ایران نے اسرائیل پر حملہ کردیا اور کئی بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران سے اسرائیل کی جانب کم از کم 102 میزائل فائر کئے گئے ہیں جس کے بعد مقبوضہ بیت المقدس میں سائرن بجنے لگے۔اسرائیلی فوج نے بتایاکہ ایران نے بیلسٹک میزائل داغے۔اسرائیلی فوج نے اپنے شہریوں کو تاحکم ثانی محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کردی ہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق تل ابیب اور شیرون میں راکٹ گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں تاہم اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔اسرائیلی میڈیا نے بتایاکہ اسرائیل کی فضائی حدود بند کردی گئی ہیں اور ہوائی اڈوں پر موجود تمام مسافروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔
دوسری جانب پاسداران انقلاب نے اسرائیل پر حملے کو حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ اور حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ پر حملے کابدلہ قرار دیا اور کہا کہ اسرائیل نے جوابی کارروائی کی تو دوبارہ نشانہ بنایاجائے گا،اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایک ایرانی اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ردعمل پر ایران کسی بھی جوابی کارروائی کیلئے پوری طرح تیار ہے۔
قبل ازیں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اسرائیلی حکومت اور امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ایران آئندہ چند گھنٹوں میں اسرائیل پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہے،اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینئل ہیگارے کا کہنا ہے کہ امریکا نے ممکنہ ایرانی حملے سے متعلق اسرائیل کو آگاہ کیا ہے، اسرائیل اپنے حلیف ممالک کے ہمراہ انتہائی چوکس ہے۔
(بشکریہ:جیونیوز)
منگل, اکتوبر 27, 2026
تازہ خبریں:
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم

