اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہےکہ جعفر ایکسپریس پر حملہ بھی بیرون ملک بیٹھی قیادت نے کروایا اور اس ٹرین دہشتگردی کے پیچھے بھارت ہے۔
دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان شفقت علی خان نے کہا کہ ہم نے ابھی جعفر ایکسپریس دہشتگردی پر ریسکیو آپریشن مکمل کیا ہے، جعفر ایکسپریس پر حملہ بھی بیرون ملک بیٹھی قیادت نے کروایا اور جعفر ایکسپریس ٹرین دہشتگردی کے پیچھے بھارت ہے۔
جعفر ایکسپریس کے یرغمالی مسافر بازیاب، 21 مسافر اور 4 جوان شہید، تمام 33 دہشتگرد ہلاک کردیے: ترجمان پاک فوج
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں حالیہ دہشتگردی میں ملوث دہشتگرد افغانستان میں اپنے ساتھیوں سے رابطے میں تھے، اس واقعہ کے دوران ٹریس شدہ کالز میں افغانستان سے رابطوں کا سراغ ملا ہے، دہشتگردوں کی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں ہیں، پاکستان بارہا افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کرتا چلا آیا ہےکہ بی ایل اے جیسے دہشتگرد گروپوں کو اپنی سرزمین کے استعمال سے روکے، پاکستان اپنی سرحدوں کے باہر سے پلان کی جانےوالی دہشتگردی کا شکار ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم سفارتی رابطوں کو اس طرح پبلک فورم پر بیان نہیں کرتے، ماضی میں بھی ہم ایسے واقعات کی مکمل تفصیلات افغانستان کے ساتھ شئیر کرتے رہے ہیں، یہ ایک مسلسل عمل ہے جو جاری رہتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان پر ہماری بنیادی ترجیح دوستانہ اور قریبی تعلقات کا فروغ ہے، اس سمت میں تعلقات کا تسلسل اہم ہے، دہشتگردی ہمارے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، ہمارے کئی دوستوں سے ہمارا انسداد دہشتگردی پر تعاون موجود ہے۔
(بشکریہ:جیونیوز)
منگل, ستمبر 22, 2026
تازہ خبریں:
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم

