Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
منگل, اکتوبر 6, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • دُکی سے اغوا ہونے والے 12 مزدوروں میں سے رحیم یار خان کا ایک مزدور قتل
  • پی ٹی آئی لانگ مارچ کی ’گورنر راج ‘کی طرف پیش قدمی :سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • ہر صوبے کے لیے ایمرجنسی یا گورنر راج کا جواز : نصرت جاوید کا کالم
  • ماں کہانی سنا ۔۔۔ رضی الدین رضی کی نظم
  • ایمان مزاری اور ہادی علی کیس کی سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی: ڈی ایس پی کی گرفتاری کا عندیہ
  • پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا پہلا روز، شرکا کا بنوں اور کرک کی سرحد پر پڑاؤ
  • غامدی صاحب کی تعبیرِ دین : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
  • سیاسی شہید بننے کی تمنا ، مفاہمت میں رکاوٹ ہے : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
  • قومی ایوارڈز اور ان کی ساکھ : اس بار تو حد ہی ہو گئی : سہیل وڑائچ کا کالم
  • اسرائیل کے ساتھ متحدہ عرب امارات کی گرم جوشی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » سید مجاہد علی کا تجزیہ : شہباز شریف کے مسائل اور بحران جاری رکھنے پر ’اتفاق‘
تازہ ترین

سید مجاہد علی کا تجزیہ : شہباز شریف کے مسائل اور بحران جاری رکھنے پر ’اتفاق‘

ایڈیٹرجنوری 6, 2025125 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
shahbaz-sharif girdopesh.com
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

ماضی میں بھی آصف زرداری اور پیپلز پارٹی کے قائدین یہ خواہش کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ بلاول بھٹو زرداری کو وزیراعظم بننا چاہیے ۔ پارٹی کی طرف سے بلاول بھٹو زرداری کو ایک اہل اور قابل قبول وزیر اعظم کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ یعنی کہ بلاول بھٹو زرداری کو شہباز شریف کے بہتر متبادل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی کا خیال ہے کہ اسٹبلشمنٹ کی ویسی ہی حمایت کی بدولت جو اس وقت شہباز شریف کو حاصل ہے، پیپلز پارٹی اور بلاول بھٹو زرداری بہت بہتر نتائج دے سکتے ہیں۔ اگر اس مؤقف کو تسلیم کر لیا جائے اور پیپلز پارٹی ایسی صورتحال پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائے جہاں شہباز شریف کی حکومت سیاسی طور سے تنہا اور مجبور ہو جائے تو اسٹیبلشمنٹ کو بھی یقیناً اس کی حمایت سے ہاتھ کھینچنا پڑے گا ۔ ایسے میں شاید اسے پیپلزپارٹی کو ایک موقع دینا پڑے ۔
لیکن اس صورت میں ضروری ہوگا کہ پیپلز پارٹی کے پاس مسلم لیگ (ن) کی طرح متبادل سیاسی و پارلیمانی حمایت موجود ہو ۔ اس بات کا امکان نہیں ہے کہ شہباز شریف کو اگرحکومت سے دستبردار ہونا پڑتا ہے یا انہیں عدم اعتماد کا سامنا ہوتا ہے ، تو وہ مجبور ہوکر آئیندہ حکومت سازی میں تو پیپلز پارٹی کی حمایت کریں گے۔ اور یہ اعلان کریں کہ ٹھیک ہے، اگر ہم نہیں تو آپ حکومت بنا لیں تاکہ تحریک انصاف کا راستہ رکا جا سکے ۔ اس لیے سوچنا چاہئے کہ ایسے تنازعہ میں پیپلز پارٹی کے پاس کیا آپشن ہوں گے۔ موجودہ حکومت کو دھمکیاں دیتے ہوئے پیپلز پارٹی کو خود بھی اس بارے میں حقیقت پسندانہ انداز میں سوچنا چاہیے۔ کیونکہ پیپلز پارٹی کے پاس ایک ہی آپشن ہوگاکہ وہ تحریک انصاف کے ساتھ کچھ ایسا تعاون استوار کر سکے جو ایک نئی حکومت کی بنیاد بن سکے ۔ شہباز شریف کو ہٹا کر ایک ایسی حکومت قائم ہو جس میں بلاول بھٹو زرداری وزیراعظم ہوں اور تحریک انصاف ان کی حمایت کر رہی ہو ۔ گزشتہ سال انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی، تحریک انصاف کے ساتھ ایسے تعاون کی خواہش ظاہر کرچکی تھی لیکن ناکام ہوئی تھی۔ اب بھی دونوں پارٹیوں کے درمیان قربت میں اضافہ نہیں ہؤا۔
اس کے علاوہ اس حقیقت کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ اسٹیبلشمنٹ تحریک انصاف کو کسی بھی قسم کی رعایت دینے پر آمادہ نہیں ہے۔ اس حوالے سے کافی واضح اشارے سامنے آ چکے ہیں کہ تحریک انصاف کو اس وقت تک کوئی رعایت نہیں دی جا سکتی جب تک وہ اپنے غلطیوں میں نادم نہ ہو۔ 9مئی اور 26نومبر کے حوالے سے وہ فوج کو مطعون کرنے کی بجائے خود اپنی غلطیوں کی ذمہ داری قبول کریں۔ تحریک انصاف اس معاملے میں کسی قسم کی لچک دکھانے پر تیار نہیں ہے۔ گزشتہ دنوں فوجی عدالتوں سے سزائیں پانے والے 19 افراد کو معافی دے کر رہا کیا گیاتھا۔ سانحہ 9مئی کے الزامات کے بعد سزا ملنے پر ان لوگوں کی معافی کے درخواست آرمی چیف نے قبول کی تھی۔ معافی ناموں میں ان لوگوں نے اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا اور مستقبل میں ایسی غلطی نہ دہرانے کا وعدہ کیا تھا ۔ لیکن رہائی کے بعد ان کا چیف منسٹر ہاؤس پشاور میں خیر مقدم کیا گیا ۔ وہاں انہوں نے وہی نعرے لگائے جو تحریک انصاف کے عام لیڈر لگاتے ہیں اور فوجی عدالتوں میں مقدمات کو مسترد کر دیا ۔ اس صورتحال میں تحریک انصاف خود اپنے سیاسی امکانات کم کرتی جا رہی ہے ۔
شاید اسی صورتحال کو سمجھتے ہوئے اب تحریک انصاف کے مذاکراتی وفد میں شامل اسد قیصر نے مطالبہ کیا ہے کہ جب تک اصل بااختیار لوگوں کا نمائندہ بات چیت میں شامل نہیں ہوگا تو ایسے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ فیصلہ سازی کااصل اختیار رکھنے والوں کی شمولیت کے بغیر بات چیت سے کیا حاصل ہوسکتا ہے؟ ظاہر ہے ان کا یہ اشارہ اسٹبلشمنٹ کی طرف ہے۔ تحریک انصاف پہلے بھی حکومت کی بجائے اسٹبلشمنٹ یا فوج کے ساتھ بات چیت پر اصرار کرتی رہی ہے لیکن فوج نے ایسی کسی درخواست کو قابل غور نہیں سمجھا تھا۔ اس کے بعد پی ٹی آئی نے اپنا رویہ نرم کیا تھا لیکن اب پارٹی ایک بار پھر پرانے مؤقف کی طرف لوٹنے کا اشارہ دے رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسد قیصرنے یہ انہونی شرط بھی رکھی ہے کہ مذاکرات کے دوران عمران خان سے کسی تعطل کے بغیر رابطہ رکھنے کی ضمانت دی جائے ورنہ یہ مذاکرات جاری نہیں رہ سکتے۔
حکومتی کمیٹی میں شامل سینیٹر عرفان صدیقی نے ان شرائط پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف نے طے شدہ طریقہ کے مطابق ابھی تک اپنے مطالبات تحریری طور سے پیش نہیں کیے۔ اب بات چیت کے لیے نئی شرائط سخت ہیں جن سے پورا مصالحتی عمل ہے خطرے میں پڑ سکتا ہے ۔ گو کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا انجام کیا ہوگا لیکن اس حوالے سے بداعتمادی کی موجودہ صورت حال کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بظاہر کوئی بھی فریق اعتماد سازی کے لیے ایک قدم آگے بڑھانے پر راضی نہیں ہے۔
ان حالات میں حکومت ہی نہیں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے لیے بھی امکانات محدود رہیں گے۔ سیاسی جماعتوں کو سمجھنا چاہئے کہ بحران جاری رکھنے سے نہ ملک کے مسائل حل ہوں گے اور نہ ہی سیاسی عمل کے لیے یہ خوش آئیند صورت حال ہوگی۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔۔ ناروے )

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

شہباز شریف
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleکیپ ٹاؤن ٹیسٹ : جنوبی افریقا کیخلاف دوسری اننگز میں پاکستان کے213 رنز ، 208 رنزکا خسارہ باقی
Next Article نام ور نظم گو شاعر اور دانش ور اقبال فہیم جوزی انتقال کر گئے
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم

ستمبر 8, 2026

18 سال کی عمر کے نوجوان”شرپسندوں ” کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کی خواہش : نصرت جاوید کا کالم

مئی 19, 2026

شدید بحران میں وزیر اعظم کی تسلیاں : سید مجاہد علی کا تجزیہ

اپریل 6, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • دُکی سے اغوا ہونے والے 12 مزدوروں میں سے رحیم یار خان کا ایک مزدور قتل اکتوبر 5, 2026
  • پی ٹی آئی لانگ مارچ کی ’گورنر راج ‘کی طرف پیش قدمی :سید مجاہد علی کا تجزیہ اکتوبر 5, 2026
  • ہر صوبے کے لیے ایمرجنسی یا گورنر راج کا جواز : نصرت جاوید کا کالم اکتوبر 5, 2026
  • ماں کہانی سنا ۔۔۔ رضی الدین رضی کی نظم اکتوبر 5, 2026
  • ایمان مزاری اور ہادی علی کیس کی سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی: ڈی ایس پی کی گرفتاری کا عندیہ اکتوبر 5, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.