محمود نظامی مرحوم انتہائی صاحب مطالعہ اور شاندار فہم و فراست کے مالک انسان تھے ، ان کی گفتگو عام فہم زبان میں ہوتی تھی ،لیکن اس میں بہت گہرائی اور دانش موجود ہوتی تھی اور وہ خاصی شگفتہ بھی ہوتی تھی ۔ سامعین بور بھی نہیں ہوتے تھے اور ان کی محفل سے بہت کچھ پلے باندھ کر بھی اٹھتے تھے ۔ موجودہ ملینیم کے پہلے سال کی بات ہے ،ایک شام ہم ڈیرہ غازی خان میں کیفے وقار پہ بیٹھے تھے ، مختلف بین الاقوامی فنڈز اور ان سے چلنے والے سرکاری اداروں اور این جی اوز کا ذکر ہو رہا تھا جو عام آدمی کی معاشی حالت سدھارنے کے لیے آسان شرائط پر قرضے دیتی ہیں اور ساتھ ہی ان کی تربیت کے لیے ورکشاپس کا انتظام بھی کرتی ہیں
۔
نظامی صاحب نے کہا یہ سب بین الاقوامی سرمایہ داری کے ٹولز ہیں ، انہوں نے پاکستانی سماج کا مطالعہ کیا ہے ، لوگوں کے رہن سہن اور خوردونوش کا مشاہدہ کیا ہے ۔ انہوں نے دیکھا ہے کہ ،ممدو،، پیاز کے ساتھ روٹی کھا رہا ہے، وہ پیاز کو چارپائی کے پائے پر مارتا ہے ، کچومر کو روٹی پر رکھتا ہے ، اس پر نمک چھڑکتا ہے اور کھا لیتا ہے ، اس عمل کے دوران ممدو دو انڈسٹریز کو بائی پاس کرتا ہے ، ایک چھری بنانے والی انڈسٹری اور دوسری پلیٹ بنانے والی انڈسٹری اور پھر وہ کھانا کھانے کے آداب سے بھی واقف نہیں ہے ، ان منصوبوں کے بعد یہ ہو گا کہ ممدو چھری اور پلیٹیں خریدے گا اور پیاز کو چھری سے کاٹ کر پلیٹ میں رکھے گا ، روٹی دوسری پلیٹ میں رکھے گا اور کھائے گا ، اس کی ٹیلی ویژن تک رسائی حاصل ہو گی جو اسے سکھائے گا کہ چاقو چھری اور پلیٹوں کا استعمال کیسے کرنا ہے ، لیکن ممدو کھاسی وسل ، یعنی ممدو کھائے گا پیاز ہی۔ مطلب یہ کہ ممدو یعنی عام آدمی بین الاقوامی سرمایہ داروں کا صارف یا کنزیومر بن جائے گا، بین الاقوامی مالیاتی ادارے اور ان کی فنڈڈ این جی اوز خدمت خلق نہیں کر رہیں بلکہ سرمایہ کاری کر رہی ہیں اور مستقبل کے صارف پیدا کر رہی ہیں۔۔
اور یہی ہو رہا ہے،پہلے ٹیلی ویژن اور اب سمارٹ فون عام آدمی کو مختلف اقسام کی روزمرہ استعمال کی اشیاء بہت خوبصورت اور گلیمرس انداز میں دکھاتے ہیں ، وہ بھاگ دوڑ کرتا ہے، محنت مزدوری کرتا ہے، قرض لیتا ہے اور کبھی کبھار چوری بھی کر لیتا ہے اور پھر یہ اشیاء یا کموڈٹیز خریدتا ہے ۔ اب وہ ان سرمایہ داروں کی مصنوعات کا پکا صارف بن چکا ہے ۔ میڈیا پر دکھائے جانے والے یہ تجارتی اشتہارات ہر طبقے اور ہر کلاس کو متاثر کرتے ہیں اور ہر عمر کو بھی ، بچوں کے لیے انواع اقسام کے چاکلیٹ کینڈیز بسکٹ آلو کے چپس اور جوسز ، خواتین کے لیے لباس زیورات اور سجنے سنورنے کے کیمیکل یعنی صابن شیمپو کنڈیشنر لپ اسٹک اور میک اپ کی دیگر درجنوں اشیاء۔۔۔۔۔۔ اور پھر ٹیلیویژن سوپ اوپیراز ہیں جو خواتین کو متعدد قسم کی تقریبات اور پارٹیوں سے متعارف کراتے ہیں ۔ شادیوں ، منہدیوں ، منگنیوں گود بھرائیوں اور خدا جانے کون کونسی تقریبات پر فضول اخراجات کرنا سکھاتے ہیں ۔
ان سب نے بیچاری لوئر مڈل کلاس کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔ اپر مڈل کلاس تو خیر یہ سب مینیج کر لیتی ہے اگرچہ وہ بھی کسی حد تک متاثر ہوئی ہے ، آپ نے دیکھا ہو گا کہ رشوت عام بھی ہو گئی ہے اور اس کے ریٹ بھی بڑھ گئے ہیں ۔ نچلے اور بالائی متوسط طبقے یعنی لوئر مڈل کلاس اور اپر مڈل کلاس کے درمیان بھی ایک طبقہ آتا ہے جسے آپ درمیانہ متوسط طبقہ کہہ سکتے ہیں جن کے وسائل اور آمدنی نچلے متوسط طبقے سے کچھ زیادہ ہیں، انہیں ایک اور لعنت نے شدید متاثر کیا ہے اور وہ ہے برانڈز ۔ برانڈز کے بارے میں آپ سب جانتے ہیں ، میں ان کے نام نہیں لوں گا ، کسی ڈر کی وجہ سے نہیں بلکہ مجھے زیادہ نام آتے نہیں ۔ لباس ، جوتے ، گھڑیاں ، ہینڈ بیگ ، جن کی قیمتیں دیکھی جائیں تو اپنی کوالٹی کے حساب سے دس بیس گنا منہگی ہو تی ہیں ، پھر برانڈڈ شاپنگ مالز ہیں اور حد یہ کہ برانڈڈ سکول بھی ہیں جہاں تعلیمی معیار سے کئی گنا زیادہ فیسیں لی جاتی ہیں ، ان کے برانڈ ناموں کی وجہ سے ۔
ایک ٹینشن اور اذیت سے پاک پر امن زندگی گزارنے کے لیے ہمیں ان کمپلیکسز سے باہر نکلنا ہو گا ، یہ ہماری معیشت کے دشمن تو ہیں ہی ، ہماری جسمانی ذہنی اور اخلاقی صحت کے بھی دشمن ہیں ۔ سادہ زندگی کی طرف لوٹنا ہو گا کیونکہ سادگی میں ہی سکھ ہے۔

