Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
بدھ, اکتوبر 7, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • لانگ مارچ درہ آدم خیل پہنچ گیا، عمران خان کو شوکت خانم ہسپتال منتقل کیا جائے : سہیل آفریدی
  • ڈی آئی خان میں فائرنگ کے دو واقعات میں ایف بی آر اور پولیس کے 5 اہلکار شہید
  • سابق کور کمانڈر جنرل احسان الحق کو گورنر خیبر پختونخوا بنائے جانے کا امکان
  • دُکی سے اغوا ہونے والے 12 مزدوروں میں سے رحیم یار خان کا ایک مزدور قتل
  • پی ٹی آئی لانگ مارچ کی ’گورنر راج ‘کی طرف پیش قدمی :سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • ہر صوبے کے لیے ایمرجنسی یا گورنر راج کا جواز : نصرت جاوید کا کالم
  • ماں کہانی سنا ۔۔۔ رضی الدین رضی کی نظم
  • ایمان مزاری اور ہادی علی کیس کی سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی: ڈی ایس پی کی گرفتاری کا عندیہ
  • پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا پہلا روز، شرکا کا بنوں اور کرک کی سرحد پر پڑاؤ
  • غامدی صاحب کی تعبیرِ دین : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » ملا بک بک اور بندوق بادشاہ کی کہانی : شاہد مجید جعفری کا مزاحیہ کالم
شاہد مجید جعفری

ملا بک بک اور بندوق بادشاہ کی کہانی : شاہد مجید جعفری کا مزاحیہ کالم

ایڈیٹراگست 20, 202614 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
nrw logo shahid majeed jafari
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

حاکمِ شہرِ ظلمات، ظلِ الٰہی (نری تباہی) قبلہ پیر بندوق شاہ کے حکم پر، کہ عوام کو ‘سادگی’ کی اہمیت سے روشناس کرایا جائے۔ جناب اعلیٰ حضرت صاحب اپنے لاکھوں عقیدت مندوں کے ہمراہ (جن کی کل تعداد چھ سات نفر سے زائد ہر گز نہ تھی) غریب آباد بستی میں بسلسلہٴ درس تشریف لائے ۔اور اس وقت حضرت مولانا اپنے لامحدود پیٹ کے ہمراہ صدارتی کرسی پر کچھ ایسے براجمان تھے جیسے کسی نمائش میں شاہی ہاتھی کو سجایا گیا ہو ۔ آپ نے اصلی دو گھوڑا بوسکی کا پورا تھان اپنی "جامعہ اور مکمل توند” پر سجا رکھا تھا۔ پاؤں میں چمچماتے ہوئے اٹالین لیدر شوز پہنے تھے جنہیں بار بار ہلا تے ہوئے زبان حال سے کہہ رہے تھے ساڈے ول تک سجناں ۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے محض بغرضِ ثواب اپنے سوا چار من کے ‘جثہٴ نا مبارک’ پر مشک، عنبر اور عود کا اس قدر چھڑکاؤ کر رکھا تھا کہ خوشبو حاضرین کی ناک سے ہوتی ہوئی سیدھی کانوں اور نتھنوں کے راستے باقی کے اعصابی نظام میں بھی سرایت کر چکی تھی ۔ جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا گیا ہے کہ آپ وہاں بھوکے ننگے عوام کو "سادگی” پر درس دینے آئے تھے۔
مزے کی بات یہ تھی کہ اس چیز کا ذکر کرتے ہوئے آپ دانستہ نہیں، بلکہ دیدہ دانستہ اپنی کلائی کو بار بار گھما رہے تھے جس کی وجہ سے قیمتی گھڑی کی چمک ، حاضرین کی آنکھوں چندھیا رہی تھی ۔ دوران وعظ حضرت صاحب اچانک ہی جوشِ جذبات میں آ کر بولےسنو لوگو! ایک تھا بادشاہ، ہماری تمہاری بندوق بادشاہ ، پیسہ پیر اور باقی سب فقیر!۔یہ سن کر ملا بک بک جن کودخل در معقولات کی ایسی ولولہ انگیز بیماری لاحق تھی کہ دوستوں نے ان کا نام ہی "ملا بک بک” رکھ چھوڑا تھا۔ یوں سمجھ لیجئے کہ آپ ایک چلتے پھرتے اسپیکر تھے جو ہر وقت آن رہتا تھا۔آپ اپنے ڈیڑھ پاؤ کے سر پرہمیشہ ڈھائی کلو کی پگڑی "اوڑھے” رکھتے تھے۔ایک دم سے بے جا مداخلت کرتے ہوئے بولے۔لیکن حضرت صاحب! ہم نے تو سنا تھا کہ جمہوریت میں اصل بادشاہ تو عوام ہوتی ہے؟ یہ سن کر حضرت صاحب نے اپنے خیمہ نما، نجس جبے کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور نسوار کی تازہ ڈبیہ نکالی ۔پھر اس میں سے ایک بڑا سا "چونڈا ” اپنی موٹی موٹی انگلیوں میں دابا ۔ اسے اوپری ہونٹ کے دائیں طرف ایسے فٹ کیا۔ جیسے خود کش حملہ آور کی جیکٹ میں بارود فٹ کیا جاتا ہے۔ پھر بڑے جوش سے بولے عزیزم ! آپ نے غلط سنا ہے۔ ہمارے ہاں شغل میلے کے لیے جمہوری حکومت ہے۔ قابو کرنے کے لیے ڈنڈے کی حکومت ہے۔ اور جو پھر بھی نہ مانے اس کے لیے بندوق حاضر بلکہ ناظر ہے۔ قصہ مختصر،ہمیں خوش ہونا چایئے کہ ہم ایک ہی ٹکٹ میں تینوں مزے لے رہے ہیں! یہ سنتے ہی ایک جثے دار میاں خوشامدی، جو حضرت صاحب کے ساتھ ہی پدھارے تھے اور شکل سے بھی مولوی نما انسان ہی لگ رہے تھےنے حلق کے نیچے سے ایسی بد وضع و بے ڈھنگی آواز نکالی کہ کمزور دل حضرات کا دل ڈولنے لگا۔ جھوم کر بولے سبحان اللہ ! کیا خوب نقطہ ارشاد فرمایاہے۔ ایک ٹکٹ میں تین مزے! میاں خوشامدی کی تعریف سن کر یوں لگا، جیسے وہ حضرت صاحب کی ستائش نہیں، بلکہ اپنی نوکری پکی کر رہے ہوں۔
اپنے لیئےتعریفی کلمات سن کر بڑے حضرت صاحب خوش ہوئے۔ چنانچہ اسی خوشی میں آپ نے پہلے تو رومال سے ناک صاف کیا پھر اسی رومال سے پسینہ پونچھتے ہوئے بولے، دیکھ لو میاں! ، ہمارے ساتھ رہو گے تو معرفت سیکھ جاؤ گے۔اس دوران موقع غنیمت جانتے ہوئے چچا سوالی اٹھ کھڑے ہوئے۔اور ہاتھ جوڑ ، بڑی عاجزی سے بولےحضرت! اگر عوام کو تینوں حکومتیں ایک ساتھ مل رہی ہیں تو پھر ہمیں بجلی، پانی اور گیس کیوں نہیں مل رہی؟مولانا صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا ۔ اس لیئے عزیزم! کہ وہ سب الگ الگ ٹکٹ پر ملتی ہیں ۔ ہم بھی وہیں موجود تھے۔ کچھ کہنے کو دل تو چاہا، لیکن بوجوہ چپ ہی رہے کہ بندو ق کے ہوتےبولتی بند تھی ۔ اسی لیئے مجبور ہیں اف اللہ! ہم تو کچھ کہہ بھی نہیں سکتے ۔لیکن آفرین ہے ملا بک بک پر، جو اندیشہ ہائے دور دراز سے بے نیاز ہو کر جھٹ سے بولےحضور والا! ہمارے ہاں ٹیکسوں کا معاملہ بھی کسی مزاحیہ ڈرامے سے کم نہیں۔ حکومت نے ہمیں شہری نہیں بلکہ جیتی جاگتی اے ٹی ایم مشین سمجھ رکھا ہے۔ جب جی چاہا ٹیکس کارڈ ڈالا اور پیسے نکال لیے!۔ملا بک بک کی اس جسارت پر ہال میں یوں سناٹا چھا گیا جیسے سانپ سونگھ گیا ہو، جیسے سب کی پینشن بند ہو گئی ہو۔ جبکہ حضرت صاحب کا چہرہ غصے کے مارے کٹے ہوئے لال تربوز کی مانند لال سرخ ہو گیا۔ یہ افتاد دیکھ کر میاں خوشامدی فوراً اٹھ کھڑے ہوئے، اپنے دونوں ہاتھ جوڑ تے ہوئے گڑگڑا کر بولے قبلہ حضور! آپ ملال نہ فرمائیں۔ اس بک بک کا تو نام ہی بک بک ہے۔ اس کی عقل پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ نادان ہے، معاف کر دیجئے۔تَب جا کر مجھے اس محاورے کی اصل روح سمجھ آئی کہ "عقل نہیں تے موجاں ای موجاں” ابھی مزید محاورں کی تلاش جاری تھی کہ چچا سوالی نے بھی موقع غنیمت جانا اور مجسم عاجز بن کر بولے،اور سرکار! حکومت ہماری جیبوں پر یوں نظریں جمائے رکھتی ہے جیسے دودھ کی تاک میں بیٹھی ہوئی بلی!۔ پیٹرول ڈلوائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ گاڑی تو اپنی ہے لیکن اندر کا تیل لیوی کی ملکیت! پمپ والا بھی سچ ہی کہتا ہے کہ ‘صاحب! تیل نہیں، لیوی بیچ رہا ہوں!۔ بجلی کا بل دیکھیے تو یوں لگتا ہے جیسے سرکار نے عوام کے لیے ‘ٹیکسوں کا بوفے’ سجا رکھا ہے۔ہر پلیٹ میں نیا ٹیکس اور ہر نوالے پر نئی کٹوتی! اور اگر غلطی سے کوئی وجہ پوچھ بیٹھے تو آگے سے اشاروں کنایوں میں ہنس کر کہتے ہیں ۔۔”ہور چوپو ” چچا کا سانس بھی بحال نہ ہوا تھا کہ ملا بک بک ایک بار پھر سے ٹانگ اڑاتے ہوئے بولے۔اور بیچاری عوام اس خوش فہمی میں مبتلا رہتی ہے کہ اس نے جمہوریت کا پورا ٹکٹ خریدا ہے۔لیکن کچھ عرصہ بعد یہ عقدہ کھلتا ہے کہ یہ تو ٹیکسوں کی تاحیات ممبر شب تھی ۔ یہاں تو نظام والے ہر سہولت کا الگ سے ضمنی ٹکٹ بیچ کر ہمارا ‘شغل میلہ’ بنا رہے ہیں۔ اور اگر کوئی بھولے سے بھی اپنے حق کے لیے آواز اٹھائے۔۔۔ تو آگے سے ۔۔’ٹھاہ ٹھاہ’۔۔۔ کا ایسا لاؤڈ میوزک بجایا جاتا ہے کہ بندہ احتجاج بھول ، دوڑ لگانے کی سوچتا ہے !۔ ملا بک بک اور چچا سوالی کی اس شجاعتِ رندانہ کو دیکھ کر مجھ مسکین کے اندر کا بزدل لکھاری بھی یکلخت کُلبُلایا ۔ لیکن پھر بندوق کا تصورآتے ہی غیرت نے دوڑ لگا دی ۔ چنانچہ زبان کو تالا لگایا۔ محتاط نظروں سے ادھر ادھر دیکھا۔اپنی خالی جیب کو ٹٹولا اور دل ہی دل میں کُڑھتے ہوئے آہ بھری۔۔۔ ناحق ہم مجبوروں پہ تہمت ہے مختاری کی!

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

#آم_اور_عام_لوگ #گل_نخیز_اختر #آم_کا_موسم #مزاحیہ_کالم #عام_لوگوں_کی_کہانیاں #سادہ_زندگی #پاکستانی_ثقافت #زندگی_کے_رنگ #آم_سے_محبت #اردو_کالم شاہد مجید جعفری
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleآئینے میں اپنی تلاش : پردہ گرنے کی منتظر ہے نگاہ : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
Next Article آصف زرداری کو ایوانِ صدر سے نکالنے کے منصوبے اور حکمرانوں کی پریشانی : حامد میر کا کالم
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

معرکۂ ناحق ، اور بیگم ملا بک بک کی مارشل لائی نگاہ : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت

ستمبر 27, 2026

ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت

ستمبر 8, 2026

جنگ چھڑ گئی ۔۔ملا ہد ہد اور ملا کھد بد میں تاریخی مکالمہ : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت

اپریل 7, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • لانگ مارچ درہ آدم خیل پہنچ گیا، عمران خان کو شوکت خانم ہسپتال منتقل کیا جائے : سہیل آفریدی اکتوبر 7, 2026
  • ڈی آئی خان میں فائرنگ کے دو واقعات میں ایف بی آر اور پولیس کے 5 اہلکار شہید اکتوبر 6, 2026
  • سابق کور کمانڈر جنرل احسان الحق کو گورنر خیبر پختونخوا بنائے جانے کا امکان اکتوبر 6, 2026
  • دُکی سے اغوا ہونے والے 12 مزدوروں میں سے رحیم یار خان کا ایک مزدور قتل اکتوبر 5, 2026
  • پی ٹی آئی لانگ مارچ کی ’گورنر راج ‘کی طرف پیش قدمی :سید مجاہد علی کا تجزیہ اکتوبر 5, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.