ذمہ دار سیاسی لیڈر یا حکومتی ترجمان کو اس بارے میں وضاحت کرنی چاہئے۔ ملک کا وزیر اطلاعات ملکی حکومت یا وزیر اعظم کی طرف سے ایسی افواہوں کا قلع قمع کرنے کے لیے پریس کانفرنس منعقد کرسکتا ہے ۔ یا سیاسی پارٹیوں کے ترجمان اس معاملہ پر درست معلومات سامنے لاسکتے ہیں۔ تاہم ایک طرف وزیر داخلہ کے بعد وزیر صحت حکومت ’کولیپس‘ کرنے کی نوید دیتے ہوئے صوبوں کی تقسیم پر رائے زنی کررہے ہیں ۔یا پھر یہ خبر صحافیوں کے ہتھے چڑھی ہوئی ہے۔ کسی قابل اعتبار جمہوری نظام میں سیاسی حکومت کا یہ طرز عمل ناقابل قبو ل اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔
اس تناظر میں اگر ملکی آئین سے رجوع کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ کسی صوبے کو تقسیم کرکے زیادہ صوبے بنانے کے لیے کون سے سیاسی و پارلیمانی اقدامات کی ضرورت ہوگی۔ آئین کی شق 239 (4) اس بارے میں صراحت سے بیان کرتی ہے کہ ایسا کوئی فیصلہ اس صوبے کی اسمبلی کی دوتہائی اکثریت کی منظوری کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔ یعنی اگر ملکی پارلیمنٹ یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ مل کر بھی یہ طے کرلیں کہ کسی صوبہ کو تقسیم کرکے نئے صوبے بنا دیے جائیں تو بھی متعلقہ صوبائی اسمبلی کی تائید کے بغیر اس فیصلے پر عمل نہیں ہوسکتا۔ اور کسی صوبائی اسمبلی میں یہ رائے دو تہائی ارکان کی طرف سے منظور ہونی چاہئے۔ موجودہ سیاسی و پارلیمانی منظر نامہ میں کسی بھی صوبے میں ایسے حالات موجود نہیں ہیں کہ نئے صوبوں کے بارے میں تجویز کو دو تہائی اکثریت حاصل ہوجائے۔ آئین بناتے ہوئے شاید اسی پہلو کو دیکھتے ہوئے ہی یہ شق شامل کی گئی تھی کہ کسی صوبے کو وہاں کے عوام کی مرضی کے بغیر تقسیم نہ کیا جاسکے۔
اس مشکل کا ایک حل تو یہ ہوسکتا ہے کہ نئے انتخابات کرائے جائیں اور سیاسی پارٹیاں ہر صوبے میں نئے صوبے بنانے کے سوال پر ان انتخابات میں حصہ لیں۔ اس طرح ایک طرف سیاسی رائے واضح ہوجائے گی اور اگر کسی صوبے کے عوام ایسے ارکان کو رکن منتخب کرتے ہیں جو صوبے کی تقسیم کی حمایت کررہے ہوں تو یہ معاملہ ازخود آئینی و جمہوری طریقے سے حل ہوجائے گا۔ اسے خبریں پھیلا کر اور صدر کے مفرور ہونے کی اطلاعات دے کر تو حل نہیں کیا جاسکتا۔ دوسرا طریقہ وہی ہے جو آج تک متعدد بار اس ملک میں آزمایا جاچکاہے اور ہر بار اس طریقے سے خرابیاں ہی پیدا ہوئی ہیں۔ یعنی کوئی فوجی لیڈر عوامی نمائیندوں کی بجائے فوجی حکم نامے یعنی مارشل لا کے ذریعے نہ صرف حکومت سازی کے معاملات طے کرے بلکہ طاقت کے زور پر آئین میں ترامیم کرکے فیصلے مسلط کردئے جائیں۔ بادی النظر میں موجودہ فوجی قیادت اس انتہائی اقدام کے خلاف ہے ۔ شاید اسی لیے ہائیبرڈ نظام حکومت کا طریقہ اختیار کیا گیاہے۔
تاہم جمہوریت کے داعین کو اس حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہئے۔ اور صحافت اور معلومات عام کرنے کے ذمہ دار عناصر کو بھی اپنا وزن سنسنی خیزی کی بجائے جمہوری حقوق کے پلڑے میں ڈالنا چاہئے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
جمعہ, ستمبر 4, 2026
تازہ خبریں:
- صوبوں کی تقسیم اور ملک کا ’مفرور صدر‘ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- دوسری دنیا کا قیام ممکن ہے : کمیونسٹ انٹرنیشنل کے یومِ تاسیس پر فہیم عامر کا خصوصی مضمون
- پیٹرول تین اور ڈیزل ڈھائی روپے لیٹر مہنگا کر دیا گیا
- پاکستان اور بھارت دیواریں گرائیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- سانحہ پمز ، ننھے فرشتے اور اجل کا فرشتہ : رضی الدین رضی کا کالم
- منڈی بہاؤ الدین میں فائرنگ کے واقعے میں جماعت Cکا مقامی عہدیدار ہلاک
- عمران خان اور جماعت اسلامی کا رومانس محبت کی باتیں اور چند گلے شکوے : ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ
- اناسی سال کا بوڑھا پاکستان : شہزاد عمران خان کا کالم
- پمز سانحہ پر سرکاری کارروائی اور تضادات کی کہانی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ون ویلنگ ۔۔موت کا رقص : پروفیسر صابر جروار کا کالم

