میں بچوں کا ڈاکٹر ہوں۔ بچے بڑوں کی نسبت نازک ہوتے ہیں۔ جوں جوں وہ بڑے ہوتے ہیں، ان کی جسمانی ساخت مضبوط اور دفاعی نظام بھی توانا ہوتا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ جوان ہو جاتے ہیں۔ نوزائیدہ بچوں کا اپنا دفاعی نظام سب سے کمزور ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حمل کے دوران ماں کی طرف سے انہیں منتقل ہونے والی قوتِ مدافعت پیدائش کے بعد نئے ماحول کی سختیاں برداشت کرنے میں ان کی مدد کرتی ہے۔
جب میں بچوں کے خون اور سرطان کے شعبے میں آیا تو مجھے معلوم ہوا کہ کیموتھراپی کے ذریعے کینسر کا علاج کرنے سے بچوں کی قوتِ مدافعت کم ہو جاتی ہے۔ کینسر جتنا شدید ہو، اسے جڑ سے اکھاڑنے کے لیے اتنی ہی شدت کی کیموتھراپی، ریڈیوتھراپی یا امیونوتھراپی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
اس وقت میں بون میرو ٹرانسپلانٹ کے شعبے سے وابستہ ہوں۔ بون میرو ٹرانسپلانٹ، یا کسی بھی دوسرے ٹرانسپلانٹ یا پیوند کاری میں، ہم بچے کی قوتِ مدافعت کو کنڈیشننگ کے ذریعے خود کم یا تقریباً ختم کر دیتے ہیں۔ ایسا اس لیے کیا جاتا ہے کہ بچے کا دفاعی نظام کسی دوسرے انسان سے حاصل کیے گئے عضو یا خلیات کو مسترد کر سکتا ہے، یا اسے مسترد کرنے کی کوشش میں خود بچے کے جسم کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
غرض یہ کہ میرے مریض بچے، چاہے ان کی عمر کتنی ہی کیوں نہ ہو، بعض اوقات نوزائیدہ بچوں کی طرح ہو جاتے ہیں: بالکل نرم و نازک اور کمزور۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ان کا خیال بھی تقریباً نومولود بچوں کی طرح رکھتے ہیں۔
جب میں نے 2000ء میں بچوں کے شعبۂ علاج میں بطور ہاؤس فزیشن قدم رکھا تو میں نے دیکھا کہ بچوں کے ڈاکٹر سب سے زیادہ توجہ نوزائیدہ بچوں کے یونٹ پر مرکوز رکھتے تھے۔ ان کے یونٹ کو ہم ’’نرسری‘‘ کہتے تھے، یعنی نرسنگ کی خصوصی جگہ۔ حالانکہ نرسنگ تو ہر جگہ اہمیت رکھتی ہے، لیکن نوزائیدہ بچوں کی نرسنگ خصوصی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔
نوزائیدہ بچوں کے یونٹ میں ڈاکٹروں اور نرسز کی طرف سے سخت نگرانی کی جاتی ہے، ان کی خوراک کا خاص خیال رکھا جاتا ہے اور وقت سے پہلے پیدا ہونے والے، یعنی پری میچور بچوں کے لیے انکیوبیٹر دستیاب ہوتے ہیں۔ ان کے پھیپھڑے ذرا سے بھی کمزور ہوں تو انہیں مدد فراہم کرنے کے لیے مصنوعی تنفس کی مشینیں، یعنی وینٹی لیٹرز، موجود ہوتے ہیں۔ اچھے مراکز میں خصوصی تربیت یافتہ ڈاکٹر اور نرسز خدمات انجام دیتے ہیں۔
نوزائیدہ بچوں پر اس خصوصی توجہ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ جتنی جلدی بیمار ہوتے ہیں، اتنی ہی جلدی ٹھیک بھی ہو سکتے ہیں۔ وہ ہمارا روشن مستقبل ہوتے ہیں اور ہمارے گھروں میں خوشیاں لے کر آتے ہیں۔
پاکستان اور بھارت بھی 1947ء میں نوزائیدہ ریاستیں تھیں۔ ان کی قوتِ مدافعت کم تھی۔ وہ ایک دوسرے سے لڑتی رہیں اور خود کو نقصان پہنچاتی رہیں۔ ان کے عوام غربت، مہنگائی، بے روزگاری، ناخواندگی اور جسمانی بیماریوں کا شکار ہو کر مرتے رہے۔
پھر یہ ملک کچھ بڑے ہوئے تو امید بندھی کہ شاید اب یہ اپنے مسائل سے نکل آئیں گے، مگر ان دونوں ملکوں کو انتہاپسندی کے کینسر نے بھی جکڑ لیا۔ اس کا علاج تو انہوں نے نہیں کیا، لیکن اپنے نیم مردہ جسموں کا دفاع مضبوط کرنے کے لیے ایٹم بم ضرور بنا لیا۔
اب یہ دونوں واحد ریاستیں ہیں جو غریب ہونے کے باوجود ایٹمی طاقت رکھتی ہیں۔ باقی ایٹمی طاقتوں کے جسم دفاعی طور پر اندر سے بھی اتنے ہی مضبوط ہیں جتنے باہر سے۔ لیکن ان دونوں ریاستوں نے ایٹم بم کو مضبوطی سے تھام رکھا ہے اور انہیں زعم ہے کہ یہ انہیں تا قیامت زندہ رکھے گا۔
ان ریاستوں میں کمزور طبقات پر جبر کیا جاتا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند نہ کریں۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو ان کے مسائل حل کرنے کے بجائے انہیں لاپتا یا قید کر دیا جاتا ہے۔ پھر یہ بیانیہ بنایا جاتا ہے کہ یہ کمزور طبقات دشمن ملک کے ایجنٹ ہیں اور ملک کا دفاع مضبوط کرنے کے لیے ان کے خلاف کارروائی ضروری تھی۔
ان ریاستوں کے وزراء خود اعتراف کرتے ہیں کہ ان کی اپنی نگرانی میں چلنے والا سسٹم کولیپس ہو چکا ہے، لیکن پھر بھی ہٹ دھرمی سے بدستور اپنی کرسیوں پر براجمان رہتے ہیں۔
انسانوں کے دفاعی نظام کی طرف آئیں تو جسم کا اندرونی دفاع خون کے مخصوص دفاعی خلیے سنبھالتے ہیں، لیکن بیرونی طور پر جلد بھی اس نظام کا ایک اہم عضو ہوتی ہے۔
آج اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال، پمز، سے خبر آئی ہے کہ کسی وجہ سے نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں آگ لگ گئی، جس سے وہاں داخل پہلے سے کمزور چودہ شیرخوار جھلس کر جاں بحق ہو گئے۔
ان بچوں کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ اس ملک میں پیدا ہوئے جو 80 ویں برس میں داخل ہو کر بھی ابھی نو زائدگی کے عمل سے گزر رہا ۔۔ ان بچوں کی وارث ریاست میں خود اندرونی طور پر کمزور اور ناتواں ہے۔ وہ شاید ان کا خیال رکھنے کی اہل ہی نہیں ہے، کیونکہ اس پر قابض حکمرانوں نے کبھی اس پر توجہ ہی مرکوز نہیں کی۔
منگل, اکتوبر 20, 2026
تازہ خبریں:
- جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ میں سب ہم پیالہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- خضدار سے نامعلوم مسلح افراد نے مزدوروں سمیت 18 افراد کو اغوا کرلیا
- لسانیات علم ہے عقیدہ نہیں : سر جارج ابراہم گریئرسن کی خدمات ۔۔ ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- وجاہت مسعود کا کالم : آزادی صحافت ۔۔جب بھٹو لاہور کے اخبارات پر حملہ آور ہوئے
- بلوچستان میں 20 پولیس اہلکار اغوا، قلعہ عبداللہ میں پولیس چوکی مسمار
- ایٹمی پلانٹ اور ٹماٹر کا منشور : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : زبانوں کی تعداد اور یہ کیسے بنتی ہیں ؟
- اگلے تین روز کے لیے پیٹرول چار روپے لیٹر سستا
- ملک کو ’بچہ جمہورا ‘کے حوالے کرنے والےفیصل واوڈا کون ہیں؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- گورنر راج کے بعد حکمران اتحاد میں اختلافات : ’ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ شدید ناراض ہیں‘ : محسن نقوی

