ملتان ۔۔ گردوپیش رپورٹ ۔۔رضی الدین رضی نام ور شاعر ، ماہر تعلیم اور نقاد پروفیسر ڈاکٹرا سلم انصاری کی پہلی برسی آج منائی جا رہی ہے ۔ ان کا منگل 22 اکتوبر کو 85 برس کی عمر میں گزشتہ سال ملتان میں انتقال ہوا تھا ۔۔
ڈاکٹر اسلم انصاری 30اپریل 1939ءکو بیرون پاک گیٹ ملتان کے علاقے بھیتی سرائے میں پیداہوئے۔ انہوں نے 1962ءمیں اورینٹل کالج لاہور سے اردو اور 1985ءمیں زکریایونیورسٹی سے فارسی میں ایم اے کیا۔1998ءمیں انہوں نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
وہ عمر بھرشعبہ تدریس سے وابستہ رہے اور لاہور ،بہاولپور، ملتان سمیت مختلف شہروں میں خدمات انجام دیں۔ڈاکٹر اسلم انصاری کی تصنیفات میں اردو اورفارسی کے پانچ شعری مجموعوں سمیت سرائیکی ناول ”بیڑی وچ دریا“ اور مختلف تنقیدی اورتحقیقی مضامین کے مجموعے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وفات سے کچھ عرصہ قبل ان کا فارسی کلیات بھی شائع ہوا تھا ۔ حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں تمغہ حسن کارکردگی اور تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا ۔وہ اس پہلے خواجہ فرید کی کافیوں کے ترجمے پرنیشنل بینک ایوارڈ اور اقبالیات پر اقبال ایوارڈ بھی حاصل کرچکے تھے ۔
ڈاکٹر اسلم انصاری کی نظم ” گوتم سے مکالمہ“ زبان زد عام ہے جبکہ ” میں نے روکا بھی نہیں اور وہ ٹھہرابھی نہیں “ سمیت ان کی بہت سی غزلیں اوراشعار ضرب المثل کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اتوار, نومبر 1, 2026
تازہ خبریں:
- فضل الرحمان : ریاست کی نوکری سے ریاست کے مدمقابل آنے تک : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- گوجرانوالہ: ولیمے کے روز دلہن کو قتل کرنے والا مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- نونی سیاست اور ’’ گستاخ ‘‘ تماشائیوں کا خطرہ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 10 ، 10 سال قید کی سزا : عدالت اڈیالہ جیل میں لگی
- اسرائیلی انتخابات میں عرب پارٹیوں کی کامیابی :کیا نیتن یاہو اقتدار بچا لیں گے ؟
- ہند یورپی زبانیں بولنے والوں کا آبائی وطن : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی سمیت چار افراد کے وارنٹ گرفتاری
- نیتن یاہو اکثریت حاصل نہ کرسکے ’’ حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ
- خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم

