ایک بے مثل نیا صوبہ بنانے کی میری تیاریاں جاری اور ساری ہیں۔ نیا صوبہ دیکھ کر آپ کی تو تاریخ حیران رہ جائے گی۔ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والوں کے درمیان ایک بولی نمایاں ہوئی وہی بولی سب کی بولی ہوگی۔ وہی ایک بولی نئے صوبےکی دفتری صوبائی زبان ہوگی۔
تہذیب، تمدن اور رسم و رواج کو کنٹرول کرنا امکان سے باہر کی بات ہے۔ تمام تہذیبوں اور تمدنوں کو آپس میں گڈ مڈ ہونے کے لئے چھوڑ دیا جائے گا۔ ہندوستانی فلمی گیتوں کی درد ناک دھنوں پر ا ٓپ نے عقیدت مندوں کو عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہوئے سنا ہوگا۔ ہم اس کا احترام کریں گے۔ ایک دوسرے کے سر پر سوار ہونے کی کوشش نہیں کریں گے۔ ایک دوسرے کے عقیدت مندوں کا احترام کرنا نئے صوبے کی نمایاں پہچان ہوگی۔
تمام ذات پات کی عزت اور احترام کا خیال رکھا جائے گا۔ کسی سردار کو عرش سے اتار کر فرش پر ہرگز نہیں بٹھایا جائے گا۔ ان احباب کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم ایک وزیراعلیٰ کا انتخاب کریں گے۔وزیراعلیٰ کے نیک دیرینہ کاموں میں ہاتھ بٹانے کے لئے نامور بااثر اور خاندانی لوگوں کو وزیر لگایا جائے گا وزیروں کو چونکہ اعلیٰ تعلیم و تربیت کی زندگی کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی اس لئے سرکاری کام کاج چلانے کےلئے وزیروں کو پڑھے لکھے مشیروں کی پلٹن دیں گے۔
وزیراعلیٰ اور وزرا چونکہ بااثر اور اعلیٰ ذات پات کے لوگ ہوتے ہیں، ان کے لئے مجھے بلٹ پروف اور بم پروف گاڑیوں کی کھیپ کی ضرورت ہے۔ میں نے ابھی مرکزی سرکار کو آگاہ کردیا ہے کہ نئے صوبے کےوزیر اعلیٰ اور وزیروں اور ان کے تعلیم یافتہ مشیروں کے لئے مجھے ڈیڑھ سو بلٹ پروف اور بم پروف گاڑیوں کی ضرورت پڑے گی۔ مجھےامید ہے کہ مرکزی سرکار نئے صوبے کی اشد ضرورت کو اہمیت دے گی۔ میں پرانے صوبے کی کانٹ چھانٹ کرنے کے بعد نیا صوبہ بنانےجارہے ہوں، کوئی مذاق کرنے نہیں جارہا۔ مانا کہ نئے صوبے کی کیبنٹ میں پچاس ساٹھ وزیر ہوں گے ۔ مگر یاد رہے کہ وہ سب اعلیٰ ذات پات کے اور اعلیٰ نسل کے ہوں گے۔ ان کو اپنی اپنی فیملی کے لئے دوچار بلٹ اور بم پروف گاڑیاں دینی پڑیں گی۔ اعلیٰ نسل کے ہونے کے ناطے وزیروں کی ایک سے زیادہ بیگمات ہوں گی ۔ ہوسکتا ہے کہ کسی وزیر کی دو یا چار بیگمات ہوں، ان کو گھومنے گھمانے اور شاپنگ کےلئے انفرادی بلٹ اور بم پروف گاڑیوں کو ضرورت پڑتی رہے گی ۔ اور پھر بچوں کے تعلیمی اداروں تک آنے جانے کے لئے گاڑیوں کی ضرورت پڑے گی۔
میں وزیروں اور ان کے اہل و عیال کےلئے گاڑیاں مانگ رہا ہوں، ان کے سیر سپاٹے کے لئے نہیں ۔ آؒخرکارکاٹ پیٹ کے بعد پرانے صوبے پر ایک نیا صوبہ بننے جارہا ہے آپ مداری کا کھیل نہیں دیکھنے جارہے۔ نئے صوبہ کا اجرا دیکھنے جارہے ہیں ۔ تاریخ لکھی جارہی ہے۔ یاد رہے کہ بیگمات ایک ساتھ رہنا گوارا نہیں کرتیں ۔ اور پھر صاحب اقتدار خود بھی ذہنی سکون کے لئے نہیں چاہتے کہ بیگمات ایک ساتھ رہیں۔ آپ میری بات سمجھ رہے ہیں نا؟ ایک ایک وزیر کو اپنی بیگمات کے لئے الگ الگ کوٹھیوں کی ضرورت پڑے گی۔ مرکزی سرکار کو عقابی نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ میں پیٹرول سے چلنے والی گاڑیاں مرکزی حکومت سے نہیں مانگ رہا ۔ معیشت کی حالت پتلی ہے ۔ میں مرکزی سرکار سے نئے صوبے کے وزرا کے لئے بجلی سے چلنے والی گاڑیاں مانگ رہا ہوں۔ نئے صوبوں کے لئے کاغذی کاروائیوں میں، میں نے واضح کردیا ہے کہ نئے صوبے کے لئے نئے وزرا کے لئے ہمیں کم سے کم تین سو کوٹھیوں اور ڈیڑھ دو سو بجلی سے چلنے والی بلٹ اور بم پروف گاڑیوں کی ضرورت پڑے گی۔
بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ چھوٹے بڑے وزرا کی کوٹھیاں یوں ہی ہوا میں نہیں چلتیں۔ ایک ایک کوٹھی کا کام چلانےکے لئے نئے صوبے میں ہمیں بے شمار نوکر چاکر اردلی باورچی خانسامہ مالیوں اور چوکیداروں کی لازمی ضرورت پڑے گی ۔ اس لحاظ سے نئے صوبے بننے سے روزگار کے نت نئے مواقع بھی بنیں گے۔ کوٹھیاں خالی خولی نہیں ہوتیں۔ کوٹھیوں میں بیگمات کی پسند کا فرنیچر ہوگا چھوٹی بڑی ملا کر ڈائننگ ٹیبلیں اور کرسیاں ہوں گی۔ اس نایاب کام کے لئے نئے صوبے میں اعلیٰ فرنیچر بنانے والے بیوپاری اور کاروباری لوگ میدان میں اتریں گے۔ فرنیچر برماٹیک لکڑی سے بنا ہوا ہوگا۔ یاد رہے ہر صوبے میں تھانے ہوں گے۔ ایس ایچ او صاحبان ہوں گے اور وہ لوگ بےشمار ہوں گے۔ عدالتیں ہوں گی۔ ایک صوبائی بڑی عدالت ہوگی جس کا کوئی جج صوبائی عدالت کا چیف جسٹس ہوگا۔ وہ جج صاحب نئی صوبائی حکومت کی پسند کا ہوگا۔
تمام ججوں کو باڈی گارڈز ، محافظ، خاص ڈرائیور، خاص گاڑیاں ملیں گی۔ ان کے اسپیشل چوکیدار ہوں گے۔ ان سب کو ہر ممکنہ خوف اور ڈر سے مکتی مل جائے گی ۔ ان کےبچے اور اہل و عیال حفاظت سے ہوں گے۔ اس لئے نئے صوبے میں آزادانہ عدالتی فیصلے ہوں گے ۔ نئے صوبے میں یہ تمام تر سہولیات ان کو جیتے جی اور مرنے کے بعد میسر ہوں گی یہ تمام باتیں میں نے اس لئے بیان کردی ہیں تاکہ مرکزی حکومت اپنے خزانے کے دروازے کھڑکیاں اور روشندان کھلے رکھے۔ نئے صوبے کو مالی اور اقتصادی لحاظ سے بھرپور اور بے فکر رکھنا ہے تاکہ وہ کھل کر عوام کی خدمت کرسکیں۔ نئے صوبے کےمزید لوازمات کی باتیں اگلی کتھا میں ہوں گی …جئے نیا صوبہ ، نئے صوبے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

