ملتان چونگی نمبر 14 کے قریب منظور آباد کے علاقہ میں واقع جامعہ خیر المدارس میں مبینہ خود کشی کی مزید تفصیلات معلوم ہوئی ہیں ۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والا 13 سالہ نوجوان عبدالقدیر ولد مراد کی خود کشی کے بعد تھانہ دہلی گیٹ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر کے لاش کو پوسٹمارٹم کیلئے نشتر ہسپتال منتقل کروا دیا ۔
مدرسے کے ایک طالبعلم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ خود کشی کرنے والا نوجوان کو والدین نے زبردستی مدرسے میں پڑھنے کیلئے داخل کروا رکھا تھا،نوجوان مدرسے میں پڑھنے کیلئے راضی نہیں تھا۔
گزشتہ منگل کے روز خود کشی کرنے نوجوان کو اس کے گھر والے چھٹی کے بعد مدرسے میں چھوڑنے آئے لیکن نوجوان بضد تھا کہ اسے مدرسے میں نہیں پڑھنا۔جمعرات کو صبح آٹھ بجے کے قریب نوجوان کی لاش مدرسے کے غسل خانوں کے ساتھ واقع ایک کمرے کی چھت کیساتھ لٹکی ہوئی پائی گئی۔پولیس تھانہ دہلی گیٹ کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق بھی معاملہ خود کشی کا ہی لگتا ہے۔تاہم پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں،مزید برآں پوسٹمارٹم رپورٹ آنے پر بھی اصل حقائق کا پتہ چلے گا۔
دوسری جانب جامعہ خیرالمدارس ملتان میں طالب علم کی خود کشی کے واقعے پر میڈیا نے چپ سادھ لی اور اس واقعے کے بارے میں کسی چینل سے کوئی خبر نہیں دی گئی ۔ خود کشی کرنے والے طالب علم کا تعلق چونکہ بلوچستان سے تھا اس لیے یہ خبر زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے ۔ ؑ
خیرالمدارس خود کشی کیس : بلوچستان کا قدیر نہیں پڑھنا چاہتا تھا ، والدین دوبارہ چھوڑ گئے ۔۔ میڈیا خاموش
ایڈیٹر63 Views

