صحافت کسی بھی معاشرے کی آنکھ، اس کا ضمیر اور اس کی فکری سمت متعین کرنے والی قوت ہوتی ہے دنیا بھر میں صحافت کو ایک مقدس ذمہ داری سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس کا کام صرف خبر دینا نہیں بلکہ معاشرے کو علم، شعور اور آگہی فراہم کرنا بھی ہے مگر افسوس کہ ہمارے ملک میں اس مقدس پیشے کا وقار مسلسل مجروح ہورہا ہے۔۔
یہ تلخ حقیقت ہے کہ یہاں صحافت کو سچائی اور تحقیق سے زیادہ ذاتی مفاد، کاروباری تحفظ اور تعلقات کے فروغ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ایسے افراد جنہوں نے کبھی صحافت کی تعلیم، تحقیق، یا اصولوں سے کوئی واسطہ نہیں رکھا، وہ آج اس شعبے پر مسلط دکھائی دیتے ہیں ان کی موجودگی نے صحافت کا اصل حسن دھندلا دیا ہے، اور علم و شعور جیسے بنیادی عناصر کو اس پیشے سے دور کر دیا ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں صحافی وہ ہوتا ہے جو ڈگری یافتہ، پڑھا لکھا، تحقیق سے آشنا اور پیشہ ورانہ تربیت سے لیس ہو مگر ہمارے ہاں صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔ کئی نام نہاد صحافی ایسے ہیں جو نہ تحقیق جانتے ہیں، نہ خبر کی تہہ تک پہنچنے کا ہنر، اور نہ ہی صحافت کے اخلاقی تقاضوں کی کوئی پرواہ کرتے ہیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے صحافت ایک باقاعدہ شعبہ نہیں بلکہ ہر اس شخص کا سہارا بن چکا ہے جو اپنے کاروبار، مفادات یا عزائم کو تحفظ دینا چاہے۔
المیہ یہ بھی ہے کہ کچھ ایسے عناصر، جو علم اور شعور سے نالاں ہیں، صحافت کا لبادہ اوڑھ کر اس عظیم ریاست کے ایک بنیادی ستون کو کمزور کر رہے ہیں یہ افراد نہ صرف خبر کو مسخ کرتے ہیں بلکہ معاشرتی شعور کو بھی زہر آلود کرتے ہیں اگر دیکھا جائے تو یہ قوم اور آنے والی نسلوں کے حقیقی مجرم ہیں علم کے قاتل اور شعور کے دشمن ہیں ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم صحافت کو اس کی اصل روح کے ساتھ زندہ کریں ایسے اقدامات کیے جائیں جو شعبے کو تعلیم یافتہ، تربیت یافتہ اور باخبر صحافی فراہم کریں ایسے لوگ جو تحقیق کی روایات کو سمجھتے ہوں اور سچائی کو امانت تصور کرتے ہوں جب تک صحافت کو مفاد کی منڈی سے نکال کر علم اور اصولوں کے راستے پر نہیں ڈالا جائے گا، تب تک نہ معاشرہ سنورے گا اور نہ ہی صحافت کا کھویا ہوا مقام واپس آسکے گا ۔صحافت کو بچانا درحقیقت قوم کی فکری بقا کو بچانا ہےاور یہ ذمہ داری ہم سب کی ہے۔
منگل, ستمبر 22, 2026
تازہ خبریں:
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم

