پچھلے دنوں عمران خان کی قید سے رہائی اور ان کی صحت کے مسائل کے بارے میں تحریک انصاف کی کئی سالہ جدوجہد کا ایک غیر متوقع موڑ اس وقت آیا جب سپریم کورٹ نے 18 اگست کو یہ حکم جاری کیا کہ انھیں دو روز کے اندر الشفاء ہسپتال اسلام آباد میں شفٹ کرکے ان کا مناسب علاج شروع کروایا جائے! جس پر دو دن میڈیا پر خوب ہنگامہ رہا؛ کسی کو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترامیم کے بعد ادھ مری عدالت عظمیٰ میں اتنی جرات اور آزادی کہاں سے آ گئی اور دیکھیے یہ آزادی و دلاوری کب تک قائم رہتی ہے؟ 13 ستمبر/ستمگر کو کچھ تو عیاں ہوگا ہی ! بہر حال اس عدالتی فیصلے کا بالآخر حشر کیا ہوا یہ ہماری سیاسی وعدالتی تاریخ کا ایک مضحک ڈرامہ (farce) ہے. لیکن ہمیں اس وقت اس جھنجھٹ میں پڑنے کی بجائے ایک اور بنیادی اور سنجیدہ معاملے پر بات کرںا چاہ رہا ہوں۔۔۔!
اور وہ یہ کہ، دنیائے کرکٹ کا ایک بین الاقوامی سپر سٹار پاکستان کا مقبول ترین لیڈر کس طرح بنا اور پھر وزیراعظم کی کرسی پر براجمان ہوکر وہاں سے بےدخل جس طرح ہوا؟ یہ ایک لمبی داستان ہے جس کو اس کے حامی اور ناقد و مخالف اپنے اپنے انداز میں بیان اور نشر کرتے ہیں، دو یکسر متناقض (conflicting) بیانیے ہیں جن کے مسلسل اور پرشور ٹکراؤ سے اکیسویں صدی کے اڑھائی دہائیوں کے پاکستان کا سیاسی ڈسکورس تشکیل پاتا ہے لیکن اس وقت ہم اس خاص سیاسی ڈسکورس کے تجزیے کو بھی کسی اور وقت پر اٹھا رکھتے ہوئے عمران خان کے 10 اپریل 2022 کو وزارت عظمیٰ سے ہٹائے جانے کے بعد خود ان کے اور ان کی بنائی ہوئی جماعت تحریک انصاف کی اسٹیبلشمنٹ اور ہائبرڈ (hybrid) حکومت کے خلاف مزاحمتی جدوجہد کو دیکھتے ہیں تو ہمیں ان کی اس (غیر سیاسی ) سیاسی تحریک میں کئی بوالعجبییاں دکھائی دیتی ہیں کیونکہ اس تحریک کو پرانے گھاگ منصوبہ سازوں نے ملک کے انتہائی معاشی و سیاسی کرائسز کے دنوں میں بڑی مہارت سے ترتیب دیا ہے اور اصل کرائسز کے بنیادی مسائل سے سیاسی کارکنوں کی توجہ ہٹا کر محض ایک شخصیت کی صحتمندی اور قید سے رہائی کے لئے نعرہ بازی میں بدل کر رکھ دیا ہے۔۔۔ خود تحریک انصاف کے کارکن اور شاید ااور اکٹر انتہائی تعلیم یافتہ رہنما یہ جانتے ہیں کہ عالمی سیاست کی تاریخ میں سبھی بڑی (اور کامیاب) تحریکیں کسی شخصیت (کرشماتی شخصیات کی اہمیت اپنی جگہ) کی بجائے آئیڈیالوجی/نظریے اور انسانی زندگی کے حقیقی عصری و انسانی مسائل کی بنیاد پر آگے بڑھیں اور کامیاب ہوئیں، ان تحریکوں میں شخصیات کو بھی اگر اہمیت اور طاقت ملی تو نظریہ کی طاقت اور مقبولیت سے ہی ملی۔۔۔
اس بارےمیں سوچتے ہوئے مجھے 2005 میں سرگودھا یونیورسٹی میں خود عمران خان سے اپنی ایک ملاقات یاد آ رہی ہے جہاں ہم نے انھیں (اس وقت یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ریاض الحق طارق کی ہمت اور وضعداری کے باعث) طالب علموں کے ساتھ ایک کھلے ڈائیلاگ کےلئے بلایا تھا؛ اس وقت تک اگرچہ عمران خان کو سیاست میں آئے کئی برس گزر چکے تھے ۔۔۔ لیکن ظاہر ہے یہ ان کی بطور سیاست دان مقبولیت عامہ ( کے جلسے 2011) سے چھ سال پہلے کی بات ہے ۔۔۔ خان صاحب نے یونیورسٹی کے ہزاروں طالب علموں سے ایک اچھا اور جامع خطاب کیا جس میں انھوں نے سیاست میں اپنی آمد کے مقاصد اور تحریک انصاف کے اس وقت کے دستور کے بارے میں سہل وضاحتیں دیں، ان کی تقریر کے بعد طلباء وطالبات نے ان سے سوالات بھی کئے جن کے جواب انھوں نے بہت خوش دلی اور وضاحت سے دیئے ۔۔۔ خوش قسمتی سے اس جلسے کے سٹیج سیکرٹری کے فرائض میرے ذمے تھے اس لئے بیچ میں ان سے دو ایک سوال کرنے کا موقع میں نے نکال لیا۔۔۔ میں نے ان سے ایک سوال یہ کیا تھا کہ؛
” خان صاحب! آپ ہمارے عہد جوانی سے آج تک بلا شبہ نوجوانوں کے ہیرو رہے ہیں، ہماری تاریخ میں ذوالفقار علی بھٹو نوجوانوں کے کندھوں پر سوار ہوکر وزیراعظم کے عہدے تک پہنچے تھے، بعد میں ان کا حشر کیا ہوا یہ ایک المیہ ہے ؛ آپ بھی نوجوانوں سے ہی مخاطب ہیں لیکن ابھی تک نوجوان نسل میں آپ کو بطور سیاسی رہنما وہ قبولیت نہیں ملی جس کی، اس کی وجہ کہیں یہ تو نہیں کہ بھٹو نے اپنے وقت کی ایک پاپولر آئیڈیالوجی تشکیل دی تھی اور غریب طبقے کے مسائل اور ضرورتوں کو نعروں میں بدل بدیا تھا ،جن کو نوجوان نسل نے پرجوش انداز میں قبول کیا لیکن آپ ۔۔۔؟
میری بات مکمل ہونے سے پہلے ہی خان صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں انصاف اور انسانی مساوات کی بات شروع کردی، ان کا موقف تھا کہ سماجی انصاف اور انسانی برابری ہی ان کی آئیڈیالوجی (نظریہ) ہے ؛ اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی بھی تعریف کی اور انھیں ایک بڑا لیڈر قرار دیا (میری یاداشت کے مطابق شاید ایسے چند موقعے ہی آئے ہوں گے جب انھوں نے بھٹو صاحب کے لئے تحسین کے کلمات ادا کئے ہوں)۔۔۔
جلسے کے بعد انھوں نے خاصا وقت یونیورسٹی کی لائبریری میں طالب علموں کے ہمراہ گزارا لیکن زیادہ تر خاموش رہ کر طلبہ و طالبات کے ساتھ تصویریں بنواتے اور انھیں آٹوگراف دیتے رہے، میں بطور ڈائریکٹر سٹوڈنٹس افیئرز ان کے ساتھ ہی رہا تھا، خان صاحب کسی کی دل شکنی کیے بغیر سبھی سے ایک سنجیدہ مسکراہٹ کے ساتھ مل رہے تھے ۔۔۔ بعد میں وائس چانسلر کے دفتر میں چائے کی میز پر بھی وہ ڈیڑھ گھنٹہ سے زائد ہمارے ساتھ رہے اور اپنی جماعت کے سیاسی پروگرام کی وضاحت کرتے رہے۔ وہ پاکستانی عوام کے لئے اچھے دنوں کے خواب دیکھ اور دکھا رہے تھے اور ان کے لہجے میں ایک لمبی جدوجہد کے لئے تیار شخص کا خلوص چھلک رہا تھا ۔۔۔ اس کے بعد میری ان سے کبھی کوئی ملاقات نہیں ہوئی لیکن ان کی باتیں ضرور یاد رہ گئیں جن میں سے اکثر کو وہ بعد میں بھی دہراتے رہے۔۔۔
مجھےیاد ہے اب ذرا ذرا، "انھیں” یاد ہو کہ نہ یاد ہو!
خان صاحب کو اور ان کی جماعت کو اب اس حال میں دیکھ کر یہ باتیں ایک بار پھر ذہن میں تازہ ہو گئیں اس لئے کہ اب یوں لگتا ہے کہ شاید (خاکم بدہن) سماجی انصاف کے لئے جدوجہد کی وہ ساری باتیں، وہ انسانی مساوت کے حصول کے لئے ان کے سارے خواب،۔۔۔ ان کے پرستاروں کی نظروں سے، ماہر معماروں کے تعمیر کردہ، "خان صاحب کے عظیم الشان امیج” کے پیچھے اوجھل ہو گئے ہیں ۔۔۔ اور اب ان کےلئے صرف عمران خان کی رہائی اور ان کی صحت کے بارے میں افواہیں ہی اہم رہ گئی ہیں ؛۔۔۔ میرا خیال ہے کہ عمران خان کے پیروکارؤں اور سیاسی کارکنوں کو فکر کرنی چاہیے کہ ان کے لیڈر کے اعلیٰ مقاصد اور ان کے سارے عوام دوست خواب جن کا ذکر انھوں نے مذکورہ ملاقات میں اور بعد میں آپنے مداحوں کے سامنے بار بار کیا تھا اور جن کے بارے میں ان کی میڈیا پر چلنے والی لاتعداد تقریروں اور ان کے ساتھ ٹی وی چینلز کے پروگراموں میں اکثر سنا گیا تھا؛ وہ سب ،کہیں بے حد دھندلے پس منظر میں تو نہیں چلے گئے ہیں ؟
مجھے اس بارے میں فکر لاحق ہوئی تو میں نے اپنے آپ سے یہ سوال کیا کہ اگر خدا نخواستہ ایسا ہے تو ۔۔۔! اس معاملے کا باعث کیا ہو سکتا ہے؟۔۔۔ تو مجھے ان کے سب ناقدوں کی طرح صرف 27 مارچ 2011 کا جلسہ ہی یاد نہیں آیا جس پر جنرل شجاع پاشا کی مہر نمایاں تھی، پھر اس سے پہلے کی جنرل پرویز مشرف کے ریفرنڈم کی حمایت اور اس حوالے سے کئی افواہیں یاد آئیں؛ لیکِن میں نے ان باتوں کو ذہن سے جھٹک دیا مجھے یاد آیا کہ جن دنوں وہ سرگودھا یونیورسٹی آئے تھے وہ جنرل پرویز مشرف کے سخت خلاف ہوگئے تھے اور سخت اینٹی اسٹیبلشمنٹ رویہ اپنائے ہوئے تھے، لیکن انہوں نے یہ عنایت فرمائی تھی کہ ایک سرکاری یونیورسٹی میں اپنے مداحوں اور میزبانوں کا خیال کرتے ہوئے اپنی تقریر میں پرویز مشرف کا ذکر گول کر گئے۔ اسی طرح سوچتے سوچتے ان کی سیاست کا ایک اور بیت اہم موڑ بھی ہمیں یاد آگیا جسے اکثر نظر انداز کردیا جاتا ہے اور وہ جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ سے ان کا مناقشہ اور رومانس ہے۔۔۔
یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک واقعہ ہے کہ 1971 میں مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بن جانے کے بعد جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ کو ( مشرقی میں ناکام فوجی مہم کے دوران میں "البدر اور الشمس” جیسی نیم فوجی ملیشیاؤں کی تشکیل میں ان کی خدمات کے عوض) مغربی/پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں اہم کردار دینے کی کوششیں شروع کر دی گئی تھیں (بنگلہ دیش نامنظور کی تحریک اور احمدیوں/مرزائیوں کے خلاف ہنگاموں کی رہنمائی اسی لئے ان کے حصے میں آئی تھی) پاکستان کے تعلیمی نظام میں بہت زیادہ اہمیت ملنے لگی؛ ادھر بھٹو صاحب کو باقی ماندہ ملک کے کئی اہم مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کے مسائل درپیش تھے اور پھر نہ جانے کس طرح عالم اسلام کا لیڈر بننے کا سودا بھی ان کے سر میں سما گیا تھا اس لیے انھوں نے خود اپنا مخصوص سیاسی میدان جھوڑ کر انتہائی دائیں بازو (Radical Right) کی اسلام پسند جماعتوں کی بچھائی بساط پر کھیلنے کا سوچ لیا جس کا انھیں بہت گڑوا پھل ملنے والا تھا (اگر عمران خان یا کسی اور نے بھی ایسا ہی کچھ سوچا ہے تو ایک بار پھر سوچچ لے !) ان کو سونپی گئی علاوہ ازیں ان کو ملک کے تعلیمی اداروں خصوصاً پنجاب یونیورسٹی کا بلا شرکت غیرے قبضہ دے دیا گیا تھا (جس میں غلام مصطفیٰ کھر کی مضبوط صوبائی حکومت تک کو دخل دینے کی اجازت نہیں تھی،) اور یہ اسے ایک ایسا مفتوحہ علاقہ سمجھنے لگی تھیں (جہاں سوائے جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے کسی اور کو قدم رکھنے کی اجازت نہیں تھی) ؛
انتہائی دائیں بازو کی ان اسلام پسند تنظیموں کے ساتھ عمران خان کا مناقشہ اور پھر رومانس خود عمران خان کے ماضی قریب کے ذاتی افعال اور کردار کے باعث عجیب ضرور لگتا ہے لیکن یہ غیر فطری ہرگز نہیں ہے کیونکہ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والوں کی سوچ بالآخر ایک جیسی ہوجاتی ہے۔۔۔ بہرحال اس رومانس نے چند برس میں ہی عمران خان کی تحریک انصاف کی کایا کلپ کردی اور وہ اپنے معروف لبرل اور روادارانہ (Tolerate) ااندازے ہٹ کر جماعت سٹائل کی سیاست کرنے لگے۔۔۔ ان کا سوائے خود اپنے اور اپنے ساتھیوں کے (جن کا ماضی حتیٰ کہ حال کا کردار بھی انھوں نے نظرانداز کردیا) دوسرے سب سیاستدانوں کو بد دیانت اور کرپٹ کہنے کی عادت کہیں سے تو آئی ہوگی ! خود راستی/ Self-righteousness کا زعم جماعت اسلامی کی میراث بھی تو ہوسکتا ہے جو خان صاحب کے نئے مقتدی اپنی اصل پرورش گاہ سے ساتھ لائے تھے۔
خیر اصل مدعا پر آتے ہیں ,یہ 3 نومبر 2007 کی بات ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی لگائی اور پی سی او (PCO) نافذ کردیا جس کے خلاف تحریک شروع ہوگئی وکلا بھی معزول چیف جسٹس اور دیگر ججوں کے حق میں باجماعت سڑکوں پر نکل آئے تھے، عمران خان، پرویز مشرف کے سخت ناقد اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ بنے ہوئے تھے اور اس تحریک میں آگے آگے تھے، ان دنوں وہ انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کی تنظیم سازی بھی کر رہے تھے اسی سلسلے میں پنجاب یونیورسٹی طلباء متحدہ محاذ کی دعوت پر وہ پنجاب یونیورسٹی آئے تو اسلامی جمعیت طلبہ کے مجاہدوں نے اپنے مقبوضہ علاقے میں بے جا دخل اندازی سمجھ کر متحدہ محاذ طلبہ کے مٹھی بھر کارکنوں کو تو مارپیٹ کر بھگا دیا اور مہمان خصوصی عمران خان کو یرغمال بنا کر زبردستی ایک شعبے میں دھکیل لے گئے اور انھیں ایک کمرے میں بند کر دیا؛ اور کئی گھنٹے بعد بحفظ و امان پولیس کے حوالے کردیا جو انھیں نقص امن عامہ کے الزام میں جیل لے گئی (پاکستان کی سیاست گردی/ روٹین کی بوالعجبی ؟)؛ ظاہر ہے عمران خان کے یرغمال کنندگان کو انتہائی پُرامن اور قانون کا پاسدار شہری قرار دیا گیا۔۔۔
بات یہیں ختم نہیں ہوتی 2013 میں بھی جب عمران خان کی مقبولیت روز افزوں تھی اور وہ اسی برس 11 مئی کو ہونے والے قومی انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے کے لئے بہت پر امید تھے، نوجوان طالب علموں میں بھی ان کا خوب چرچا ہو چکا تھا؛ لیکن پنجاب یونیورسٹی میں تحریک انصاف کے حمایتی طالب علموں نے انہیں نیو کیمپس آنے کے لئے کہا تو خان صاحب شاید ماضی کے تجربے کو نہیں بھولے تھے اس لئے اسٹیبلشمنٹ کی بھرپور حمایت حاصل ہونے کے باوجود آئی ایس ایف کے کارکنوں کو یونیورسٹی کیمپس سے باہر ہی مل کر منظم کرتے رہے اور پنجاب یونیورسٹی کیمپس میں قدم رکھنے کی جرات نہیں کی ۔ اگرچہ وہ الیکشن میں اپنے متوقع نتائج حاصل نہ کر پائے لیکن ان کی گڈی پھر بھی اوپر ہی اٹھتی چلی گئی، ایسا کیوں اور کیسے ہوا؟ یہ ایک الگ تحقیق کا موضوع ہے ۔۔۔
ہم نے جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ سے خان کے رومانس کی بات کی ہے جو دراصل تحریک انصاف کے قیام (1996) کے ساتھ ہی شروع ہوچکا تھا اور جنرل ریٹائرڈ حمید گل نے جماعت اسلامی کی لے پالک تنظیم پاسبان کے کچھ اثاثے تحریک انصاف کو منتقل کروائے تھے، اسلامی جمعیت طلبہ کے سابق ناظم اعلیٰ اور جماعت اسلامی کے اہم رہنما امیر العظیم اور محمد علی درانی جیسے اہم لوگ بھی ان میں شامل تھے اگرچہ وہ اگلے کسی اشارے پر ایک بار پھر اپنی راہیں بدل گئے؛ لیکن 2011 کے بعد اس رومانس کی معکوس شکل یوں بنی کہ چاہت کا طوفان دوسری سمت سے اٹھا اور جماعت اسلامی/ اسلامی جمعیت طلبہ کے تربیت یافتہ نوجوان تحریک انصاف کے طرف کھنچنے لگے ؛ یہ کوئی غیبی اشارہ تھا یا کیا تھا؟، ملک کے طول و عرض میں اس مکتب کے پالے ہوئے لوگ بہت بڑی تعداد میں”عمران خان کے مرید” ہوتے چلے گئے اور ایک cult/(شدت پسند فرقہ) سا اپنے شکل بنانے لگا اور ادھر جماعت اسلامی سکڑتی چلی گئی جس کے کھلے شواہد ۔۔2013٫ 18 اور 23 کے انتخابات میں سامنے آئے اور جماعت اسلامی کا پارلیمان میں حصہ جو پہلے ہی بہت کم تھا انتہائی قلیل ہو گیا، لیکن اس کی نرسری میں پروان چڑھنے والے بالآخر بڑی تعداد میں منتخب ہوکر اعلیٰ ترین عہدوں تک پہنچے،۔۔ جماعت اسلامی کےعام کارکنوں نے صدر مملکت، اسپیکر قومی اسمبلی، وزارت اعلیٰ اور بڑی تعداد میں اہم وزارتوں کے بارے میں کب سوچا ہو گا؟
ہم نے ایک ملاقات میں عمران خان کی زبان سے سماجی انصاف، انسانی مساوات و حقوق کے بارے میں ان کے ارادوں اور ،خوابوں کے تذکرے کی بات کی تھی؛ اب بھی ہم یہ نہیں کہتے کہ خان صاحب ان سے یکسر منحرف ہوگئے ہیں، عین ممکن ہے کہ تین برس کی جیل اور قید تنہائی نے انھیں سوچنے کےلئے جو وافر وقت مہیا کیا ہے اس سے ان کے بلند اور اعلیٰ ارادے مزید پختہ ہو گئے ہوں۔۔۔! لیکن جیل سے باہر کی صورت احوال کیا کہتی ہے؟ اس بارے میں سوچیں تو لگتا ہے کہ پاکستان کی موجودہ سیاست کا شاید سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ ایک مقبول سیاسی رہنما جیل میں ہے، بلکہ یہ ہے کہ پاکستان کی مقبول ترین سیاسی جماعت کے کارکن اپنے رہنما کی قید سے رہائی کی جدوجہد کرتے کرتے کروڑوں عام انسانوں کی زندگی کے بنیادی مسائل، کو بھول گئے ہیں (کاش ایسا وقتی طور پر ہوا ہو !) اور عام لوگ اور ان کے مسائل سیاست کے مرکزی منظرنامے سے بالکل اوجھل ہو گئے ہیں، عوامی سیاست کا دعویٰ کرنے والی پیپلز پارٹی کے بارے میں ترقی پسند سوچ کے حامل لوگوں کا خیال یہ ہے کہ وہ پہلے ہی ایسی کسی جدوجہد سے شاید کنارہ کش ہو چکی ہے۔ اب ملک کی اہم اور پاپولر جماعت، عمران خان کی رہائی اور صحت کے (ایک مخصوص گروہ کی طرف سے) تشکیل کردہ بیانیے کی زندانی ہو کر عمران خان ہی کی طرح سیاسی تنہائی میں گرفتار ہے، خان کے قانونی حقوق، ان کی رہائی اور ان کی صحت یقیناً اہم انسانی اور سیاسی مسائل ہیں، اور انہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا؛ لیکن پاکستان کی سب سے بڑی اور مقبول اپوزیشن جماعت اگر اپنی تمام سیاسی توانائی صرف اپنے قائد کی رہائی، مقدمات، ملاقاتوں اور صحت کے معاملات پر صرف کرنے لگے تو یہ بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کروڑوں لوگوں کی آواز کون بنے گا جو بظاہر جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں ہیں مگر بھوک، ننگ، مہنگائی، بے روزگاری، بیماری، ناانصافی اور جہالت کی ایک مسلسل قید کے حصار میں زندگی گزار رہے ہیں؟
سنتے تو یہی آئے ہیں کہ سیاست عوام کے لئے ہوتی ہے اور عوام کے حقیقی مسائل کو نظر انداز کرنے والی جماعت سیاست سے بے دخل ہو جایا کرتی ہے، وہ طاقت عوام سے حاصل کرتی ہے اور اگر اسی طاقت کو عوام کے لئے ہی استعمال کرے تو اس کی عوامی مقبولیت اور سیاسی طاقت میں کمی نہیں ہوتی کیونکہ سیاسیات کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ طاقت صرف فیصلے کرنے میں ہی نہیں بلکہ یہ طے کرنے میں بھی ہوتی ہے کہ قوم کن مسائل پر سوچے اور کس چیز پر اپنی توجہ مرکوز رکھے لیکن ہماری سیاست کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اس میں طاقت کا صرف منفی اور جارحانہ انداز ہی پسندیدہ رہا ہے تاکہ عوام الناس کو دبکے اور دباؤ کے ذریعے تابع فرمانی پر مجبور رکھا جا سکے۔ لیکن اب اہل اقتدار کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ طاقت کے استعمال کا مثبت اور پیداواری انداز اپنائے اور اسے افتادگاں خاک کے فائدے کے لئے استعمال کرنے کی ضرورت اتنی بڑھ گئی ہے ایسا نہ کیا گیا تو قومی سلامتی کے لالے پڑ سکتے ہیں۔ اب ہماری بقاء ہی اسی میں ہے ورنہ خاک نشیں جن کے پاس اب کھونے کو واقعی کچھ بھی نہیں رہا اگر اپنے فطری لازمی حقوق کے حصول کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تو طاقتوری کا زعم رکھنے والوں کو خبر ہوگی کہ طاقت دراصل ہے جن لوگوں کے پاس ؟ اور پھر کسی کے پاس پانے یا کھونے کو کچھ نہیں بچے گا۔
طاقت کے اسی استعمال کو بنیادی اہمیت دے کر ہی ہمارے اہم ترین ہمسائے اور دوست عوامی جمہوریہ چین نے دنیا میں ایک عظیم معاشی طاقت اور دنیا کے اہم لیڈر کا مقام حاصل کر لیا ہے چین نے دنیا کو یہ بھی بتا دیا ہے کہ خود اپنا تحفظ دوسرے کی سلامتی کی قیمت پر نہیں ہوتا اس کے لئے دنیا کے سب ملکوں کو مشترکہ اور اجتماعی سلامتی کی پالیسی اختیار کرنی چاہئے، کہا جا رہا ہے کہ پاکستان نے سعودی عرب اور ترکیہ سے مل کر اجتماعی سلامتی کا جو معاہدہ کیا ہے وہ مشترکہ اجتماعی سلامتی کے اسی تصور کی ایک عملی شکل ہے کاش ہمارے اہم ترین حلریاستی و سیاسی ادارے اور جماعتیں بھی اجتماعی سلامتی کے اس تصور سے سبق حاصل کریں اور ایک دوسرے کو بلکہ سب کی (خاص طور پر عوام الناس کی)
سلامتی کے حق کو تسلیم کرلیں۔
عمران خان اور جماعت اسلامی کا رومانس محبت کی باتیں اور چند گلے شکوے : ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ
ایڈیٹر2 Views

