Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
پیر, اکتوبر 12, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • ایمرجنسی کا نفاذ: قومی ضرورت یا جمہوریت کے لیے نیا امتحان؟ شہزاد عمران خان کا تجزیہ
  • خیبر پختون خوا میں وفاق کی حکمرانی : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
  • ریاض میں شاہ خالد ایئرپورٹ پر میزائل حملہ : متعدد افراد زخمی
  • پاکستان نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد پہلے ٹی ٹوئینٹی میں سری لنکا کو چار وکٹوں سے ہرا دیا
  • گورنر راج ، لانگ مارچ۔۔۔درمیانی راستہ؟ نصرت جاوید کا کالم
  • انٹرنیشنل مگر مچھ ایسوسی ایشن کا ہنگامی اجلاس : مگرمچھوں نے کیسے آنسو بہائے ؟ شہزاد عمران خان کا کالم
  • ریاض ایئر پورٹ پر میزائل حملہ : کئی ہوائی کمپنیوں نے پروازیں منسوخ کر دیں
  • نام ور بھارتی اداکار نانا پاٹیکر 75 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
  • ارجنٹائن کے میسی کا الوداعی میچ اور 10 نمبر شرٹ کا اعزاز : مہتاب حیدر تھہیم کا کالم
  • لانگ مارچ درہ آدم خیل پہنچ گیا، عمران خان کو شوکت خانم ہسپتال منتقل کیا جائے : سہیل آفریدی
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » مزدور رہنما کرامت علی کا انتقال: جب ملتان کے ایک طالبِ علم نے شہر بدر ہونے والوں کو پناہ دی : تحریر ضیاء الرحمان خان
تازہ ترین

مزدور رہنما کرامت علی کا انتقال: جب ملتان کے ایک طالبِ علم نے شہر بدر ہونے والوں کو پناہ دی : تحریر ضیاء الرحمان خان

ایڈیٹرجولائی 7, 202411 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
karamat ali labour leader
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

سن 1962 میں پاکستان کے فوجی مارشل لا ایوب خان کے خلاف ملک بھر میں تحریک چل رہی تھی۔ کراچی سے اسی تحریک میں شامل ہونے کی پاداش میں نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (این ایس ایف) نامی بائیں بازو کی طلبہ تنطیم کے 12 طلبہ رہنماؤں کو شہر بدر کر دیا گیا۔یہ طلبہ ملتان پہنچے جن میں معراج محمد خان، علی مختار رضوی، نفیس صدیقی، فتح یاب علی خان، باقر عسکری، جوہر حسین اور دیگر شامل تھے۔ان طلبہ رہنماؤں کو ملک کے کسی شہر میں بھی پناہ نہیں ملتی تھی اور ہر جگہ سے شہر بدری کا پروانہ مل جاتا تھا۔ ملتان سے بھی ضلعی انتظامیہ ان طلبہ رہنماؤں کو شہر سے نکالنے کی تیاریاں کر رہی تھی۔
ایسے میں ملتان کے ایک سرکاری کالج کے باہر ان طلبہ رہنماؤں کی ملاقات کرامت علی نامی ایک طالبِ علم سے ہوئی جو وہاں زیرِ تعلیم تھے۔ بعد ازاں کرامت علی نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر کراچی کے ان طلبہ رہنماؤں کو ملتان میں رہنے کی اجازت کے مطالبے کے لیے دھرنا دیا۔اس واقعے کا ذکر کرامت علی کی جدوجہد پر مبنی ‘راہ گزر تو دیکھو’ کے نام سے ایک کتاب میں کیا گیا ہے۔
یہ کتاب جامعہ کراچی کے پاکستان اسٹڈی سینٹر کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر سید جعفر احمد نے کرامت علی کے ساتھ کیے گئے تفصیلی انٹرویوز کی بنیاد پر لکھی ہے۔یہ کرامت علی کی پانچ دہائیوں سے زائد عرصے پر مبنی جدوجہد کی تھی جو ان کے انتقال تک جاری رہی۔ کرامت علی جمعرات کی صبح کراچی میں 78 سال کی عمر میں طویل علالت کے بعد وفات پا گئے۔وہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ اف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (پائلر) نامی غیر سرکاری ادارے کے بانی اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر بھی رہے ہیں۔
کرامت علی کے بھتیجے اور پائلر کے جوائنٹ ڈائریکٹر عباس حیدر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ کرامت علی کراچی کے نجی اسپتال میں کئی روز سے زیرِ علاج تھے۔
کرامت علی قیامِ پاکستان سے دو سال قبل پنجاب کے شہر ملتان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد فاریسٹ گارڈ اور ملتان کالونی ٹیکسٹائل ملز میں مزدور تھے۔ کرامت علی نے ملتان کے کالج سے 1962 میں انٹرمیڈیٹ کیا اور ساتھ ہی ساتھ ایک فیکٹری میں مزدوری بھی کرتے تھے۔
سن 1963 میں کرامت علی اپنی بڑی بہن کے ہمراہ کراچی منتقل ہو گئے جہاں وہ ایس ایم سائنس کالج میں داخلہ لے کر طلبہ سیاست میں فعال ہوئے اور پڑھائی کے ساتھ ساتھ مقامی فیکٹری میں مزدوری کرنے کی وجہ سے مزدور تحریک کے قریب ہوئے۔سینئر صحافی و تجزیہ کار توصیف احمد خان کرامت علی کو 1970 کے اوائل سے جانتے ہیں۔
وائس آف امریکہ سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کرامت علی نے نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن جیسی بائیں بازو کی طلبہ تنظیم سے اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا۔
توصیف احمد کہتے ہیں کہ جب ایوب خان نے ذوالفقار علی بھٹو کو وزیرِ خارجہ کے عہدے سے فارغ کیا تو گرومندر کے علاقے میں انہوں نے دیگر طلبہ کے ساتھ مل کر ذوالفقار علی بھٹو کے اعزاز میں ایک تقریب کا اہتمام کیا۔
باور خان 1972 میں کراچی میں چلنے والی مزدور تحریک کے ایک رہنما رہے ہیں۔وائس آف امریکہ سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت کے نام ور مزدور رہنماؤں عثمان بلوچ، کنیز فاطمہ اور شاہ رضا خان سمیت دیگر کے ساتھ ساتھ کرامت علی بھی اس تحریک میں پیش پیش تھے۔
باور خان کے بقول "کرامت علی دیگر مزدور رہنماؤں کے ہمراہ سائٹ انڈسٹریل ایریا کی مزور بستیوں پٹھان کالونی اور فرنٹیئر کالونی میں مزدور ڈیروں میں باقاعدگی سے آتے اور اُنہیں اپنے حقوق سے متعلق آگاہی دیتے۔”
کراچی میں مزدور اُمور کے ماہر اور تجزیہ کار منان باچا کا کہنا ہے کہ متحدہ لیبر محاذ نامی 1969 میں بننے والی تنظیم کے پلیٹ فارم سے کرامت علی اپنے ساتھیوں خصوصاً عثمان بلوچ کے ہمراہ باقاعدگی سے مزودر بستیوں میں آتے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ 1972 کی تحریک ختم ہونے کے بعد کئی برسوں تک چلتا رہا۔توصیف احمد خان کہتے ہیں کہ "این ایس ایف کا حصہ ہونے کی وجہ سے کرامت علی عابد علی سید، سلام بخاری اور واحبد بشیر کے ہمراہ کمیونسٹ پارٹی کے ایک دھڑے سے وابستہ ہوئے جو 1972 کی مزدور تحریک کے کافی قریب تھی۔”

( بشکریہ : وائس آفس ا مریکا )

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

مزدور رہنما ملتان
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleسید مجاہد علی کا تجزیہ : فوج کا ’سیاسی انتباہ‘ اور تحریک انصاف کا یوٹرن
Next Article نیر مصطفی کی یاد نگاری : ایک ننھے بلیک میلر کی سرگزشت
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

جنید حفیظ کیس کی چھے برس بعد پہلی باقاعدہ سماعت: جنید ’پُرامید مگر تنہا ہیں‘ : اہل خانہ

ستمبر 23, 2026

امی جان کے نام رضی الدین رضی کا ایک اور خط

اگست 30, 2026

ملتان ایئرپورٹ سے ایک دن میں 37 پروازوں کا نیا ریکارڈ

اگست 13, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • ایمرجنسی کا نفاذ: قومی ضرورت یا جمہوریت کے لیے نیا امتحان؟ شہزاد عمران خان کا تجزیہ اکتوبر 12, 2026
  • خیبر پختون خوا میں وفاق کی حکمرانی : سید مجاہدعلی کا تجزیہ اکتوبر 12, 2026
  • ریاض میں شاہ خالد ایئرپورٹ پر میزائل حملہ : متعدد افراد زخمی اکتوبر 11, 2026
  • پاکستان نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد پہلے ٹی ٹوئینٹی میں سری لنکا کو چار وکٹوں سے ہرا دیا اکتوبر 9, 2026
  • گورنر راج ، لانگ مارچ۔۔۔درمیانی راستہ؟ نصرت جاوید کا کالم اکتوبر 9, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.