بہادری کی بڑی داستانیں سنیں، جوانمردی کے بہت قصے پڑھے مگر جو تاریخ بلوچستان کی بیٹی نے رقم کی ہے اُس کی مثال ملنا ممکن نہیں۔ موت آنکھوں کے سامنے ہو تو بندہ ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے، مگر سلام ہے اُس بلوچ لڑکی کو جس نے نامردوں کے گروہ سے زندگی کی بھیک مانگنے کی بجائے پوری آن اور آبرو کے ساتھ موت کو گلے لگانے کو ترجیح دی۔ یہ لڑکی جس کا نام بانو بتایا جا رہا ہے بلوچ قبائلی جرگے کی فرسودہ اور غیر اسلامی روایات کا شکار ہوئی۔ بانو اب اِس دنیا میں واپس نہیں آ سکتی مگر دو کام ایسے کیے جا سکتے ہیں جس کے بعد اِس ملک میں کوئی اور لڑکی اِس درندگی کا شکار نہیں ہوگی۔ درندگی لفظ یہاں کس قدر بے معنی لگ رہا ہے، درندے تو محاورتاً بدنام ہیں، اصل میں تو یہ انسان ہیں جنہوں نے اِس دنیا کو جہنم بنا رکھا ہے۔
پہلا کام ہے مجرمان کو سزا دینا، تادمِ تحریر گیارہ لوگ گرفتار ہو چکے ہیں جن میں قبائلی سردار بھی ہے۔ لیکن یہ کافی نہیں، یہ ایک ٹیسٹ کیس ہونا چاہیے، ہر وہ شخص جو جرگے میں بیٹھا، جس نے اِس قتل کے فیصلے میں حصہ لیا، اُس گاڑی کا ڈرائیور جس میں بیٹھ کر یہ تمام لوگ صحرا میں پہنچے، وہ شخص جس نے وہ اسلحہ بیچا جس سے قتل ہوا اور وہ تمام لوگ جو اِس بیہمانہ قتل کا جواز فراہم کر رہے ہیں اور حیلے بہانوں سے نام نہاد قبائلی روایات کا دفاع کر رہے ہیں، وہ سب اُس لڑکے اور لڑکی کے مشترکہ قاتل ہیں، اِن سب کو نہ صرف گرفتار ہونا چاہیے بلکہ اِن کے اثاثے منجمد ہونے چاہئیں، اِن کے بینک اکاؤنٹ بند ہونے چاہئیں اور اِن کے ساتھ ویسا ہی سلوک ہونا چاہیے جو ریاست کے دشمنوں کے ساتھ ہوتا ہے۔
یہ کام کرنے کے بعد اِن سب کی شکلیں اخبارات اور میڈیا میں دکھائی جائیں اور دن میں بیسیوں مرتبہ اشتہار چلا کر عوام کو بتایا جائے کہ یہ کون لوگ تھے، انہوں نے کس قدر گھناؤنا کام کیا اور اِن کے ساتھ ریاست نے کیا سلوک کیا۔
دوسرا کرنے کا کام یہ ہے کہ بانو کی ایک یادگار تعمیر کی جائے، نہایت عزت و تکریم کے ساتھ اُس کی دوبارہ تدفین کی جائے، بلوچستان میں اُس کے نام سے کوئی شاہراہ یا کوئی جگہ منسوب کی جائے۔ بے شک یہ سب کچھ کرنے کے باوجود بھی ہم اُن دونوں کو اِس دنیا میں واپس نہیں لا سکتے جو قبائلی جاہلیت کا شکار ہوئے مگر اِن اقدامات کے بعد یہ امید ضرور کی جا سکتی ہے کہ آئندہ کسی عورت کے ساتھ ایسی بربریت کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا۔ بظاہر میری وِش لِسٹ ناقابل عمل ہے مگر ایسی غیر حقیقی بھی نہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک نوجوان کافی متحرک ہیں، آر اے شہزاد نام ہے، ڈنمارک میں ہوتے ہیں، انہوں نے غیرت کے نام پر قتل کے ایک واقعے کا تذکرہ کیا ہے جو 2005 میں ڈنمارک میں ہوا، انٹرنیٹ پر اِس مقدمے کی تفصیل موجود ہے جو دل ہلا دینے والی ہے۔
یہ غزالہ کی کہانی ہے جو ڈنمارک میں ہوئی، ماں باپ کا تعلق پنجاب سے تھا مگر لڑکی یورپ میں پلی بڑھی۔ جوان ہوئی تو اُس نے پاکستانی نژاد ڈینش شہری ایمال خان سے شادی کا فیصلہ کیا۔ ایک تو لڑکا خاندان سے باہر کا تھا اور دوسرے لڑکی نے اپنی مرضی کرنے کی جرات کی تھی سو یہ بات والدین کی غیرت نے گوارا نہیں کی۔ غزالہ اور ایمال خان، دونوں عاقل و بالغ تھے سو انہوں نے شادی کر لی۔ غزالہ کے باپ غلام عباس نے بیٹی کا یہ گناہ معاف نہیں کیا، اُس نے بیٹے، بھائیوں، بہنوئیوں اور دیگر رشتہ داروں کے ساتھ مل کر اپنی بیٹی کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تاکہ خاندان میں اُس کی کھوئی ہوئی غیرت کا بحال ہو سکے۔ 23 ستمبر 2005 کو انہوں نے غزالہ اور اُس کے شوہر ایمال خان کو صلح کا جھانسا دے کر Slagelse اسٹیشن بلایا۔
غزالہ کو گمان تک نہیں تھا کہ اُس کا اپنا باپ اسے قتل کی نیت سے بلا رہا ہے، جب وہ اپنے شوہر کے ساتھ وہاں پہنچی تو اُس کے سگے بھائی اختر عباس نے پستول نکالا اور اپنی بہن کو گولیاں مار دیں، اٹھارہ سال کی غزالہ موقع پر ہی دم توڑ گئی، ایمال خان بھی زخمی ہوا مگر بچ گیا۔ پورے ڈنمارک میں گویا زلزلہ آ گیا، ڈینش عوام سکتے میں آ گئے، ہاہاکار مچ گئی۔ پولیس نے تفتیش شروع کی، چُن چُن کر مجرمان کو گرفتار کیا اور ایسا ٹھوس مقدمہ بنایا کہ ایک بھی مجرم بچ نہ سکے۔ عدالت میں مقدمہ چلا، گواہان پیش ہوئے، ہر گواہ کو جان و مال کے تحفظ کی یقین دہانی کروائی گئی اور یہ صرف زبانی کلامی نہیں بلکہ عملاً بھی ہوا، اِس پورے عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ ڈنمارک کی عدالت نے ایک ہی خاندان کے نو افراد کو قتل، سازش اور معاونت کے الزام میں سزا دی۔
ذرا سزاؤں کی تفصیل ملاحظہ ہو: والد غلام عباس کو قتل کا منصوبہ بنانے کے جرم میں عمر قید کی سزا، بڑے بھائی اختر عباس کو قتل کی واردات کے مرکزی مجرم کے طور پر عمر قید کی سزا، چچا اصغر علی کو 16 سال کی سزا اِس جرم کی پاداش میں ہوئی کہ اگرچہ اِس نے فائرنگ نہیں کی مگر قتل کی منصوبہ بندی میں شامل رہا اور خاندان کے دیگر افراد کو منظم کرنے میں فعال کردار ادا کیا، ماموں محمد گلزار کا جرم یہ ثابت ہوا کہ اُس نے غزالہ کو صلح کے بہانے اسٹیشن آنے پر راضی کیا اور یوں منصوبے میں عملاً شامل ہوا لہذا 16 سال قید حصے میں آئی، طارق محمود اِس خاندان کا دوست تھا جس نے قتل کے دن مجرموں کو اسٹیشن پہنچانے، فون کالز کے ذریعے ہدایات دینے اور واردات کے بعد واپسی کے انتظامات میں مدد دی لہذا معاونت ثابت ہوئی اور 16 سال کی جیل نصیب ہوئی، نعیم خان بھی عزیز تھا جو موقع واردات پر موجود تھا اور مجرموں کو معلومات اور سہولت فراہم کرتا رہا لہذا اسے 14 سال قید ملی، ڈرائیور غلام احمد جو قتل کی رات مجرمان کو گاڑی میں لے کر گیا اسے بھی 14 سال قید ہوئی، اظہر اقبال کزن تھا جو قتل کے وقت موجود تھا اور سہولت کار تھا اسے 14 سال سزا ہوئی، والدہ یاسمین عباس کو 16 سال سزا ہوئی کیونکہ اُس نے پورے منصوبے کی حمایت کی۔
یہ ہے وہ انصاف جو بلوچستان کی بانو کو ملنا چاہیے، اِس سے کم اگر کچھ ہوا تو اُس کی روح بلوچستان کے صحراؤں اور پہاڑوں میں بھٹکتی رہے گی اور ہم سے ہماری آنے والی نسلوں سے چیخ چیخ کر پوچھتی رہے گی کہ کیا پچیس کروڑ انسانوں کا ملک اِس قابل بھی نہیں تھا کہ گیارہ قاتلوں اور اُن کے سہولت کاروں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے پھینک سکے۔ اِن تمام مجرموں میں سے کسی کو بھی پھانسی نہیں دینی چاہیے کیونکہ موت سے انہیں مُکتی مِل جائے گی، اِن سب کو تا حیات کال کوٹھڑی میں رکھنا چاہیے تب شاید انہیں اُس بات کا احساس ہو کہ بے غیرت بانو نہیں بلکہ بے غیرت وہ تھے جنہوں نے ایک نہتی عورت پر گولیاں چلائیں۔
اگر بہادری کا کوئی نوبل انعام ہوتا تو بانو کے قدموں میں ہوتا۔
( : گردوپیش کے لیے بھیجا گیا کالم )
#BanoBravery #JusticeForBano #HonourKillingVictim #BanoDeservesNobel #StopHonourKillings #BraveBano #NobelForBano #VoiceForTheVoiceless #HonourKillingAwareness #WomensRights #بانوکیبہادری #بانوکینوبلایوارڈ #بانوانصافچاہیے #غیرتکےنامپرقاتل #خواتینکےحقوق #بانوکاشجاعتیاعزاز #غیرت_کے_نام_پر_قتل #بےآوازوںکیآواز #بانو_ہیرو_ہے #نوبل_برائے_بانو

