لاہور کے معالج اور شاعر ڈاکٹر فخر عباس پچھلے ایک ہفتے سے میرے دل و دماغ پر چھائے ہوئے ہیں۔ ان کی بیماری کے بارے میں مجھے پی کے ایل آئی کے واٹس ایپ گروپ کے ذریعے علم ہوا۔ انہیں جگر کا عارضہ لاحق تھا۔ آخری دنوں میں ان کا جگر فیل ہوگیا۔
جگر کام نہ کرے تو خون میں ایسے اجزا کی مقدار بڑھ جاتی ہے جو دماغ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، بالخصوص امونیا۔ یہ اجزا خون کے ذریعے براہِ راست دماغ تک پہنچتے ہیں اور دماغی کارکردگی کو شدید متاثر کرسکتے ہیں۔ دماغ میں سوجن پیدا ہوسکتی ہے، خلیے پھول سکتے ہیں اور دماغ کے اندر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ کیفیت اس حد تک پہنچ سکتی ہے کہ مریض بے ہوش ہوجائے اور سانس کے دماغی مرکز پر اثر پڑنے کی صورت میں سانس لینے کا مرکزی کنٹرول بھی ختم ہوسکتا ہے۔
مجھے واٹس ایپ گروپ کے ذریعے ہی علم ہوا کہ فی الحال ان کی جگر کی پیوند کاری ممکن نہیں تھی، کیونکہ وہ بہت زیادہ بیمار تھے۔ بعد میں ان کے دوست توقیر عباس کے ذریعے پتا چلا کہ وہ مکمل طور پر بے ہوش تھے اور مصنوعی تنفس کی مشین، یعنی وینٹی لیٹر، پر تھے۔
ہم سب کو اندازہ تھا کہ ان کی حالت بہت خراب تھی۔ میں نے توقیر عباس کو بھی یہی بتایا، لیکن وہ کہنے لگے کہ ان کی تمام رپورٹس نارمل ہیں، بس وہ بے ہوش ہیں۔ شاید وہ پرامید تھے۔ شاید امید ہی وہ آخری چیز ہوتی ہے جسے انسان ایسے وقت میں چھوڑنا نہیں چاہتا۔
آج صبح خبر آئی کہ ان کا انتقال ہوگیا۔
انا للہ وانا الیہ راجعون۔
میری ان سے پہلی ملاقات شاید 2015 میں ہوئی تھی۔ وہ خوش شکل، خوش مزاج اور خوش لباس تھے۔ انہیں مشاعروں میں ایک عام شاعر کی حیثیت سے جانا پسند نہیں تھا۔ وہ ہمیشہ بڑے لیول پر رہنے کے متمنی تھے۔ انہیں سب سے نمایاں ہونے کی خواہش تھی۔ ان کی یہ خواہش پوری ہوئی اور خدا نے انہیں بہت شہرت دی۔
وہ پیتھالوجسٹ تھے اور طویل عرصے تک جناح ہسپتال لاہور کے شعبۂ علومِ امراضیات سے وابستہ رہے۔ انہوں نے ایم بی بی ایس بھی اسی ہسپتال سے ملحقہ علامہ اقبال میڈیکل کالج سے کیا تھا۔
میری چھوٹی بہن، سیدہ عاتکہ بتول، ان کی شاگرد تھیں۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ ڈاکٹر فخر عباس ایک عظیم استاد تھے۔ وہ صرف پڑھاتے ہی نہیں تھے بلکہ دورانِ تعلیم قدم قدم پر اپنے شاگردوں کی مدد بھی کرتے تھے۔ وہ ان کی وفات پر بہت افسردہ تھیں۔
سوشل میڈیا پر میں نے ہزاروں لوگوں کو ان کی وفات پر افسردہ دیکھا۔ وہ سچے محبِ اہلِ بیت تھے۔ توقیر نے مجھے بتایا کہ وہ کچھ عرصہ قبل زیارتوں پر بھی گئے تھے۔
وہ بے حد محنتی انسان تھے۔ مشکل معاشی حالات میں میں نے انہیں اوبر چلاتے ہوئے بھی دیکھا۔ زندگی نے ان کے سامنے آسان راستے نہیں رکھے تھے، لیکن انہوں نے محنت کرنا نہیں چھوڑا۔
ان کا سیاسی جھکاؤ پاکستانی ڈاکٹروں کی اکثریت کی طرح پی ٹی آئی کی طرف تھا۔ وہ پاک فوج سے محبت کرتے تھے اور پاکستانی اداروں کو مضبوط دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ مضبوط ادارے، خصوصاً مضبوط فوج، پاکستان کی بقا اور سلامتی کی ضمانت ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز نے بھی آج ڈاکٹر فخر عباس کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور ان کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی ہے۔
ڈاکٹر فخر عباس اپنے پسماندگان میں اہلیہ اور چھ بچے چھوڑ گئے ہیں۔ بچے ابھی چھوٹے ہیں اور زیرِ تعلیم ہیں۔ میں شاعر برادری کی طرف سے محترمہ مریم نواز سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ڈاکٹر فخر عباس کے اہلِ خانہ کی مالی معاونت کریں تاکہ ان کے بچے اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں اور پڑھ لکھ کر اپنے والد کا نام روشن کرسکیں۔
اگرچہ والد کی وفات ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے، لیکن حکومتی سرپرستی شاید ان کی کمی کا کسی حد تک ازالہ کرسکے۔ ایک خاندان کے لیے اس سے بڑھ کر خراجِ عقیدت کیا ہوگا کہ مرحوم کے بچوں کی تعلیم اور مستقبل کو محفوظ بنانے میں ریاست اپنا کردار ادا کرے۔مریم نواز صاحبہ کا تعلق لاہور سے ہے اسی لاہور سے جس کے ساتھ محبت کے حوالے ڈاکٹر فخر عباس کا یہ شعر ضرب المثل بن چکا ہے ۔
یہ جو لاہور سے محبت ہے
یہ کسی اور سے محبت ہے
امید ہے مریم صاحبہ فخر عباس کے بچوں کی کفالت کر کے لاہور سے محبت کا ثبوت دیں گی ۔
ہفتہ, اگست 29, 2026
تازہ خبریں:
- ڈاکٹر فخر عباس ، مریم نواز اور لاہور سے محبت : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- شُرلی، پٹاخہ اور بم ۔۔ بلوُ راکٹ کی کہانی : سہیل ورائچ کا کالم
- ناروے کے عوامی بادشاہ کا انتقال :سید مجاہد علی کا تجزیہ
- پمز سانحہ،عمران خان اور دل کو تسلّی دینے کی کوشش : نصرت جاوید کا کالم
- خواب بیچنے والے آن لائن فراڈیوں کی کہانی : کمالیات / کمال ایوب صدیقی کا کالم
- نواز شریف نے الیکشن ہارنے والے بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیر اعظم آزاد کشمیر نامزد کر دیا
- عہدِ حاضر ، جین زی کی بگڑتی عادات اور والدین کی ذمہ داریاں : پروفیسر صابر جروار کا کالم
- 14نومولود بچے جاں بحق ۔۔ ذمہ دار کوئی نہیں: سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ایک اجنبی سے چند سوالات : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- نوزائیدہ ریاست، نوزائیدہ بچے اور کمزورطبقات : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم

