اسلام آباد : پاکستان کی وزارتِ اطلاعات اور نشریات کے مطابق ’پاکستان نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک کارروائی کے دوران پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں پاکستانی طالبان اور ان کے اتحادی دولتِ اسلامیہ خرسان سے وابستہ شدت پسندوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔‘
وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے ایکس پر جاری ایک تفصیلی بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان میں حالیہ خودکش دھماکوں کے واقعات کے بعد، جن میں اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں ایک ایک حملہ اور سنیچر کے روز بنوں میں ایک اور واقعہ شامل ہے، پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ دہشت گرد کارروائیاں شدت پسند اپنے افغانستان میں موجود قیادت اور سرپرستوں کے ایما پر انجام دے رہے ہیں۔‘
واضح رہے کہ ہفتے کے روز بنوں میں ایک خود کش حملے میں پاکستانی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل اور ایک سپاہی ہلاک ہوئے۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق 21 فروری کو سکیورٹی فورسز کے قافلے کو شدت پسند تنظیم ٹی ٹی پی نے بنوں ضلع میں اس وقت نشانہ بنایا جب شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن جاری تھا، جس میں ایک خودکش بمبار بھی شامل تھا۔
وزارت کی جانب سے جاری بیان میں افغانستان میں کارروائی سے متعلق مزید کہا گیا ہے کہ ’پاکستان میں ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان، ان کے ساتھی گروہوں اور دولتِ اسلامیہ خراسان صوبہ نے بھی قبول کی ہے۔‘
بیان کے مطابق ’پاکستان کی جانب سے بارہا افغان طالبان حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ قابلِ تصدیق اقدامات کرے تاکہ افغان سرزمین کو دہشت گرد گروہوں اور غیر ملکی پراکسی عناصر کے ہاتھوں پاکستان میں دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکا جا سکے، تاہم افغان طالبان حکومت ان کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔‘
پاکستان کی وزارتِ اطلاعات اور نشریات کے مطابق ’پاکستان ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے کوشاں رہا ہے، تاہم اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ اسی پس منظر میں پاکستان نے جوابی کارروائی کے طور پر انٹیلی جنس بنیادوں پر درستگی اور مہارت کے ساتھ، پاکستان افغانستان سرحدی علاقے میں پاکستانی طالبان اور ان کے اتحادیوں اور دولتِ اسلامیہ خراسان صوبہ کے سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔‘
ایکس پر جاری بیان کے آخر پر پاکستان حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’پاکستان عبوری افغان حکومت سے توقع کرتا ہے اور اپنے مطالبے کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور شدت پسندوں کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔‘
’پاکستان یہ بھی توقع کرتا ہے کہ بین الاقوامی برادری مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے اور طالبان حکومت پر زور دے کہ وہ دوحہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر قائم رہے اور اپنی سرزمین کو دیگر ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔‘
( بشکریہ : بی بی سی )
اتوار, ستمبر 20, 2026
تازہ خبریں:
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم
- کوہاٹ دھماکہ : شہداء کی تعداد 21 ہو گئی : 100 سے زیادہ زخمی
- اسامہ بن لادن کی تعریف پر طاہر اشرفی سے برطانوی اعزاز ایک ہفتے بعد واپس لے لیا گیا
- کوہاٹ: پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا، 16 افراد شہید، درجنوں زخمی
- مکہ پر حملہ ۔۔ پاکستان کو سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا پڑے گا : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ رہائی کے بعد دوسرے مقدمے میں گرفتار
- ماہرہ خان اور قوم کو مبارک ہو : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم

